خورشید ریشی
موجودہ دور کو اگر ڈیجیٹل دور کہا جائے تو یہ کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے ہماری زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کیا ہے۔ جہاں ایک طرف اس نے معلومات تک رسائی کو آسان بنایا ہے، وہیں دوسری طرف اس نے ہمارے معاشرتی رویوں، اقدار اور ترجیحات کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔ انہی تبدیلیوں میں ایک اہم اور قابلِ غور پہلو ’’ڈیجیٹل لین دین ‘‘ہے، جو مالی معاملات سے نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر ہمارے باہمی برتاؤ اور ردعمل سے جڑا ہوا ہے۔
آج کے دور میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، انسٹاگرام اور ٹویٹر ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ہم یہاں اپنے خیالات، تصاویر، ویڈیوز اور معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پلیٹ فارمز پر ایک غیر صحت مند رجحان پروان چڑھ رہا ہے۔ لوگ کسی بھی پوسٹ کو اس کے مواد، معیار یا پیغام کی بنیاد پر نہیں دیکھتے بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ آیا اس شخص نے ان کی پوسٹ پر لائک، کمنٹ یا شیئر کیا ہے یا نہیں۔ اگر اس نے ایسا کیا ہو تو وہ بھی بدلے میں وہی ردعمل دیتے ہیں اور اگر نہ کیا ہو تو اس کی پوسٹ کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔یہ رویہ دراصل ایک قسم کا ’’ڈیجیٹل لین دین ‘‘بن چکا ہے، جہاں خلوص، سچائی اور معیار کے بجائے ذاتی مفادات اور بدلے کی سوچ غالب آ چکی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ معیاری اور بامقصد مواد پس منظر میں چلا جاتا ہے جبکہ غیر معیاری یا سطحی مواد محض تعلقات کی بنیاد پر مقبول ہو جاتا ہے۔ایسے حالات میں ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنے رویوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ ہمیں سوشل میڈیا پر کسی بھی مواد کو دیکھتے وقت یہ سوچنا چاہیے کہ یہ کتنا مفید ہے اور اس سے عام لوگوں کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ چاہے وہ تعلیمی موضوعات سے متعلق ہو، گھریلو مسائل کے حل پر مبنی ہو، یا معاشرے میں پھیلی برائیوں کے خلاف شعور اجاگر کرتا ہو—ہمیں اس کی افادیت کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
ہمیں ہرگز یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ پوسٹ کس نے اپلوڈ کی ہے، بلکہ ہمیں خود پوسٹ کے معیار، پیغام اور اثر کو اہمیت دینی چاہیے۔ اگر ہم اپنی ترجیحات کو بدل دیں اور ’’پوسٹ کرنے والے‘‘ کے بجائے ’’پوسٹ‘‘ کو اہمیت دینے لگیں، تو یقیناً ہمارے معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف ہماری سوچ میں پختگی آئے گی بلکہ ایک ایسا ماحول بھی پروان چڑھے گا جہاں علم، شعور اور مثبت سوچ کو فروغ ملے گا۔اس کے ساتھ ساتھ یہ رویہ نئے اور باصلاحیت افراد کے لیے بھی حوصلہ افزا ثابت ہوگا۔ جب ہم مفید اور معیاری مواد کو سراہیں گے، چاہے وہ کسی بھی شخص کی جانب سے کیوں نہ ہو، تو اس سے ایسے افراد کی حوصلہ افزائی ہوگی جو معاشرے میں بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ہم صرف ذاتی تعلقات کی بنیاد پر ردعمل دیتے رہے تو بہت سا حقیقی ٹیلنٹ دب کر رہ جائے گا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے، بشرطیکہ ہم اسے صحیح انداز میں استعمال کریں۔ اگر ہم نے اپنی ترجیحات کو درست کر لیا اور معیار کو اہمیت دینا شروع کر دی، تو سوشل میڈیا محض وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں رہے گا بلکہ علم، شعور اور اصلاح کا ایک مؤثر پلیٹ فارم بن جائے گا۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ’’ڈیجیٹل لین دین‘‘ کے اس رجحان کو بدلنا ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اگر ہم نے اپنی سوچ کو وسیع کیا، مواد کی افادیت کو ترجیح دی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر فیصلہ کیا، تو ہم نہ صرف اپنی ذات میں بہتری لا سکتے ہیں بلکہ پورے معاشرے کو ایک مثبت سمت دے سکتے ہیں۔ یہی وہ شعور ہے جو ہمیں ایک باشعور، مہذب اور ترقی یافتہ ڈیجیٹل معاشرہ بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
[email protected]