اس ترقی یافتہ دور میں سائنس داں انوکھی چیزیں تیار کرنے میں سرگرداں ہیں۔ حال ہی میں اس ضمن میں زیر آب تیرتے ہوئے جاسوسی کرنے والا ڈرون تیار کیا ہے ۔یہ ڈرون بیجنگ کی روبوٹ بننے والی کمپنی نے تیار کیا ہے ۔یہ دیکھنے میں عام سی مچھلی کی طر ح لگتا ہے ۔کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون نہ صرف دیکھنے میں مچھلی جیسا ہے بلکہ اس کے تیرنے کا انداز بھی بالکل مچھلی کی طرح ہے۔ اس ’’آبدوز ڈرون‘‘ کی آنکھوں میں جاسوس کیمرے نصب ہیں جو سمندر کے اندر بہت دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اس کی کھال میں کئی طرح کے سینسرز بھی نصب کیے گئے ہیں جو اسے سمندری پانی کے درجۂ حرارت سمیت دوسری مختلف خصوصیات سے مسلسل باخبر رکھتے ہیں۔ یہ آبدوز ڈرون ایک مرتبہ چارج ہونے کے بعد مسلسل آٹھ گھنٹے تک پانی میں تیز سکتا ہے ۔بویا گونگداؤ روبوٹکس کے مطابق اسے بحری علوم اور سمندری زندگی پر تحقیق کرنے والوں کےلیے بنایا گیا ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر اس سے سمندر کی خفیہ نگرانی کا کام بھی لیا جاسکتا ہے اور مستقبل میں یہ کار آمدثابت ہوگا
�اس جدید دور میں دنیا بھرکے ماہرین نت نئی چیزیں تیار کرنے میں سر گرداں ہیں ۔اس ضمن میں چینی سائنسدانوں نے ایسا ماحول دوست پلاسٹک تیار کیا ہے جو دھوپ اور آکسیجن کی موجودگی میں ایک ہفتے کے دوران بے ضرر مادّوں میں بدل کر ختم ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پلاسٹک لچکدار ہے اور خاص طرح کے نامیاتی (آرگینک)پولیمرز سے بنایا گیا ہے۔ جب تک اس پر دھوپ نہیں پڑتی، تب تک یہ پلاسٹک اپنی اصل حالت برقرار رکھتا ہے لیکن دھوپ میں رکھنے پر یہ ہوا میں موجود آکسیجن کے ساتھ کیمیائی عمل شروع کرکے تیزی سے تحلیل ہو کر بے ضرر مادّوں میں ٹوٹنے لگتا ہے۔
یہ عمل زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے میں مکمل ہوجاتا ہے ، جس کا واحد ضمنی حاصل (بائی پروڈکٹ) سکسینک ایسڈ بچ رہتا ہے۔ یہ ایک قدرتی مرکب ہے، جس کی ادویہ سازی اور غذائی مصنوعات کی تیاری میں بہت ضرورت پڑتی ہے۔ اگرچہ یہ اتنا مضبوط تو نہیں کہ اس سے شاپنگ بیگ یا مشروبات کی بوتلیں بنائی جاسکیں لیکن اسے اسمارٹ فون، ٹیبلٹ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز وغیرہ کے لیے ایسے لچک دار برقی آلات میں ضرور استعمال کیا جاسکے گا جو ناکارہ ہوجانے کے بعد دھوپ میں رکھ کر تلف کیے جاسکیں گے۔ یہ پلاسٹک بنانے والی ٹیم کے سر براہ ڈاکٹر لیا نگ لوکا کا کہنا ہے کہ ابھی یہ پلاسٹک ابتدائی مرحلے میں ہے ،اس کو مزید بہتر بنانے میں کئی سال لگیں گے۔
�یوٹیوب ٹرینڈنگ ٹیب میں’کریئٹرز آن دی رائز‘ کا اضافہ
یوٹیوب کی جانب سے اپنے ٹرینڈنگ ٹیب میں ’کریئٹرز آن دی رائز‘ کا اضافہ کیا جائے گا جس میں ہر ہفتے فیچرڈ کنٹنٹ کریئٹرز کو پیش کیا جائے گا۔آج یوٹیوب پر پہلے سے کہیں زیادہ زبردست ویڈیوز اپ لوڈ کی جاتی ہیں، نئے فارمیٹس تخلیق کیے جا رہے ہیں اور ہر لمحے نئے اسٹارز اور فنکار پیدا ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر میں روزانہ 1,000 سے زائد کریئٹرز ، 1,000 سے زیادہ سبسکرایبرکی حد عبور کر رہے ہیں، نیا ٹیلنٹ بھی ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔یوٹیوب انتظامیہ کے مطابق وہ اِن نئے کریئٹرز کو سراہنا اور اُنہیں زیادہ بڑی تعداد میں آڈئینس بنانے میں مدد فراہم کرنا چاہتے ہیں۔آج کے دن سے یوٹیوب کی جانب سے پاکستان میں اپنے ٹرینڈنگ ٹیب میں ایک نئے سیکشن کا اضافہ کیا جا رہا ہے جس میں ایسے کریئٹرز کو نمایاں کیا جائے گا جو ’آن دی رائز‘ہیں۔ہر ہفتے ایک مختلف کریئیٹر کو نمایاں کیا جائے گا اور ٹرینڈنگ پر ’کریئٹر آن دی رائز‘ کے بیج کے ساتھ خصوصی طور پر پیش کیا جائے گا، ایسا کریئیٹر جس کے 1,000 سے زائد سبسکرایئبر ہوں، اسے نمایاں طور پر پیش کیا جائے گا۔’آن دی رائز‘ کریئیٹرز کو مختلف عوامل کی بنیاد پر نمایاں کیا جائے گا جن میں ویو کاؤنٹ، واچ ٹائم اور سبسکرائبر کی تعداد میں اضافہ شامل ہے لیکن یہ عوامل یہاں تک محدود نہیں ہیں، اُنہیں، مستقبل میں، مزید دیگر زبانوں میں بھی پیش کیا جائے گا، ہر ہفتے ایک کریئیٹر کواُجاگر کیا جائے گا۔یوٹیوب انتظامیہ کی جانب سے کنٹینٹ کریئیٹرز کو اس بات سے آگاہ بھی کیا جائے گا اُنہیں کب فیچر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ کنٹینٹ کریئیٹرز اپنے پرانے اور نئے مداحوں کے ساتھ اپنا تبصرہ شیئر کر سکیں! یوٹویب انتظامیہ کے مطابق انہیں اُمید ہے کہ اس آپشن سے دنیا کو متاثر کن نئے کریئیٹرز دریافت کرنے میں مدد ملے گی۔