عظمیٰ نیوزسروس
جموں//جموں و کشمیر اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) نے چیف اکاؤنٹس آفیسر ظفر اقبال ولد میر حسین، ساکن گورسائی، منڈی، پونچھ، حال مقیم بٹھنڈی جموں، اور موجودہ تعیناتی دفتر پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ، جموں و کشمیر، سری نگر کے خلاف غیر متناسب اثاثہ جات کا مقدمہ درج کیا ہے۔
یہ مقدمہ اے سی بی کی جانب سے خفیہ جانچ کے بعد درج کیا گیا، جس میں یہ الزامات سامنے آئے کہ مذکورہ سرکاری افسر نے اپنی معلوم آمدنی سے کہیں زیادہ مالیت کے اثاثے جمع کیے ہیں۔ جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ مختلف تعیناتیوں کے دوران ملزم نے مبینہ طور پر اپنے سرکاری عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کروڑوں روپے مالیت کی جائیدادیں اپنے، اپنے اہل خانہ اور رشتہ داروں کے نام پر حاصل کیں۔جانچ کی بنیاد پر ملزم کے خلاف ابتدائی طور پر مجرمانہ بدعنوانی کا معاملہ ثابت ہوا۔ اُس وقت وہ ٹریژری آفیسر گاندھی نگر جموں کے طور پر تعینات تھا جبکہ فی الحال چیف اکاؤنٹس آفیسر، دفتر پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ سری نگر میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ چنانچہ پولیس اسٹیشن اے سی بی سینٹرل جموں میں ایف آئی آر نمبر 06/2026رج کی گئی، جس میں انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1988کی دفعہ 13(1)(b) اور دفعہ 13(2) کے تحت مقدمہ قائم کر کے تحقیقات شروع کی گئیں۔تحقیقات کے دوران اے سی بی نے خصوصی جج انسدادِ بدعنوانی جموں کی عدالت سے تلاشی وارنٹ حاصل کیے، جس کے بعد اے سی بی ٹیموں نے ملزم کی رہائش گاہوں بٹھنڈی جموں، گورسائی منڈی پونچھ اور سرکاری رہائش گاہ صنعت نگر سری نگر میں چھاپے مارے۔تلاشی کے دوران منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں سے متعلق اہم دستاویزات برآمد کر کے ضبط کیے گئے۔ مقدمے کی مزید تحقیقات جاری ہے۔