شبیر حسین شبیر
وادیٔ کشمیر کے سرسبز جنگلوں کے دامن میں، جہاں پہاڑوں کی خاموشی اور چشموں کی سرگوشی ایک روحانی فضا تخلیق کرتی ہے، وہیں ایک ایسا مقام بھی ہے جو تاریخ، فطرت اور حسن کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے، ویری ناگ محض ایک چشمہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی ورثہ، ایک تاریخی داستان اور ایک فطری معجزہ ہے۔
ویری ناگ کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے، مگر اس کی اصل شناخت کو جلا بخشنے والا عہد مغلیہ تھا۔ 1620ء میں مغل بادشاہ نورالدین جہانگیر نے اس چشمے کو نہ صرف دریافت کیا بلکہ اس کے گرد ایک خوبصورت آٹھ پہلوؤں والا پتھریلا حوض تعمیر کروایا۔ یہ وہی مقام ہے جہاں سے دریائے جہلم اپنی حیات بخش روانی کا آغاز کرتا ہے۔ بعد ازاں شاہجہاں نے اس کے اطراف میں باغات، نہریں اور بارہ دریاں تعمیر کروا کر اس مقام کو ایک شاہکار میں بدل دیا۔
یہ مقام صرف ایک سیاحتی مرکز نہیں بلکہ مغلیہ فنِ تعمیر اور جمالیاتی ذوق کی زندہ مثال بھی ہے، جہاں ہر اینٹ ماضی کی کہانی سناتی ہے۔
ویری ناگ کی اہمیت صرف اس کے حسن تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک روحانی اور ثقافتی مرکز بھی رہا ہے۔ قدیم ہندو متون میں اسے’’ویری ناگا‘‘ کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور اسے مقدس چشمہ تصور کیا جاتا تھا۔ اس کے شفاف پانی کو پاکیزگی اور روحانیت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔مغل دور میں یہ مقام شاہی قیام گاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا، جہاں بادشاہ اور درباری فطرت کے حسن سے لطف اندوز ہوتے۔ اس کے باغات میں چہل قدمی، بہتے پانی کی مدھر آواز اور چنار کے درختوں کی چھاؤں ایک جنت نظیر منظر پیش کرتی تھی۔ویری ناگ کا اصل جادو اس کی فطری خوبصورتی میں پوشیدہ ہے۔ یہاں کا پانی اتنا شفاف ہے کہ اس کی تہہ میں موجود پتھر بھی واضح نظر آتے ہیں۔ چشمے کے گرد سرسبز باغات، بہتی نہریں، اور بلند و بالا چنار کے درخت ایک ایسا منظر تخلیق کرتے ہیں جو دیکھنے والے کے دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتا ہے۔موسمِ بہار میں یہاں پھولوں کی رنگا رنگی اور خوشبو ایک نئی دنیا بسا دیتی ہے، جبکہ خزاں میں چنار کے زرد پتے زمین پر سنہری چادر بچھا دیتے ہیں۔ سردیوں میں جب برف کی سفید چادر ہر چیز کو ڈھانپ لیتی ہے تو ویری ناگ ایک خوابناک منظر پیش کرتا ہے۔
ویری ناگ نہ صرف آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے بلکہ دل و روح کو بھی سکون بخشتا ہے۔ یہاں کی فضا میں ایک عجیب سی خاموشی اور تقدس ہے، جو انسان کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتی ہے۔ شاعروں، ادیبوں اور صوفیوں کے لیے یہ مقام ہمیشہ سے ایک الہام کا ذریعہ رہا ہے۔یہاں بہتا پانی جیسے وقت کی روانی کا استعارہ ہے، جو ہمیں زندگی کی ناپائیداری اور حسن کی دائمی حقیقت کا احساس دلاتا ہے۔
ویری ناگ ایک ایسا مقام ہے جہاں تاریخ کی گہرائی، فطرت کی خوبصورتی اور روحانیت کی لطافت ایک دوسرے میں گھل مل کر ایک لازوال تجربہ تخلیق کرتی ہیں۔ یہ نہ صرف کشمیر کی پہچان ہے بلکہ برصغیر کے ثقافتی ورثے کا ایک قیمتی اثاثہ بھی ہے۔یہ وہ جگہ ہے جہاں وقت ٹھہر سا جاتا ہے، جہاں ہر منظر ایک نظم اور ہر لمحہ ایک داستان بن جاتا ہے۔ ویری ناگ واقعی ایک ایسا جواہر ہے جو نہ صرف آنکھوں کو بلکہ دل کو بھی منور کر دیتا ہے۔
یوں تو بچپن ہی سے ویری ناگ میرے دل کے نہاں خانوں میں بسا ہوا ہے۔ میرے آبائی گاؤں سے محض پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ جنت نظیر مقام ہمیشہ میرے لیے کشش کا مرکز رہا۔ جواہر ٹنل، اوموہ کے راستے جب ذاتی گاڑی میں یہ مسافت صرف بیس منٹ میں طے ہوتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت بھی اس سفر میں ہم قدم ہو گیا ہو۔سکولی ایام میں یہاں کی پکنکیں، لڑکپن کی شوخیاں، اور ہم عمر دوستوں کے ساتھ بے فکری کے وہ لمحے، آج بھی یادوں کے دریچوں میں تازہ ہیں۔ ویری ناگ کی خوبصورتی نے ہمیشہ میرے قلم کو مہمیز دی؛ کبھی نظموں میں اس کا عکس ابھرا، کبھی غزلوں کے اشعار میں اس کی رعنائیاں جھلکیں، اور کبھی مضامین میں رسل میر اور کونگئی کی داستانوں کے حوالے سے اس کا ذکر آیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ویری ناگ میری رگوں میں لہو کی مانند گردش کرتا ہے۔ سنہ 1980 کی دہائی میں سکول سے ہم اکثر ویری ناگ ایکسکرشن آیا کرتے تھے ۔ سکولی دنوں کے بعد بھی میرا معمول رہا کہ جب بھی میں اننت ناگ کسی کام سے جاتا تو واپسی پر ویری ناگ میں ایک دو گھنٹے رک کر ویری ناگ کے چشمے اور باغ کا رخ کیا کرتا تھا اور یہاں ویری ناگ کے صاف و شفاف چشمے ، باغ میں لگے پھولوں اور چناروں سے ہم کلام ہوتا تھا اور قدرت کے اس شاہکار اور حسن میں ڈوب کر اس حسین شاہکار سے گلے ملتا تھا اور یہاں سے رخصت ہوتے ہی دل بہت ہی مایوس ہو جاتا تھا اور پھر بہت بعد میں اس گفتگو نے شاعری کا روپ دھار لیا جو اب بھی جاری و ساری ہے –
تاہم، 20 اپریل 2026 سے 24 اپریل 2026 تک کا یہ پانچ روزہ دورہ میرے لیے محض ایک انتظامی ذمہ داری نہ تھا، بلکہ ایک ایسا وجد آفریں تجربہ تھا جس میں علم کی روشنی، فطرت کی دلکشی اور تاریخ کی معنویت یکجا ہو کر جلوہ گر ہوئیں۔ اس تعلیمی انسپکشن کے دوران مجھے مڈل سکول اوموہ، کلسٹر مڈل سکول ویری ناگ، گرلز مڈل سکول نوگام ویری ناگ اور مڈل سکول بونہ گنڈ جیسے اہم اداروں کا معائنہ کرنے کا موقع ملا۔ان تمام تعلیمی اداروں میں ایک خوشگوار، منظم اور حوصلہ افزا فضا محسوس ہوئی۔ اساتذہ کی لگن، ان کی تدریسی سنجیدگی اور طلبہ کی ہمہ جہت تربیت کے لیے ان کی مسلسل کاوشیں لائقِ تحسین ہیں۔ طلبہ کی آنکھوں میں چمکتی جستجو، ان کے سوالوں میں جھلکتا تجسس اور سیکھنے کی امنگ اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ یہ ننھے چراغ مستقبل میں علم کے افق کو روشن کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
ویری ناگ محض ایک تعلیمی زون نہیں، بلکہ فطرت کا ایک ایسا حسین مرقع ہے جہاں قدرت نے اپنی تمام تر رعنائیاں سمیٹ دی ہیں۔ کپرن کے سربھل گلیشیئر سے نکلنے والا دریائے ساندرن اپنی مخصوص لے کے ساتھ ویری ناگ کے دامن سے گزرتا ہے، جبکہ ویری ناگ کا مشہور چشمہ دریائے جہلم کے آغاز کا اعزاز رکھتا ہے۔ جواہر ٹنل کے شمالی کنارے سے بہنے والا نالہ ہوکھرن جب اوموہ اور ویری ناگ قصبے سے گزرتا ہوا اس سرزمین کو سیراب کرتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے فطرت خود اس خطے کو اپنی آغوش میں لیے ہوئے ہو۔ بونہ گنڈ کے مقام پر یہ تمام آبی دھارائیں ایک دوسرے سے بغلگیر ہو کر ساندرن ندیا کی صورت اختیار کر لیتی ہیں، جو آگے چل کر اننت ناگ میں دوبارہ دریائے جہلم کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔
ویری ناگ سے محض دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کھاہ گنڈ گاؤں میں ویتھی ووتھر چشمہ بھی اپنی تاریخی و جغرافیائی اہمیت کا حامل ہے۔ یوں بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ویری ناگ ندیوں، نالوں اور چشموں کا ایسا مسکن ہے جہاں پانی بھی گویا اپنی ایک الگ داستان سناتا ہے۔
مڈل سکول بونہ گنڈ اپنی جغرافیائی انفرادیت کے باعث ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔ دو ندیوں، ساندرن ندیا اور دریائے جہلم، کے درمیان واقع یہ ادارہ ایک ایسے جزیرے کی مانند محسوس ہوتا ہے جہاں علم فطرت کے حصار میں پروان چڑھ رہا ہو۔ 1959 میں ایک پرائمری سکول کے طور پر قائم ہونے والا یہ ادارہ 1979 میں مڈل سکول کے درجے تک پہنچا، اور آج اپنی منفرد حیثیت کے باعث ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اپنی منفرد حیثیت ، تاریخ اور بہتر تعلیمی نظام کی بنا پر اسے بہت جلد ہائی سکول کا درجہ ملنا چاہیے –
اس دورے کے دوران مڈل سکول بونہ گنڈ کے ہی آٹھویں جماعت کے طلبہ سے ملاقات ایک نہایت خوشگوار تجربہ رہی۔ ان کی ذہانت، خوداعتمادی اور سیکھنے کی لگن نے دل کو مسرور کر دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ ان بچوں سے گفتگو کے دوران میں نے خود بھی بہت کچھ سیکھا، اور یہی ایک معلم کے لیے سب سے بڑی سعادت ہے۔
مڈل سکول اوموہ کے اساتذہ اور طلبہ بھی اپنی محنت، لگن اور تعلیمی وابستگی میں کسی سے کم نہ تھے۔ یہاں کا ماحول اس حقیقت کا جیتا جاگتا ثبوت تھا کہ جب استاد خلوصِ نیت سے علم کی شمع روشن کرتا ہے تو اس کی روشنی دلوں تک اتر جاتی ہے۔یہ پورا سفر ایک روحانی، جمالیاتی اور فکری تجربہ بن کر سامنے آیا، ایک ایسا تجربہ جس نے یہ احساس دلایا کہ جب علم اور فطرت ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوتے ہیں تو ایک ایسی دنیا وجود میں آتی ہے جہاں حسن، حکمت اور امید بیک وقت پروان چڑھتے ہیں۔ ویری ناگ واقعی وہ سرزمین ہے جہاں چشموں کی شفافیت، ندیوں کی روانی اور علم کی روشنی مل کر ایک ایسا دلکش منظر تخلیق کرتی ہیں جو دل و نظر دونوں کو مسحور کر دیتا ہے۔
رابطہ۔ 099067 54208