احمد سہیل
آج کل کے بچے سمارٹ ہیں یا پھر زمانہ؟ وقت کی رفتار بہت تیز ہو چکی ہے۔ جس زمانے میں ہمارے بڑوں کو ایک بات سمجھنے میں مہینے لگ جاتے تھے آج کے بچے اسے چند منٹوں میں سمجھ لیتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ بچوں کی اپنی ذہانت ہے یا پھر زمانے کی ترقی نے انہیں یہ سہولت دی ہے؟ بچوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ کوئی کھلونا چلتا ہے تو وہ صرف کھیل کر خوش نہیں ہوتے بلکہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ یہ چل کیسے رہا ہے؟ اندر کون سا بٹن یا مکینزم ہے جو اسے حرکت دے رہا ہے۔ ان کے ذہن میں مسلسل سوالات ہوتے ہیں وہ چیزوں کو کھول کر دیکھتے ہیں اور نئی نئی آئیڈیاز سوچتے ہیں۔ یہ ان کی کری ایٹوٹی (creativity) اور تجسس (curiosity) ہے جو انہیں عام سے عام چیز میں بھی نیا پہلو تلاش کرنے پر مجبور کرتی ہے۔دوسری طرف زمانے نے بھی بچوں کو آگے بڑھنے کا پورا موقع دیا ہے۔ آج ان کے ہاتھ میں اسمارٹ فون انٹرنیٹ اور بے شمار ایپس ہیں جو ان کی معلومات کو لمحوں میں بڑھا دیتی ہیں۔ جہاں ہمارے بڑوں کو کسی کتاب یا استاد سے سیکھنے میں وقت لگتا تھا آج کے بچے گوگل اور یوٹیوب کے ذریعے فوراً سب کچھ جان لیتے ہیں۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ زمانہ بھی تیز ہے اور بچے بھی ذہین ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چل رہے ہیں۔ اگر زمانے نے انہیں جدید آلات دیے ہیں تو بچوں نے ان آلات کو اپنی ذہانت سے نئے زاویوں میں استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بچوں کی اس تخلیقی سوچ کو مثبت سمت دیں۔ صرف گیجٹس تک محدود نہ رہنے دیں بلکہ انہیں سائنس ٹیکنالوجی ادب اور زندگی کے بڑے سبقوں کی طرف بھی لے کر آئیں۔ کیونکہ یہی بچے آنے والے کل کے معمار ہیں اور ان کی ذہانت کو اگر صحیح رخ مل جائے تو وہ دنیا میں کچھ نیا کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
سپورٹ پوائنٹ: بچے آج تجسس سے چیزوں کو کھول کر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی نے ان کی سوچ اور معلومات کے دروازے کھول دیے ہیں۔اگر صحیح رہنمائی ملے تو یہ ذہانت قوم کا سرمایہ ہے۔
[email protected]