محتشم احتشام
پونچھ//ضلع پونچھ میں کورئیر خدمات کے ذریعے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام اور مشکوک اشیاء کی ترسیل پر کڑی نظر رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے نگرانی کے عمل کو مزید سخت کرتے ہوئے مختلف کورئیر دفاتر کا تفصیلی معائنہ انجام دیا۔یہ کارروائی محکمہ داخلہ کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی ٹاسک فورس کے تحت عمل میں لائی گئی، جس کی سربراہی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ و ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (اے ڈی سی) کر رہے ہیں۔ٹاسک فورس میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ہیڈکوارٹر نیرج شرما، اے آر ٹی او پونچھ بشارت محمود، اسسٹنٹ کمشنر فوڈ طارق محمود اور محکمہ ڈاک کے نمائندگان بطور اراکین شامل ہیں۔فورس نے ضلع بھر کے مختلف کورئیر دفاتر کا دورہ کر کے وہاں کے نظامِ کار، پارسلز کی آمد و رفت اور حفاظتی اقدامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔
معائنے کے دوران حکام نے کورئیر دفاتر کے ذمہ داران کو ہدایت دی کہ تمام آنے اور جانے والے پارسلز کا مکمل ریکارڈ روزانہ کی بنیاد پر مرتب کیا جائے اور ہر کھیپ کی تفصیلات شفاف انداز میں محفوظ رکھی جائیں تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی پر فوری کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔ٹاسک فورس نے مختلف کورئیر آپریٹروں اور عملے کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے روزانہ موصول اور روانہ ہونے والے پارسلز کی تعداد، ترسیلی نظام اور حفاظتی اقدامات سے متعلق تفصیلات حاصل کیں۔ اس موقع پر حکام نے اس امر پر زور دیا کہ کورئیر خدمات کو غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے سخت نگرانی ناگزیر ہے۔ٹاسک فورس نے تمام کورئیر آپریٹروں کو ہدایت دی کہ اگر کوئی مشکوک پارسل، دوا، سپلیمنٹ یا کسی بھی نوعیت کی قابلِ اعتراض کھیپ موصول ہو تو اس کی فوری اطلاع متعلقہ حکام اور ٹاسک فورس کو دی جائے۔ حکام نے واضح کیا کہ ہر پارسل کی مکمل جانچ اور تصدیق موجودہ حالات میں انتہائی ضروری ہے۔دورے کے دوران متعدد پارسلز کی موقع پر ہی جسمانی جانچ بھی کی گئی، جبکہ کورئیر دفاتر کو سرکاری رہنما خطوط پر سختی سے عمل درآمد کرنے اور تمام ریکارڈ محفوظ رکھنے کی تاکید کی گئی۔ٹاسک فورس کے چیئرمین اے ڈی ایم/اے ڈی سی نے بتایا کہ ضلع میں کورئیر سرگرمیوں کی نگرانی کا عمل مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے گا اور ہفتہ وار معائنوں کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کوئی بھی مشکوک یا غیر قانونی سامان کورئیر ذرائع کے ذریعے ضلع میں داخل یا خارج نہ ہو سکے۔انتظامیہ کے اس اقدام کو عوامی سلامتی اور امن و امان کے قیام کی جانب ایک اہم اور بروقت قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے ضلع میں نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔