ڈاکٹر شگفتہ خالد ی،سرینگر
جموں و کشمیر میں ہزاروں ڈیلی ویجرز اور کیجول لیبررز برسوں سے مستقل تقرری، تنخواہوں کی باقاعدہ ادائیگی اور سروس سکیورٹی کے انتظار میں ہیں۔ فاریسٹ، پی ایچ ای، پی ڈی ڈی (بجلی)، ایجوکیشن، آر اینڈ بی، ایگریکلچر، سوشل فارسٹ، اسکیم ورکرس، رہبرِ تعلیم، رہبرِ جنگلات اور متعدد دوسرے محکموں میں کام کرنے والے یہ افراد ایک ایسی جدوجہد میں مبتلا ہیں جو نسلوں پر محیط ہوتی جا رہی ہے۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کئی ڈیلی ویجرز نے تیس سے پینتیس سال تک خدمات انجام دینے کے باوجود آج بھی محض عارضی ملازمین کا درجہ ہی پا رکھا ہے۔
حکومتوں نے بارہا یقین دہانی کرائی، متعدد اعلانات کیے، کمیٹیاں بنائیں، فائلوں کا پہاڑ تیار کیا مگر حقیقت میں ان محنت کشوں کی قسمت کی تبدیلی کبھی زمین پر نظر نہیں آئی۔ آج بھی یہ ورکرز ناقص تنخواہ، غیر یقینی مستقبل اور مالی عدم استحکام کا شکار ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ اپنی زندگی کی بہترین عمر ریاستی ڈھانچے کو چلانے میں لگا دیتے ہیں، مگر جب بات مستقل کرنے کی آتی ہے تو ان پر خاموشی طاری ہو جاتی ہے۔فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کے گارڈز ہوں یا پی ایچ ای کے لائن مین، بجلی محکمے کے ہیلپر ہوں یا سکولوں میں کم تنخواہوں پر کام کرنے والے رہبرہر فرد کی کہانی ایک جیسی ہے: محنت بہت، عزت کم، اور مستقبل غیر واضح۔ بہت سے ڈیلی ویجرز خطرناک حالات میں کام کرتے ہیں، پہاڑوں میں گشت کرتے ہیں، بجلی کی لائنوں پر جان ہتھیلی پر رکھ کر فرائض انجام دیتے ہیں، برفباری اور سیلابی صورتحال میں سب سے آگے ہوتے ہیں، مگر پھر بھی انہیں وہ مقام نہیں مل سکا جس کے وہ حق دار ہیں۔جموں و کشمیر کی حکومت پر اکثر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ ڈیلی ویجرز کے مسئلے کو لیکر سنجیدہ نہیں۔ کئی مرتبہ احتجاج، ہڑتالیں، دھرنے اور میمورنڈم پیش کرنے کے باوجود ٹھوس پالیسی سامنے نہیں آتی۔ بجٹ میں بھی ان کے لیے واضح روڈ میپ شاذ و نادر شامل ہوتا ہے۔ ایک طرف حکومت پبلک سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے اور ترقی کی بات کرتی ہے، دوسری طرف انہی محنت کشوں کو بنیادی سروس سکیورٹی دینے میں ناکام دکھائی دیتی ہے جو اس نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔رہبر اسکیمز کے تحت کام کرنے والے اساتذہ اور دیگر ملازمین بھی سخت ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ کئی برسوں تک کم تنخواہ پر کام کرنے کے بعد بھی انہیں مستقل تقرری کے مراحل پیچیدہ اور دھیمے رفتار سے گزرنے پڑتے ہیں۔ اسی طرح پی ایچ ای اور بجلی محکمے کے ڈیلی ویجرز اکثر مہینوں تنخواہ سے محروم رہتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے گھروں کے چولہے بجھنے کے قریب آ جاتے ہیں۔یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ جب ایک انتظامیہ اپنے ہی محنت کشوں کی قدر نہیں کرتی تو پورا نظام متزلزل ہو جاتا ہے۔ اگر حکومت واقعی صورتحال کا تدارک چاہتی ہے تو اسے فوری طور پر شفاف پالیسی بنا کر تمام ڈیلی ویجرز کی سروس کو ریگولرائز کرنے، ادھوری تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنانے اور مستقبل کے لیے پائیدار نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاست کے ان گمنام محنت کشوں نے دہائیوں تک اپنے فرائض نبھائے ہیں، اب وقت ہے کہ حکومت بھی اپنا فرض نبھائے۔جموں و کشمیر کے ڈیلی ویجرز کا مطالبہ کوئی عیاشی نہیں بلکہ ایک جائز حق ہے۔ ان کا استحصال بند ہونا چاہیے۔ جب تک حکومت عملی قدم نہیں اٹھاتی، ان کا انتظار، ان کی مشکلات اور ان کی آواز اسی طرح گونجتی رہے گی۔