شاہد حسین
کشمیر ہمیشہ صرف ایک خطہ نہیں رہا، یہ ایک کیفیت ہے۔ یہاں کی فضا، یہاں کی خاموشی اور یہاں کی سردیاں انسان کے اندر اتر جاتی ہیں۔ کشمیر کی سردیاں کبھی محض سردی کا موسم نہیں تھیں بلکہ ایک مکمل تہذیب، ایک طرِز احساس اور ایک اجتماعی تجربہ ہوا کرتی تھیں۔ مگر آج جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ تب کی سردیاں اور اب کی سردیاں صرف وقت کے فاصلےپر نہیں بلکہ احساس کے فرق پر کھڑی ہیں۔پہلے سردیوں کی آمد ایک باقاعدہ عمل تھی۔ جیسے ہی دن چھوٹے ہونے لگتے، لوگ ذہنی طور پر تیار ہو جاتے۔ گھروں میں لکڑیاں جمع کی جاتیں، کانگڑیاں صاف کی جاتیں اور سوکھے ہوئے ساگ اور سبزیاں دیواروں پر لٹکا دی جاتیں۔ یہ تیاری صرف جسم کے لئے نہیںہوتی تھی بلکہ دل کے لئے بھی ہوتی تھی۔ انسان جانتا تھا کہ اب وقت ٹھہرے گا، رفتار کم ہوگی اور زندگی کچھ دیر کے لیے خاموش ہوجائے گی۔صبحیں دُھند میں لپٹی ہوتیں، درخت ننگے مگر باوقار نظر آتے اور شامیں جلدی اتر آتیں۔ سورج بھی جیسے آہستہ آہستہ چلتا تھا، تاکہ کشمیر کی سردیوں کا وقار مجروح نہ ہو۔تب برف صرف آسمان سے نہیں گرتی تھی، زمین سے رشتہ جوڑتی تھی۔ ایک بار برف پڑتی تو ہفتوں تک رہتی۔ چھتیں، گلیاں، کھیت،سب سفید خاموشی میں ڈوب جاتے۔ یہ خاموشی خوفناک نہیں ہوتی تھی بلکہ روح کو سکون دینے والی ہوتی تھی۔ ندی نالےبچوں کے لیے برف کسی خواب سے کم نہیں تھی۔ اسکول بند ہونا محض چھٹی نہیں بلکہ خوشی کا تہوار ہوتا تھا۔ برف کے گولے، پھسلن،قہقہے اور ٹھنڈی ہوا میں گونجتی ہنسی یہ سب کشمیر کی سردیوں کی اصل تصویر تھے۔گھروں کی گرمی، دلوں کی روشنی ،سہولتیں کم تھیں مگر اپنائیت بے مثال۔ بجلی اکثر غائب رہتی تھی، مگر اندھیرے میں بھی روشنی ہوتی تھی۔ شمعیں، لل ٹینیں اور آگ کےگرد بیٹھے لوگ گفتگو، یادیں اور دعائیں سب ایک ساتھ چلتی تھیں۔ بزرگ قصے سناتے، بچے سنتے اور وقت کا احساس مٹ جاتا۔دوپہر کی نمکین چائے، گرم روٹیاں اور سادہ کھانے وہ ذائقے تھے جو آج بھی یادوں میں تازہ ہیں۔ سردی جسم کو ضرور جماتی تھی، مگردلوں کو قریب لے آتی تھی۔
آج کی سردیاں بےیقینی کی عالمیت بن چکی ہیں۔ کبھی برف وقت پر نہیں آتی، کبھی آ کر ٹھہرنے سے انکار کر دیتی ہے۔ جہاں پہلے برف کا راج تھا، وہاں اب بارش غالب آتی جا رہی ہے۔ یہ صرف موسمی تبدیلی نہیں، ایک گہرا انتباہ ہے۔گلیشیئر سکڑ رہے ہیں، پانی کے ذخائر خطرے میں ہیں اور فطرت کا توازن بگڑ رہا ہے۔ بزرگوں کی باتیں اب محض یادیں نہیں رہیں، وہ سچ ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔آج گھروں میں جدید ہیٹر ہیں، مگر بیٹھکیں خالی ہیں۔ کانگری کی جگہ مشین نے لے لی ہے اور گفتگو کی جگہ اسکرین نے۔ سرد راتیںاب کہانیوں کے بجائے نوٹیفکیشنز میں گزر جاتی ہیں۔ بچے اب برف کو ہاتھوں سے چھونے کے بجائے کیمروں میں قید کرتے ہیں۔ مگر دلوں کو گرم رکھنا بھول گئے ہیں۔ سردیاں اب ہمیں قریب نہیںلاتیں، ہم نے جسم کو گرم کرنے کے بہت سے طریقے سیکھ لئے ہیں۔
انسان اور فطرت کا بگڑتا رشتہ: اصل فرق موسم سے زیادہ ہمارے رویّے میں ہے۔ ہم نے فطرت سے ہم آہنگ ہونا چھوڑ دیا ہے۔ ہم نے سردیوں کو سہنے کے بجائے ان سے بچنا سیکھ لیا ہے۔ شاید اسی لئے فطرت بھی ہم سے فاصلہ اختیار کر رہی ہے۔پہلے سردیاں ہمیں صبر سکھاتی تھیں، آج وہ ہمیں بےچینی دے رہی ہیں۔ پہلے خاموشی عبادت لگتی تھی، آج وہ بوجھ محسوس ہوتی ہے۔امید کی سفید دستک پھر بھی، کشمیر کی سردیاں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔ آج بھی جب پہلی برف گرتی ہے، دل ایک لمحے کے لئے ٹھہر جاتا ہے۔ یادیں جاگ اُٹھتی ہیں، جینا سکھا دیتی ہیں، ساتھ میں رہنا اور فطرت کا احترام کرنا یاد دلاتی ہیں، آنکھیں بھیگ جاتی ہیں اور امید پیدا ہوتی ہے کہ شاید ہم پھر سے سیکھ جائیں فطرت کا احترام کرنا۔تب کی سردیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ سکون سہولت میں نہیں، تعلق میں ہے اور اب کی سردیاں ہمیں خبردار کرتی ہیں کہ اگر ہم نے خودکو نہ بدلا تو شاید آنے والی نسلیں برف کو صرف کہانیوں میں پڑھیں گی۔میرا کشمیر آج بھی وہی ہے، بس ہمیں اپنے اندر کی سردی پگھالنی ہوگی تاکہ برف پھر سے اپنی پوری شان کے ساتھ لوٹ سکے۔
رابطہ۔6005339879