شبیر احمد بٹ
آپ کنفیوز نہ ہو ،اس لئے بتاتا چلو کہ میری مراد ایس ایس بی یا پی ایس سی ٹیسٹ سیکنڈل سے نہیں بلکہ اس اسکینڈل سے ہے جو صحت جیسی دولت اور نعمت سے تعلق رکھتا ہے ۔ جی ہاں! اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے صحت و تندرستی ایک بہت بڑی نعمت ہے ،جس کے ساتھ کئی اور نعمتیں جڑی ہوئی ہے ۔جیسے امن و سکون،رات کا آرام اور کھانے پینے کی نعمتیں وغیرہ،مگر ہماری وادی میں جہاں ہر چیز کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتا ہے ،ہر چیز کو کمائی کی نظر سے دیکھاجاتا ہے، یہاں تک کہ لوگوں کو بیمار کرنے کے لئے کئی گروہ اور جماعتیں سرگرم ہیں۔ ایک طرف نقلی ادویات کا کاروبار کرنے والے اور دوسری طرف میڈیکل ٹیسٹ کروانے کے نام پر بیماروں کو لوٹنے والے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہماری وادیٔ کشمیر میں ہونہار اور پروفیشنل ڈاکٹروں کی کوئی کمی نہیں ۔ان ڈاکٹروں کی اَن تھک محنت اور کوششوں کے سبب نہ جانے کتنی قیمتی جانیں بچائی جاتی ہیں ۔مریضوں کے تئیں ان کی شفقت اور رویے بھی قابل تحسین ہیں ۔گویا یہ سکّے کا ایک رُخ ہےجبکہ دوسری جانب اِنہی میں سے اُن حضرات کی بھی کمی نہیں ہے جو اس مقدس نام اور پیشے کی آڑ میں نہ جانے کون کون سے گُل کھلاتے ہیں ۔خود غرضی اور کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کی لالچ میں آکر وہ مریض کو مفلس بناکر ہی چھوڑدیتے ہیں ۔علاج کے نام پر وہ مریض کو کئی اور امراض کا شکار بنا دیتے ہیں ۔بڑی اور چھوٹی کمپنیوں کے ساتھ پرسنٹیج کا سودا کرکے وہ اِتنے انوکھے اور انسان دشمن کارنانےانجام دیتے ہیں کہ عقل دھنگ رہ جاتی ہے ۔
جب اس سے بھی ان کا پیٹ نہیں بھرتا ہے تو وہ مختلف لیبارٹریوں کے ساتھ ساز باز کرکے مریضوں کو ایسے ٹیسٹ بھی کروانے کو کہتے ہیں، جن کے پیچھے مریض کے مرض کی تشخیص سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا ہے ۔یہ صرف سُنی سُنائی یا اَن دیکھی باتیں نہیں بلکہ مشاہدوں اور دلائل پر مبنی باتیں ہیں۔ہم سب جانتے ہیں کہ جب مرض کی تشخیص ہو جائے تو علاج آسان ہوجاتا ہے مگر جب تشخیص کروانے کی نیت میں ہی کھوٹ ہو تو پھر کون سی تشخیص اورکیسا علاج ؟ اپنی اِس وادیٔ کشمیر میں علاج اور دوا کے نام پر کتنی جانیں ضائع کر دی گئیں اور کردی جارہی ہیں،کتنے گھروں کو مفلسی اور بے بسی کی بھٹی میں جھونک کر ایسے سماج دشمن عناصر نے اپنے لئے بڑے بڑے محل تیار کروائے ہیں۔مختلف کلینکوں کے ساتھ تجربہ گاہیں بناکر مریضوں کو ان تجربہ گاہوں کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ یہاں ان کلینکوں اور لیبارٹریوں میں ہر جگہ اپنا ہی ریٹ لسٹ ، اپنی ہی مقرر کردہ فیس طے ہوتی ہے اور کوئی اُف تک نہیں کرسکتا ۔جب ہم باہر کے ڈاکٹروں کی فیس کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کی فیس اگرچہ یہاں کی فیس سے قدرے مختلف ہے،ڈاکٹر کی اپوئٹمینٹ کے لئے پانچ ہزار بھی لئے جاتے ہیں مگر مریض کو اس بات کا ڈر نہیں ہوتا ہے کہ اب نقلی ادویات ،کمپنی کے ساتھ ایگری مینٹ والی ادویات یا ساز باز والے ٹیسٹ نہیں کرائے جائیں گے ۔خالص مرض کی تشخیص اور مرض کو جڑ سے دور کرنے والی ادویات دے دی جائے گی ۔ایسے ڈاکٹروں کے ساتھ صلاح و مشوروں سےمریض کو ایک ایسا اطمینان اور اعتمادحاصل ہوجاتا ہے، جس کے سبب دوران علاج ہی مریض کو اپنے مرض میںتفاوت محسوس ہوتی ہے ۔ یہاں توچار پانچ برسوں کے بعد یہ معلوم پڑتا ہے کہ ادویات لکھنے والا،ٹیسٹ کرانے اور کروانے والا، اصل میں بناء کسی ڈگری کے ہی یہ سب کچھ کارنامے انجام دے رہا تھا ۔ایک مریض سالوں تک کلینک کے چکر کاٹتا رہتا ہے ۔تھیلے بھر کے دوائیاں لے جارہا ہے ۔ٹیسٹ کرتے کرتے اس کی آدھی عمر گزرجاتی ہے اور ڈاکٹر صاحب ہے کہ مختلف کمپنیوں اور ایجنسیوں کے ساتھ مل کر نئی نئی ادویات تجویز کررہا ہے اور بیچارہ مریض اُسےمسیحا سمجھ کر اپنا سب کچھ لٹا کر اُس کے پیچھے دوڑتا رہتا ہے ۔ ایک مریض کا کہنا تھا کہ وہ پچھلے ڈیڑھ سال سے یہاں مختلف ڈاکٹروں سے علاج کروا رہا تھا اوراُن کے مشوروں کے مطابق کم سے کم ڈھائی لاکھ روپے مختلف ٹیسٹوں اور ادویات پر خرچ کرچکا ہے ،مگر مرض میں کوئی کمی نہیں آئی، پھر وادی سے باہر ایک ڈاکٹر کے پاس چلا گیا اور ساڑھے سات ہزار فیس اور دوائی پر خرچ کرکے پچھلے چار مہینوں سے صحت مند زندگی گزار رہا ہوں ۔ایک اور مریضہ کا کہنا ہے کہ یہاں مجھ سے مختلف ڈاکٹروں نے کثیر رقم وصول کرکے کہا کہ’’ اب سرجری کے بغیر کوئی چارہ نہیں‘‘،چنانچہ یہاں سرجری کے لئے گولڈن کارڈ کے باوجودکم سے کم ایک لاکھ روپے کے اخراجات کے لئے کہا گیا ۔جب کہ بیرون ِوادی کے ڈاکٹر نے مجھے تین مہینوں کا کورس لکھ دیا اور پچھلے دو برسوں سے مجھے کوئی تکلیف نہیں ہے ۔ایک اور مریض کا کہنا تھا کہ میں وادی سےباہرچیک اَپ کرانے کے لئے گیا اور ڈاکٹر نے پانچ ہزار روپےفیس لے لی اور چار ہفتوں کے لئے دوائی لکھ دی ،اس کے بعد ایک ٹیسٹ کراکے وٹس اَپ کر دیا ۔اس کا کہنا ہے کہ آج ایک سال ہونے کو آیا ،۔صرف واٹس اَپ کےذریعے ہی ڈاکٹر صاحب کو ٹیسٹ بیج رہی ہوں اور وہ دوائی لکھ کر یا دیگر تجاویز کے بارے میںبھی جانکاری دے رہاہے۔ اس کے برعکس یہاںکے اکثر ڈاکٹر صاحبان سیدھے منہ بات تک نہیں کرتے ہیں۔فون پربات کرنایاواٹس اَپ کے ذریعے مسیج کا رِپلے کرنا تو دور کی بات ہے ۔ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق وادی میں 60 ادویات کا ٹیسٹ بھی کرایا گیا ،جن میں چالیس ادویات کے رپورٹس مضر صحت قرار دے دئے گئے ۔یہاں کون سا گھر ایسا ہے جہاں کوئی مریض نہ ہو ،جہاں ادویات کا استعمال نہیں ہوتا ہے ۔اب جب یہ دوائیاں ہی مضر صحت قرار دی گئیں تو علاج کیا ہوگا؟ہمارے ہسپتالوں میں ایسے ڈاکٹر اور افراد بھی کام کرتے ہیں جن کا کام دیکھ کر دِل اُن کے قدم چومنے کو کہتا ہے ۔ایسے ڈاکٹر صاحبان مریض کی اُمیداور تیماردارکا اعتماد اوراُن کا سہار بن کر اُن کے درد کا مداوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر وہیں پر وہ لوگ بھی نظر آتے ہیں، جنہیں بیمار کی بیماری ،تیمار دار کی پریشانی سے کوئی غرض و غایت نہیں بلکہ انھیں صرف کمپنی اور کمپنیوں کی پرسنٹیج پر نظر ہوتی ہے اور مریض ان کے لئے محض قربانی کا بکرا ہوتا ہے ۔
رابطہ ۔ 7889894120