غلام قادر کامران
ضلع ڈوڈہ کے قصبہ ٹھاٹھری میں بادل پھٹنے اور سیلابی ریلوں کے باعث ہونے والی حالیہ تباہی محض کسی قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں، بلکہ فطرت کے ساتھ انسان کے غیر ذمہ دارانہ کھلواڑ کا خمیازہ ہے۔ یہ قدرت کی جانب سے ایک اور سخت تنبیہ ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں۔ اگرچہ اس سانحے میں خوش قسمتی سے کسی انسانی جان کا زیاں نہیں ہوا، تاہم بڑے پیمانے پر ہونے والے مالی نقصان نے مقامی آبادی کے لیے سنگین مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ان قہر انگیز سیلابی ریلوں کے زد میں آ کر 27 رہائشی و غیر رہائشی مکانات اور 35 دکانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ لاکھوں روپے مالیت کی نجی املاک، گاڑیاں، کاروباری سامان اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ اس تشویشناک صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سیلاب کا پانی، کیچڑ اور بھاری ملبہ سیدھا لوگوں کے
گھروں میں داخل ہو گیا، جسے ہٹانا ایک کٹھن مرحلہ بن گیا اپنے آشیانے چھن جانے کے باعث درجنوں خاندان کھلے آسمان تلے سڑکوں پر راتیں گزارنے پر مجبور ہوگئے فی الحال، علاقے میں نقصانات کا حتمی تخمینہ لگانے کے لیے سروے کا عمل جاری ہے۔ اس قدرتی آفت نے مواصلاتی نظام کو بھی مفلوج کر دیا ہے ڈوڈہ-کشتواڑ شاہراہ پر ملبہ اور کیچڑ جمع ہونے سے ٹریفک کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس سے قبل کشتواڑ میں بھی شدید بارشوں اور بادل پھٹنے کے باعث مٹی کے تودے کھسکنے (لینڈ سلائیڈنگ) کا خوفناک واقعہ پیش آ چکا ہے۔ 540 میگاواٹ کوار (Kwar) پاور پروجیکٹ کے قریب پیش آنے والے اس واقعے میں کئی گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں اور سڑک کے بیشتر حصے کو شدید نقصان پہنچا۔
خوش قسمتی سے وہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔بادل پٹھنے کے ہولناک واقعات وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں بھی رونما ہوئے۔ضلع اننت ناگ کے چھترگل اور مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں بادل پھٹنے کے حالیہ واقعات کے باعث وہاں اچانک خوفناک سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی بپھرے ہوئے سیلابی ریلوں نے وہاں زرعی اراضی اور میوہ باغات کو شدید نقصان پہنچایا جبکہ کئی رہاشی مکانات اور کمرشل ہوٹل بھی بری طرح متاثر ہوئے۔ان حالیہ سانحات کے علاوہ وادیِ چناب، راجوری ،پونچھ اور کٹھوعہ میں بادل پھٹنے اور سیلابی ریلوں کی تباہ کاریوں کے متعدد دلخراش واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ابھی کشتواڑ کے علاقے چسوتی کے اس المناک سانحے کو گزرے ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا، جس میں درجنوں قیمتی جانوں کے زیاں کے ساتھ ساتھ سینکڑوں کی تعداد میں یاتری شدید زخمی ہوئے تھے، کہ اب بادل پھٹنے کے پے در پے واقعات دوبارہ رونما ہونے لگے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ان سانحات کے فوراً بعد ہم کچھ دن تو خوب افسوس کا اظہار کرتے ہیں، لیکن حالات معمول پر آتے ہی پھر سے غفلت کی نیند سو جاتے ہیں۔
اگرچہ یہ حقیقت بار ہا اجاگر کی گئی ہے کہ فطرت کے ساتھ کھلواڑ انسانی بقا کے لیے سنگین خطرات کا باعث ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی چند خود غرض اور لالچی افراد اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ماحولیات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں۔ بادل پھٹنے کے زیادہ تر واقعات ہمالیائی پہاڑی سلسلوں میں آباد بستیوں میں پیش آ رہے ہیں، ان علاقوں میں جاری غیر قانونی سرگرمیاں قدرتی آفات کی شدت کو مزید خطرناک بنا دیتی ہیں۔ ڈوڈہ اور کشتواڑ کے پہاڑوں سے غیر قانونی طور پر پتھر نکالنے کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے، جبکہ دریائے چناب کے کناروں پر متعدد اسٹون کریشر (Stone Crushers) نصب کر دیے گئے ہیں۔ ایسی سنگین ماحولیاتی خلاف ورزیوں کے ہوتے ہوئے مقامی آبادیاں بھلا کیسے محفوظ رہ سکتی ہیں؟دوسری جانب، ان علاقوں میں زیادہ تر بستیاں پہاڑی ڈھلوانوں پر آباد ہیں۔ پہاڑوں کی عمودی اترائی اور مٹی کا ڈھیلا پن ان بستیوں کے لیے پہلے ہی ایک بڑا قدرتی خطرہ ہے۔ اصولاً تو حفاظتی اقدامات کے تحت ان پہاڑوں پر مضبوط پشتے (Retaining Walls) اور حصار تعمیر کیے جانے چاہیے تھے تاکہ کھسکنے والے پتھروں اور مٹی کے تودوں کو بستیوں پر گرنے سے روکا جا سکے۔ لیکن بدقسمتی دیکھیے کہ انسانی خودغرضی اور لالچ کی وجہ سے تحفظ فراہم کرنے کے بجائے ان پہاڑوں کا سینہ چیر کر بے دردی سے پتھر نکالے جا رہے جس سے صورتحال مزید تباہ کن بن گئی ہے۔مزید برآں، ان علاقوں میں غیر منظم اور غیر سائنسی انداز میں مکانات کی تعمیر اور ندی نالوں میں کچرا پھینکنے کے رواج نے پانی کے قدرتی نکاس کے راستوں کو مکمل طور پر مسدود کر دیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ جب بارش یا بادل پھٹنے سے پانی کا دباؤ بڑھتا ہے، تو وہ اپنی فطری گزرگاہوں سے گزرنے کے بجائے سیدھا پہاڑوں سے نیچے کی طرف بہنے لگتا ہے۔ یہ بپھرے ہوئے سیلابی ریلے اپنے ساتھ بھاری پتھر، کیچڑ اور بے تحاشا ملبہ لے کر انسانی بستیوں میں داخل ہوتے ہیں اور چشم زدن میں ہنستے کھیلتے گھروں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
انسانی خود غرضی اور لالچ کی وجہ سے قدرتی ماحول کا توازن دن بدن بگڑتا جا رہا ہے۔ اس بگاڑ کے نتیجے میں قدرتی آفات کی شدت اور تباہ کاریوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ آج ہم غیر متوقع موسمی حالات، حد سے زیادہ بڑھتے درجہ حرارت، بے وقت ژالہ باری، گلیشیرز کے پگھلنے اور خشک سالی جیسے تباہ کن سانحات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان ماحولیاتی تبدیلیوں نے نہ صرف ہمارے زراعت اور باغبانی کے شعبوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، بلکہ پینے کے صاف پانی کی قلت اور نت نئی ماحولیاتی بیماریوں کو بھی جنم دیا ہے۔ غرض، ہم ہر طرف سے اپنے ہی پیدا کردہ بگاڑ کا شکار ہو رہے ہیں۔قدرتی آفات کے منفی اثرات کو کم کرنے اور ماحولیاتی توازن بحال کرنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ سب سے بنیادی کام یہ ہےکہ گھروں سے نکلنے والے کچرے کو سائنسی طریقے سے ٹھکانے لگایا جائے۔ اس سلسلے میں ٹھوس اور گیلے کچرے کو الگ الگ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ پلاسٹک کی بوتلیں، شیشہ، ٹوٹا پھوٹا سامان اور دھات کے ڈبے جیسا ناقابلِ تحلیل کچرا ادھر ادھر پھینکنے کے بجائے ‘ری سائیکلنگ (Recycling) کے ذریعے دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جائے۔کچن کا فضلہ، سبزی و پھل کے چھلکے، بچا ہوا کھانا اور چائے کی پتی وغیرہ قابل تحلیل کچرا کو ‘کمپوسٹ پٹ (Compost Pit) میں ڈال کر بہترین نامیاتی کھاد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف کچرے کے ڈھیر کم ہوں گے، بلکہ اس سے تیار شدہ کھاد سے زراعت میں بھی بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔یوں تو ہم ہر سال ماحولیاتی بیداری کے پروگرام منعقد کرتے ہیں جہاں بڑے بڑے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، لیکن زمینی سطح پر انہیں عملی جامہ پہنانے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں ہوتے۔ عملی اقدامات کے طور پر یہ انتہائی ضروری ہے کہ دریاؤں، ندیوں اور نالوں پر قائم ناجائز تجاوزات کو فوری طور ہٹایا جائے تاکہ پانی کے قدرتی بہاؤ کے راستے مسدود نہ ہوں۔ ندی نالوں اور پہاڑوں سے غیر قانونی طور پر پتھر، ریت اور مٹی نکالنے کے عمل پر سختی سے پابندی عائد کی جائے۔درختوں کا بے دریغ کٹاؤ غیر متوقع موسمی حالات کا سب سے بڑا پیش خیمہ ہے۔ موجودہ جنگلات کی حفاظت کے ساتھ ساتھ وسیع پیمانے پر نئی شجر کاری کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔
انتظامیہ کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ انسانی آبادی اور املاک کو بچانے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی مرتب کرے۔ خاص طور پر ان حساس علاقوں میں جہاں قدرتی آفات کے خطرات زیادہ رہتے ہیں، ضروری اقدامات ناگزیر ہیں ان اقدامات میں عوام کو قدرتی آفات سے نمٹنے کی باقاعدہ تربیت فراہم کرنا،تعمیراتی ڈھانچوں کو مضبوط بنانے کے اصولوں کو نافذ کرنا اور قدرتی آفات کی پیشگی اطلاع (Early Warning) کا بروقت اور مؤثر نظام قائم کرنا شامل ہیں ساتھ ہی ساتھ یہ ہم سب کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری بھی ہے کہ لاپرواہی اور غیر ذمہ دارانہ حرکات سے فوری طور پر باز آ جائیں۔ اپنی خود غرضی کے باعث ہم پہلے ہی بہت کچھ کھو چکے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بحیثیت ذمہ دار شہری اپنا کردار ادا کریں اور قدرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر جینا سیکھیں، تاکہ مزید ناقابلِ تلافی نقصانات سے بچا جا سکے۔