ڈپٹی نذیر احمد کا عہد اصلاحی تحریکوں کا عہد تھا۔مسلمانوں کی مذہبی ، اخلاقی ،سماجی ،سیاسی اور تعلیمی زندگی میںجو خرابیاں پیدا ہوگئیں تھیں،ان کے خلاف ہندوستان میں کئی تحریکیں وجود میں آئیں۔1857کے واقعہ نے ہندوستان کے مسلمانوں کو جھنجوڑ کے رکھ دیا۔پہلی باران کو کسی تبدیلی کا احساس ہوا کہ مغل سلطنت ختم ہوگئی۔اب کو ئی دوسری قوت حکمران ہے۔اس دوسری قوت نے ظلم کی انتہا کی۔یوں تو انیسویں صدی شروع ہونے سے پہلے ہی ہندوستان کے مختلف علاقوں پر ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکمرانی کا پرچم لہرانے لگا۔1757کی جنگ پلاسی ایک فیصلہ کن جنگ تھی۔اس سے نہ صرف مرکز تک پیش قدمی کے لئے دروازے کھل گئے تھے بلکہ انگریزی حکومت کے تسلط کے حدود بھی وسیع ہوئے۔اس کی جڑیں مضبوط ہوئیں۔1764کی بکسر کی لڑائی رہا سہا بھرم بھی ختم کر دیا۔کمپنی اب ایک تجارتی ادارہ سے بڑھ کر سیاسی قوت بن گئی تھی۔اس نے اپنے سیاسی عزائم کو پورا کرنے کے لئے ہر طرح کی تدبیر اختیار کی یہاں تک کہ1803میں لارڈ لیک فاتحانہ شان سے دہلی میں داخل ہوگیا۔غرض سیاسی یلغار کے ساتھ مذہبی ، تہذیبی اور علمی و تعلیمی اثرات بھی مرتسم ہوتے جارہے تھے۔اس دور میںجہاں دوسرے لوگوں نے علم کے میدان میں عوام کی رہنمائی کی ،وہیں ڈپٹی (مولوی )نذیر احمدبھی پیچھے نہ رہے۔انھوں نے اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے لوگوں کو جدید تعلیم کے حصول پر زور دار طریقے سے ابھارا تاکہ اس ترقی یافتہ دور میں وہ پیچھے نہ رہیں۔
ڈپٹی نذیر احمد نے دہلی کالج سے تعلیمی فراغت حاصل کی تھی ۔ان کی وسعت نظر اور فراخ دلی نے مغربی طرز تعلیم کا خیر مقدم کیا۔اپنے طالب علمی کے زمانے ہی سے انھیں جدید تعلیم کی اہمیت کا احساس تھا۔وہ انگریزی تعلیم کے قدر شناس تو تھے لیکن کبھی اس سے مرعوب نہیں ہوئے۔ نذیر احمد اور سرسیّد کے تعلیمی نظریات میں شروع ہی سے ہم آہنگی دکھائی دیتی ہے۔ڈپٹی نذیر احمدزمانہ ملازمت میں سرسید سے متعارف ہوئے اور تا دم مرگ سرسید کے رفقائے کار میں شامل رہے۔اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ وہ سرسید سے براہ راست متاثر نہیں تھے۔"تصنیف و تالیف کی تحریک بڑی حد تک محکمہ تعلیم کی ملازمت کی وجہ سے ہوئی اور روا داری اور عام بے تعصبی کا میلان دہلی کالج کے ماحول اور تربیت کا نتیجہ تھا"۔بدرالنساء شہاب نذیر احمد کے تعلیمی نظریات کے متعلق رقم طراز ہیں : "تعلیم سے متعلق مولاناکے نظریات نہ تورجعت پسندانہ ہیں اور نہ انتہا پسند ہیں۔اپنی قدامت پسندی اور مذہبیت کے باوجود ایسی تعلیم کو پسند کرتے ہیں جس سے نئی قدروں کے سمجھنے اور ان کو خوش اسلوبی سے برتنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔"
(بدرالنساء شہاب،ڈپٹی نذیر احمد کے ناولوں میں سماجی اقدار،ص:94)
جدید تعلیم اور اس کی اشاعت سے متعلق نذیر احمد اور علی گڑھ تحریک کے دوسرے رہنماؤں کے درمیان ایک دلچسپ اختلاف بھی تھا جو نظری ہی نہیں عملی بھی تھا۔ وہ یہ کہ علی گڑھ تحریک کے لوگ سارا زور اس بات پر دیتے رہے کہ پہلے علی گڑھ میں ایم اے او کالج کو مضبوط کیا جائے پھر ملک کے مختلف حصوں میںکالج یا اسکول کھولے جائیں مگر نذیر احمد اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے تھے۔جب کبھی کسی جماعت نے کسی علاقے میں کالج یا اسکول قائم کرنے کی کوشش کی تو علی گڑھ تحریک کے مرکزی رہنماؤں نے اس کو ایک حریفانہ اقدام تصور کیا اور اس کی مخالفت کی لیکن نذیر احمدنے سرسید اور ان کے رفقاء کے خیالوں کے بر عکس ایسے تعلیمی اداروں کی کھل کر حمایت کی جو اس وقت شمالی ہند کے مختلف صوبوں میں قائم ہورہے تھے جن میں انجمن حمایت اسلام لاہور اور مدرسہ طبیہ دہلی کالج خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔سرسید اس بات پر بضد تھے کہ قوم یکسو ہو کر تمام وسائل کو بروئے کار لاکر ان کے قائم کردہ ایم اے او کالج کو ترقی کی بلندیوں تک پہنچا کر معیاری تعلیم کا بندوبست کریں نہ کہ مختلف جگہوں پر چھوٹے چھوٹے ادارے قائم کر کے اپنے وسائل ضائع کریں۔جو لوگ سرسید کے اس خیال کے مخالف تھے ،افتخار احمد صدیقی ان کے بارے میں لکھتے ہیں : "سرسید کی عینیت کے مقابلے میں ان حقیقت پسندوں کا نقطہ نظر یہ تھا کہ علی گڑھ میں نئی روشنی کا جو منارہ بلند تعمیر ہو رہا ہے ،اس کی تکمیل کے لئے تو ایک مدت دراز درکار ہے۔اس وقت تک ہم اپنے گھروں کو چھوٹے چھوٹے چراغوں کے اجالے سے کیوں محروم رکھیں"۔( افتخار احمد صدیقی ،مولوی نذیر احمد احوال و آثار ،ص: 85)
ڈپٹی نذیر احمد مسلمانوں کو عروج کا زمانہ یاد دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ نہ صرف ہماری ملک گیری حیرت انگیز ہے بلکہ مسلمان علم کے معاملے میں بھی حریص تھے کہ جہاں اور جس جگہ انھیں کچھ علم ہاتھ آتا تھا،اسے حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔وہ مسلمانوں کو عربی کا ایک شعر سنا کر جدید تعلیم کے حصول پر یوں ابھارتے ہیں :
ان الفتٰی من یقول ھا انا ذا
لیس الفتٰی من یقول کان ابی
(مرد وہ ہے جو کہے میری ذات میں یہ ہنر ہے۔وہ مرد نہیں ہے جو باپ پر فخر کرے)
محمڈن ایجو کیشنل کانگریس کے تیسرے سالانہ جلسے لاہور میں تقریر کرتے ہوئے مسلمانوں کو جدید تعلیم کے حصول پر یوں ابھارتے ہیں:"ملکی فتوحات کے ذریعے سے انگریز ہم کو اسی قدرمطیع کر سکتے ہیں ،اس سے زیادہ ایک انچ بھی زیادہ نہیں کہ طوعاً کرھاً ہم ان کو خراج دیں،لیکن سائینٹفک فتوحات کے ذریعے سے انھوں نے یہاں تک ہم کو اپنے بس میں کر لیا کہ وہ کپڑا بنیں توہم پہنیں ،وہ ریل چلائیں تو ہم کانگریس میں آئیں ،وہ تار دیں تو ہم کو خبریں ملیں"۔(نذیر احمد،لکچروں کا مجموعہ اول ،ص :51)
ان کے نزدیک سائنس کا وجود دنیا میں اس وقت سے ہے جب سے دنیا عدم سے ہستی میں آئی اور سائنس کے بغیر انسان کا زندہ رہنا نا ممکن ہے کیو نکہ چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کی چیز بھی سائنس کی ایجاد ہے اور دنیا کی کامیابی سائنس کی تعلیم کے بغیر نا ممکن ہے۔ یورپ کی ترقی کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے سولھویں سالانہ جلسہ بمقام رام پور 1900ء میں تقریر کرتے ہوئے لوگوں سے کہتے ہیں :''ہو نہ ہو یہ ترقی ،یہ عروج جو اہل یورپ کو ہے ،سائنس کی تعلیم کا نتیجہ ہے جو یورپ میں تکمیل کے ساتھ دی جا رہی ہے اور گورنمنٹ نے کمال فیاضی سے اس کی ابجد نیٹوز کو پڑھانی شروع کی۔مسلمان ہیں جو اب تک اس جدید تعلیم کی طرف سے پس و پیش میں پڑے ہیں۔پس اس کو تو خدا کی طرف سے فیصل شدہ سمجھو کہ دنیاوی بہبود و فلاح تو بدون سائنس کی تعلیم کے ہونی نہیں مگر سائنس کے خزانے انگریزی کے صندوقوں میں بند ہیں۔پہلے ان صندوقو ں کا کھولنا سیکھو تب خزانے کو ہاتھ لگاؤ۔"(لکچروں کا مجموعہ ،ص:403)
وہ چاہتے تھے کہ برٹش حکومت انگر یزی تعلیم کو مسلمانوں کیلئے قانوناً لازمی قرار دیں مگر جب انھوں نے حکومت کو اس کیلئے آمادہ نہیں پایا تو زور دار الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا:"کیوں جی ،اگر ہمارے دل کانگریس والوں کے سے ہوں تو کیا ہم شبہ نہیں کرسکتے کہ گونمنٹ جو تعلیم ضروری نہیں کرتی ،اس کی اصل وجہ مذہبی interference سے بچنا نہیں ، بلکہ اصلی وجہ یہی ہے کہ گورنمنٹ ڈرتی ہے کہ کہیں ہندوستانی تعلیم پا کربرابری اورہمسری نہ کرنے لگیں۔ (اشفاقاحمدعارفی، سرسید اورناموررفقاء،مرتب ڈاکٹرمظہرمہدی ،ص128) ۔ انھوں نے مغربی ممالک کی ترقی کو سائنسی علوم و فنون اور سائنسی ایجادات و انکشافات پر محمول کیا۔ان کا کہنا ہے اللہ نے مسلمانوں کو زمین و آسمانوں پرحکومت کرنے کے لئے بھیجاہے۔سلطنت کو حاصل کرنے والے ذرائع سب کے سب سائنس کے پاس ہے اور سائنس پر یورپ کا قبضہ ہے۔(لکچروں کا مجموعہ :482)اسی لئے انھوں نے ہندوستان کے لئے بھی اسی قسم کی تعلیم کی ضرورت کو محسوس کیا۔جب انھوں نے جدید علوم و فنون کے رول کو دیکھا تو انھیں روائتی نظام تعلیم بے کار نظر آنے لگا جس کی وجہ سے انھوں نے اس نظام تعلیم پر سخت تنقید کی ،اس کو ترک کرنے کا مشورہ دیا۔(مظہر مہدی ،مسلم معاشرے کی تشکیل نو،ص:32) وہ اس وقت کے رائج نصاب تعلیم کو ہدف تنقید بناتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ نصاب تعلیم ا س وقت کا ہے جب مسلمانوں کے عروج کا زمانہ تھا۔ان کے مطابق جو علم دینی یا دنیوی لحاظ سے ہمارے لئے فائدہ مند نہ ہو اس کا ہونا یا نہ ہونا ایک ہی بات ہے۔
مولوی(ڈپٹی) نذیر احمدنے اپنی تصنیف "الحقوق والفرائض " جلد دوم میں تعلیم کے عنوان سے ایک باب باندھا ہے جس میں انھوں نے قرآن کی آیات واحادیث کو پیش کر کے تعلیم کی اہمیت کو واضح کرنے کی کوشش کی۔وہ ترمذی سے ایک حدیث کو یوں نقل کرتے ہیں:"حضرت ابو ہریرہؓسے روایت ہے کہ جناب پیغمبر خدا ؐ نے فرمایا کہ علم و دانش کی بات دانشمندی کی گمشدہ میراث ہے تو وہ اس بات کو جہاں پائے اس کے لینے کا وہی زیادہ مستحق ہے۔"(نذیر احمد ،الحقوق والفرائض،دوم ،ص: 88)
وہ علم کو بڑی طاقت اور برکت قرار دیتے ہیں اور اسی علم نے ہی قوموں کے عزت و ذلت اورعروج و زوال کے فیصلے کئے ہیں اور مستقبل میں بھی کرے گا۔وہ لکھتے ہیں کہ جب مسلمانوں کا زوال شروع ہوا تو یورپ کی قسمت پیدا ہوئی کہ انھوں نے علم کی وسعت اور طاقت کو معلوم کر کے اس کا دامن مضبوطی سے پکڑا جس کے نتیجے میں وہ ہر طرف چھا گئے۔ وہ مسلمانوں سے گلہ کرتے ہیں کہ وہ عیش پرستی اور مذہبی غلط فہمی کی وجہ سے علم سے دور رہے اور تفریق دین و دنیا کے قائل رہے۔حقیقت میں دین کوئی اجنبی چیز نہیں ہے بلکہ یہ دنیا میںزندگی گزارنے کا ایک دستور العمل ہے۔(الحقوق والفرائض دوم،ص:91)
(مضمون جاری ہے ،اگلی قسط انشاء اللہ اگلی منگلوار کو شائع کی جائے گی)
�����������