پولیس اہلکار زخمی ، 3جنگجو فرار،بھنگائی پونچھ میں آپریشن جاری، امام صاحب شوپیان میں مکان نذر آتش،محصور جنگجوؤں کی ہلاکت کا خدشہ
راجوری+شوپیان+اننت ناگ +بانڈی پورہ //راجوری اور پونچھ ضلع کے درمیانی علاقہ ’ڈھیرا کی گلی‘ جنگلات میں فوج اور جنگجوئوں کے مابین شروع ہوئی جھڑپ میںایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر سمیت 5اہلکار ہلاک جبکہ ایک اہلکار شدید طور پر زخمی ہوا۔مذکورہ مقام سے دو کلومیٹر دور پیر کی شام جنگجوئوں اور فوج کے درمیان دوبارہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا جو رات دیر گئے تک جاری تھا۔ادھر شوپیان، ویری ناگ اور حاجن میں 3مسلح معرکہ آرائیوں کے دوران2جنگجو جاں بحق جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔اس دوران 2افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ 3جنگجو فرار ہوئے۔رات دیر گئے شوپیان جھڑپ میں مکان کو نذر آتش کیا گیا، جس میں کم از کم 3جنگجو محصور تھے۔
پونچھ
پولیس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اتوار دیر شام ایک خفیہ اطلاع موصول ہوئی ،جس میں کہا گیا تھا کہ’ ڈھیرہ کی گلی‘ کے گھنے جنگلات میں ملی ٹینٹ موجود ہیں جس کے بعد فوج اور پولیس کی جانب سے وسیع پیمانے پر تلاشی مہم شروع کر دی گئی ۔انہوں نے بتایا کہ جن علاقوں کا محاصرہ کیا گیا ان کا کچھ حصہ سرنکوٹ کے چمرار گائوں میں آتا ہے جبکہ کچھ حصہ تھنہ منڈی سب ڈویژن کے بھنگائی علاقہ میں آتا ہے ۔یہ علاقہ مغل شاہراہ کے ساتھ ساتھ واقع ہے۔ پیر کی صبح فوج کی ایک پارٹی نے سرنکوٹ کی جانب سے علاقہ کا محاصر ہ کر کے تلاشی کا عمل شروع کیا تھا تاہم اس دوران جنگجوئوں نے گھات لگا کر ان پر حملہ کیا جس کے دوران گولیوں کا تبادلہ ہوا جس کے دوران آفیسر سمیت پانچ اہلکارشدید زخمی ہو گئے جن کو ایک نزدیکی ہسپتال منتقل کیا گیا ، لیکن وہ دم توڑ گئے۔فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ملی ٹینٹوں کیساتھ جھڑپ میںایک جے سی او سمیت 5اہلکار ہلاک ہوئے،جن کی شناخت نائب صوبیدار جسویندر سنگھ ساکن تلونڈی پنجاب ،نائیک مندیپ سنگھ ساکن گرداسپور ،سپاہی گگن سنگھ ساکن روپڑ پنجاب ،سپاہی سراج سنگھ ساکن شاہجہان پور اتر پردیش اور سپاہی ویسکھ ایچ ساکن کیرالہ کے طورپر ہوئی ہے ۔پولیس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ابتدائی جھڑپ چمرار کے گھنے جنگلات میں ہوئی جبکہ دوسری مرتبہ طرفین کے مابین بھنگائی گائوں میں گولیوں کا تبادلہ ہوا جو کہ ابتدائی جگہ سے دو کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کی مزید نفری کو علاقہ میں بھیج کر پورے علاقہ کا محاصرہ کرلیا گیا ہے ۔غور طلب ہے کہ مذکورہ انکائونٹر راجوری پونچھ کی تاریخ میں ایک بڑا واقعہ ہے جس کے دوران پانچ فوجی اہلکار ایک ہی وقت میں ہلاک ہوئے ہیں ۔
شوپیان
امام صاحب شوپیان کے ایک مضافاتی گائوں میں مسلح معرکہ آرائی رات دیر گئے شروع ہوئی۔۔پولیس نے بتایا کہ انہیں تلران نامی گائوں میں کم سے کم 3جنگجوئوں کی موجودگی کا علم ہوا جس کے فوراً بعد سہ پہر 4بجے 34آر آر اور سی آر پی ایف 178بٹالین کیساتھ مشترکہ طور پرتلاشی آپریشن شروع کیا گیا۔اس دوران رات کے قریب 8بجے فائرنگ کا مختصر تبادلہ ہوا جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے آپریشن مین وقفہ کیا اور اس دوران ڈی ایس پی امام صاحب نے محصور جنگجوئوں سے پبلک ایڈرس سسٹم کے ذریعہ ہتھیار ڈالنے کی بار بار اپیلیں کیں۔انہوں نے محصور جنگجوئوں کو مائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ ہتھیار ڈال کر چین کی زندگی بسر کریں اور اسکے لئے انہیں بھر پور موقعہ فراہم کیاجائیگا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگجوئوں کے نزدیکی رشتہ داروں اور گائوں کے کچھ معززین کی خدمات بھی حاصل کی گئیں لیکن جنگجوئوں نے فورسز پر فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا۔معلوم ہوا ہے کہ جنگجو جہانگیر تیلی کے مکان میں محصور تھے۔اور رات دیر گئے تک طرفین میں فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا۔
اننت ناگ
ویری ناگ میں شبانہ مسلح تصادم آرائی میں ایک عدم شناخت جنگجو جاں بحق جبکہ معرکہ آرائی کے دوران پولیس کا ایک جوان بھی زخمی ہوگیا۔پولیس نے اس کارروائی کے دوران 2افراد کو گرفتار کیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس واقعہ میں 3جنگجو فرار ہوگئے ہیں۔پولیس کے مطابق 19آر آر، سی آر پی ایف 164 بٹالین اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے دوران شب کھاہ گنڈ ویری ناگ گائوں میں داخل ہوکر 4جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع پر ایک مشتبہ مکان کے اردگرد ناکہ بندی کی اور بعد میں تلاشی کارروائی کا آغاز کیا۔سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے کو محاصرہ میں لے کر جنگجوئوں کے ممکنہ راستوں کو سیل کرکے وسیع آپریشن شروع کیا جو سوموار صبح 10 بجے تک جاری رہا۔اس دوران فورسز اہلکار رات کے تقریبا ً2 بجے جاوید احمد بٹ کے مکان میں داخل ہونے کی کوشش کی تو یہاں چھپے جنگجوئوں نے پولیس پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں طرفین کے مابین مختصر جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں ایک عدم شناخت جنگجو مارا گیا جبکہ جنگجوئوں کی فائرنگ سے ایس او جی اہلکار جاوید احمد بجاڈ زخمی ہوگیا ۔گولی پولیس اہلکار کے داہنے ہاتھ میں لگی اور اسے علاج معالجے کیلئے اسپتال میں داخل کیا گیا ۔پولیس کے مطابق تقریباً 4 جنگجو مکان میں چھپے تھے جس میں سے ایک موقع پر ہی ہلاک ہوا جبکہ 3 دیگر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ۔پولیس نے گائوں کے 2 نوجوانوں( مالک مکان) جاوید احمد بٹ ولد علی محمد بٹ اور اسکے ہمسایہ عرفان احمد بٹ کو گرفتار کیا ۔فورسز اہلکاروں نے تصادم آرائی کی جگہ سے 2 ہتھ گولے بر آمدکئے ۔پولیس نے معاملہ کی نسبت کیس زیر نمبر 116/21 درج کیا ہے۔
بانڈی پورہ
گنڈ جہانگیر سمبل میں فورسز کیساتھ تصادم آرائی میں ایک جنگجو جاں بحق ہوا۔پولیس نے بتایا کہ13آر آر کیساتھ مل کر پولیس نے گنڈ جہانگیر میں ایک جگہ چھاپہ ڈالنے کی کوشش کی لیکن یہاں موجود جنگجوئوں نے فورسز پر فائرنگ کی جس کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں امتیاز احمد ڈار ساکن شاہ گنڈ حاجن نامی جنگجو جاں بحق ہوا۔پولیس نے بتایا کہ یہاں دو یا تین جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔پولیس نے مزید بتایا کہ امتیاز احمد ڈار 8اکتوبر کو گھر سے لا پتہ ہوا تھا ۔ اسی روزسو مو سٹینڈ صدر محمد شفیع لون عرف سونو کی شاہ گنڈ کے قریب ہلاکت ہوئی تھی۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ پیر کی صبح6بجے گنڈ جہانگیر میںسوشل فارسٹری نرسری کے قریب فائرنگ ہوئی۔پولیس نے بتایا کہ امتیاز احمد ڈار مہلوک سومو سٹینڈ صدر کی ہلاکت میں ملوث تھا اور فرار تھا جبکہ اسکے 4ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ۔
پیر پنجال خطہ کے 4ماہ
۔ 7مقامات پر جھڑپیں،10 جنگجو، 8 فوجی ہلاک
سمت بھارگو
راجوری//گزشتہ 8ماہ سے سرحد پر فائر بندی ہونے کے دوران راجوری اور پونچھ اضلاع میں جنگجو سرگرمیوں میں بڑے پیمانے کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔گزشتہ 4ماہ کے دوران 7الگ الگ مقامات پر تصادم ہوئے جن میں 10 جنگجو اور 8 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ ان جھڑپوں میں سے تین لائن آف کنٹرول پر جبکہ دیگر چار اندرونی علاقاجات میں ہوئیں ۔کشمیر عظمیٰ کا پاس موجود ریکارڈ کے مطابق ان سات جھڑپوں میں سے پانچ راجوری اور دو پونچھ ضلع میں ہوئیںجبکہ گزشتہ روز شروع ہوئے تصادم کو ملا نے کے بعد تعداد آٹھ تک پہنچ گئی ہے ۔گزشتہ چار ماہ سے پیش آرہے واقعات میں سے پہلا واقعہ جولائی 8 کوراجوری ضلع کے سندربنی میں ہوا جس میں تین جنگجو ہلاک ہوئے جبکہ فوج کے دو اہلکار تصادم میں زخمی ہوئے تھے جو علاج کے دوران دم توڑگئے تھے۔دوسرا تصادم بھی 8 جولائی کے دن ہی سرحد پر راجوری کے نوشہرہ سیکٹر میں ہوا جہاں فوج نے جنگجو کے ایک گروپ کو درمدازی سے روکا اور فوج و جنگجو کے درمیان ہوئے تصادم میں ایک جنگجو ہلاک ہوا جسکی لاش کو تلاشی کاروائی کے دوران برآمد کیا گیا تھا۔اسکے علاوہ، اگست 06 کوراجوری ضلع کے تھنہ منڈی کے بھنگائی علاقہ میں تصادم کے دوران حفاظتی دستوں کیساتھ تصادم میں دو ملی ٹینٹ ہلاک ہ وگئے تھے جبکہ 9اگست کو تھنہ منڈی کے ہی کریوٹ علاقہ میں ہوئے تصادم کے دوران ایک فوجی اور ایک ملی ٹینٹ ہلاک ہو گئے تھے ۔پونچھ ضلع کے سرحدی علاقوں میں اس دوران دو تصادم ہوئے تھے جن میں سے پہلا تصادم 30اگست کو پونچھ سیکٹر میں حد متارکہ کے قریب ہوا تھا جس کے دوران 2ملی ٹینٹوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا ۔اسی طرح 4ستمبر کو پونچھ کے ہی کرشنا گھا ٹی سیکٹر میں درندزی کی کوشش کے دوران گولہ باری کا زبردست تبادلہ ہوا تھا جس کے دوران کچھ ملی ٹینٹوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہیں ۔12ستمبر کو منجا کوٹ تحصیل کے گھمبیر مغلاں علاقہ میں ہوئے تصادم کے دوران سیکورٹی فورسز نے 1ملی ٹینٹ کا ہلاک کر دیا تھا ۔
۔24گھنٹوں میں 3جھڑپیں
پولیس کی کامیابی کا ثبوت
دلباغ سنگھ
نیوز ڈیسک
سرینگر // پولیس کے ڈائریکٹر جنرل دلباغ سنگھ نے کہا ہے کہ گذشتہ24گھنٹوں کے دوران وادی میں 3مسلح تصادم آرائیاں ہوئیں ۔ انہوں نے کہا کہ ویری ناگ اور بانڈی پورہ کے حاجن علاقے میں دو جھڑپوں کے بعد پیر کی سہ پہر شوپیاں میں دو مقامات پر تلاشی آپریشن کیا گیا ۔ تلرن گائوں میں جنگجوئوں کیساتھ جھڑپ جاری ہے جبکہ کھیری پورہ میں بھی آپریشن کیا گیا اور یہاں بھی ممکنہ طور پر جنگجوئوں کیساتھ آمنا سامنا ہوگا۔پولیس سربراہ نے کہا کہ اتنے کم عرصے میں اس طرح کی کارروائیاں پولیس کی کامیابیاں ہیں جنہیں جاری رکھا جائیگا۔