جموں//قانون ساز اسمبلی میں دیہی ترقی کے وزیر عبدالحق خان نے پنچائتی چنائو اسی سال کرانے کا علان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دفعہ 370اور 35اے کے تحفظ کیلئے پوری سنجیدگی سے سپریم کورٹ میں کیس لڑ رہی ہے اور اس سلسلے میں ملک کے بہترین وکلاء کی خدمات حاصل کی گئی ہیں ۔اپنے ماتحت محکمہ جات کے مطالبات زر پر ممبران کی بحث کا جواب دیتے ہوئے عبدالحق خان نے کہاکہ حکومت پنچایت الیکشن کرنے کیلئے وعدہ بند ہے اوربہت جلد الیکشن ہونے جارہے ہیں ۔انہوںنے اپوزیشن ممبران سے تعاون طلب کرتے ہوئے کہا’’آپ سب کا ساتھ ہونا چاہیے اور الیکشن اسی سال کرائے جانے ہیں ،ہم سارے میں سٹریم سے وابستہ ہیں اس لئے سبھی کو الیکشن عمل میں ساتھ دیناچاہئے ‘‘۔وزیر موصوف نے کہاکہ اس حوالے سے ساری تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں ۔ان کاکہناتھاکہ الیکشن سے جہاں جمہوری ادارے بنیادی سطح پر مضبوط ہوںگے وہیں فنڈز کی واگزاری کا سلسلہ بھی نہیں رکے گا۔قبل ازیں 35اے اوردفعہ 370 پر بات کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہاکہ حکومت ان معاملات پر پوری سنجیدگی سے کام کررہی ہے اور اس مقصد کیلئے ملک کے بہترین وکلاء کی خدمات حاصل کی گئی ہیں ۔ان کاکہناتھاکہ انہوںنے خود بھی ان وکلاء سے کئی کانفرنسیں کی ہیں جبکہ سپریم کورٹ میں سماعت ہونے سے قبل وہ دہلی جاکر وکلاء کی ٹیم سے بات چیت کرتے ہیں ۔عبدالحق کاکہناتھاکہ ریاستی حکومت ان معاملات پر پوری طرح سے کوشش کررہی ہے لیکن چونکہ یہ کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں اس لئے اس بارے میں مزید کچھ نہیں کہاجاسکتا۔محکمہ دیہی ترقی کی حصولیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہاکہ جیوٹیگنگ ، ای ایف ایم نظام ،محتسب ( Ombudsman) کی تقرری ، سوشل آڈٹ ادارے کا قیام ، ہر کام کا معہ تفصیل بورڈاور پنچایت سطح پر 7رجسٹروں کی شروعات ایسے اقدامات ہیں جن سے مہاتماگاندھی نریگا سکیم میں شفافیت آجائے گی ۔انہوںنے کہاکہ جیوٹیگ میں ریاست نے اہم اہداف طے کئے جس کے اعتراف میں اسے قومی سطح کے اعزاز سے نوازاگیا ۔انہوںنے کہاکہ مہاتماگاندھی نریگا میں پچھلے تین سال میں دو لاکھ 73 ہزار اثاثہ جات قائم ہوئے جس سے دیہی علاقوں میں روابط استوار ہوئے ہیں ۔انہوںنے واضح کیاکہ حفاظتی باندھ بنانے پر پابندی نہیں ہے اور ضرورت کے مطابق اس کی تعمیر کی جائے گی ۔وزیر موصوف نے اعلان کیاکہ امسال مہاتماگاندھی نرگا اور آئی ڈبلیو ایم پی کے تحت پانی ذخیرہ کرنے کے ٹینک ترجیحی بنیادوں پر تعمیر کئے جائیںگے جن کیلئے رقومات بھی دستیاب ہیں تاکہ پانی کی کمی کو پورا کیاجاسکے ۔وزیر موصوف نے کہاکہ وہ سکیموں کی عمل آوری اور کامو ں کا جائزہ لینے کیلئے ریاست کے ہر ایک بلاک کا خود دورہ کرچکے ہیں ۔ممبران کی طرف سے ایس ای سی سی سروے کو از سر نو کرنے کے جواب میں انہوںنے کہاکہ ریاستی حکومت اس لسٹ میں کوئی تبدیلی تو نہیں کرسکتی البتہ مرکز کو سفارش کرسکتی ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے سفارشات بھیجی ہیں ۔امید سکیم پر بولتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس سکیم کے ساتھ دو لاکھ سے زائد خواتین جڑی ہیں اور اس کی بہتیرن عمل آوری پر ریاست کو قومی سطح پر اعزاز ملاہے۔انہوںنے کہاکہ اس سے جہاں خواتین خود کفیل بن رہی ہیں وہیں روزگار کے اسباب بھی پیدا ہورہے ہیں ۔انہوںنے حمایت کو ایک بڑا پروگرام قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس کے تحت 1لاکھ 24ہزار طلباء کو تربیت دی جانی ہے اور وہ ممبران سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھی اپنے اپنے حلقوںسے طلباء بھیجیں ۔وزیر موصوف کاکہناتھاکہ ریاست میں لا کمیشن کا قیام عمل میں لایاجارہاہے اور عدلیہ کے نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات کئے گئے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ چار فاسٹ ٹریک اور 8 جونائل عدالتیں کھولی جارہی ہیں اوراب ہر ایک شخص اپنے موبائل پر کیس کی سماعت کی جانکاری حاصل کرسکتا ہے جس کیلئے پہلے اسے قطاروں میں کھڑا رہناپڑتاتھا۔انہوںنے کہاکہ اس عمل کو نچلے درجے تک لے جائیں گے۔عبدالحق نے کہاکہ ٹہ مالو میں جنوبی ایشیاء کا سب سے اچھا کورٹ بنایاگیاہے اور حکومت نے عدلیہ ملازموں کی پے کمیشن کی مانگ بھی پوری کی ہے ۔انہوںنے یقین دلایاکہ عدالتوں میں بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا اور نئی عدالتوں کے قیام کی کوشش بھی کی جائے گی۔وزیر موصوف نے کہاکہ ریزرویشن کی بنیاد پر ترقی کے معاملے پر وہ ممبران کے ساتھ مل بیٹھ کر کوئی لائحہ عمل اپنائیںگے ۔