شیخ ولی محمد
نیا سال شروع ہوتے ہی مختلف افراد ،ادارےاور ایجنسیاں اپنی معلومات اور پیغامات عوام تک پہنچانے کے لیے کلینڈر کو منظرعام پر لانے کی کوششیں کرتے ہیں ۔وال کلینڈر ایک کثیر المقاصد ذریعہ ہے جس کے ذریعے سے بہت سارے اغراض و مقاصد بیک وقت حاصل ہوتے ہیں ۔وال کلینڈر سال بھر کس گھر ،دفتر یا ادارے کی دیوار پر آویزاں رہتا ہے اور اس طرح ہر روز گھر یا دفتر میں رہائش پذیر افراد اس کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں ۔وال کلینڈر پر بہت ساری مفید معلومات درج ہوتی ہیں ۔جیسے سال بھر کے تاریخوں اور ایام کا ریکارڈ ،تعطیلات کی مکمل فہرست ،تہواروں کی تفصیل ،میقات الصلوات اہم واقعات کا اندراج وغیرہ ۔کلینڈر ہر خاص و عام کو کام کو انجام دینے کی منصوبہ بندی میں مدد دیتا ہے ۔شمسی اور قمری بنیاد پر کسی بھی پروگرام کے تعین میں معاون اور مددگار ثابت ہوتا ہے ۔کشمیر میں اکثر گھرانے اپنے بجٹ کے اخراجات و آ مدنی کے اندراج کے لیے وال کلینڈر کا ہی استعمال کرتے ہیں ۔چنانچہ بیشتر گھرانے ہرروز دودھ،روٹی کا حساب کلینڈر پر ہی تحریر کرتے ہیں ۔ہر مہینے چھٹیوں کی تفصیل کا مشاہدہ کرکے اپنا پلان ترتیب دیتے ہیں ۔کلینڈر میں دیے گیے میقات الصلوات کے مطابق اپنی نماز ادا کرتے ہیں ۔ان مفید چیزوں کے ساتھ ساتھ اگر کوئی شخص یا ادارے اپنے کاروبار کو فروغ دینا چاہتا ہوں تو اس کے لیے کلینڈر موثر ذریعہ ہے ۔
کشمیر میں اگر وال کلینڈر کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت واضح ہے کہ کافی عرصے سے یہاں پر جموں وکشمیر بینک J& K Bankاپنے کلینڈر عوام تک پہنچانے میں مصروف عمل ہے ۔بینک اپنا پیغام لوگوں تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر کی تاریخی و صحت افزاء مقامات اور دیگر پرانی چیزوں کو منظرعام پر لا نے میں مصروف عمل ہے ۔جے اینڈ کے بینک ہر سال کلینڈر کے لیے ایک خاص قسم کا تھیم THEME منتخب کرکے اسی کے مطابق فوٹوگرافس اور ان کے حوالے سے انفارمیشن شائع کرتا ہے ۔سال 2026 کے لیے بینک نے جموں وکشمیر اور لداخ کے دریاRivers of jammu & Kashmir and Ladakh رکھا ہے ۔چنانچہ جنوری اور فروری کے مہینے پر کشن گنگا( گریز), مارچ اور اپریل کے لیے دریائے چناب ( جموں ) ،مئ اور جون کے صفحہ پر دریائے سندھ ( لداخ), جولائی اور اگست کے مہینے پر جہلم( سرینگر) ،ستمبر اور اکتوبر کے صفحہ پر دریائے توی( جموں) جبکہ نومبر اور دسمبر کے صفحہ پر زانسکار( لداخ) کی خوبصورت تصاویر مع مختصر معلومات شائع کی گئی ہیں ۔پہلے بینک 12 صفحات پر مشتمل کلینڈر شایع کر تا تھا تاہم کئی برسوں سے بینک کا یہ کلینڈر اب 6 صفحات تک ہی سمٹ چکا ہے ۔
کشمیر کی پرانی تاریخ کو تصاویر کے ذریعے منظر عام پر لانے میں NOSTALGIC KASHMIR گزشتہ کئی برسوں سے سرگرم عمل ہے ۔اس ادارے کے تحت اب تک تقریباً بیس ہزار نایاب فوٹوگرافس جو 1850 سے 1950 تک کی ہیں کو شائع کیا گیا ہے ۔گزشتہ کی برسوں سے یہ ادارہ وال کلینڈر کے ذریعے بھی بہت ساری نادر اور نایاب تصاویر کو منظرعام پر لانے میں مصروف عمل ہے ۔2026 NOSTALGIC KASHMIR کلینڈر کے 12صفحات پر ڈیڑھ سو سال قدیم کشمیر سے جڑی ہوئی تاریخی تصاویر ہیں جو بزبان حال اپنی تاریخ بیان کرتی ہیں ۔ان قدیم فوٹو گرافس میں 1935میں جاڑے کا سرینگر ،1957 کا شہر خاص، 1900 کی ٹراؤٹ ہیچری،1957 کا نالہ مار پر نرورہ پل،1894 میں شیخ حمزہ زیارت کا داخلہ ،1874 کا درگاہ حضرت بل،1885 کا نشاط باغ،1895 کا بیوپار منڈل،1909 میں بیگاری قابل ذکر ہیں ۔کشمیر کے قدیم ورثہ بالخصوص فن تعمیر کو کلینڈر کے ذریعے عوام کے سامنے لانے میں یہاں پرائیوٹ سیکٹر میں کام کررہی بلڈنگ میٹیریل سے جڑی ہوئی کئ کمپنیاں جن میں KHYBER CEMENTSاورCEMTAC CEMENTS وغیرہ قابل ذکر ہیں کا بھی اہم حصہ ہے ۔یہ کمپنیاں قدیم کشمیر کی فن تعمیر اور طرز تعمیر سے جڑ ی ہوئی نایاب تصاویر کو اپنے خوبصورت کلینڈرز کے ذریعے منظر عام پر لانے میں کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔KHYBER CEMENTS نے 2026 کلینڈر میں جن تصاویر کو جگہ دی ہے ۔ان میں کشمیر سے جڑی ہوئی قدیم تواریخی مقامات اور تعمیرات ہیں ۔12 صفحات پر مشتمل عمدہ کاغذ اور اعلیٰ پرنٹنگ وال کلینڈر کے ہر صفحہ پر تواریخی جگہ کی نایاب فوٹوگراف اور اس کا مختصر تعارف دیا گیا ہے ۔ جنوری سے لے کر دسمبر تک جن مقامات کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔ان میں پاندریٹھن،الائوالدین پورہ نوہٹہ،پری ہاس پورہ،اونتی پورہ،ناگر نگر،نوشہرہ،کوہ ماران،شیر گڑھی،شنکرپورہ پٹن،شادی پورہ اوراندر پورہ شامل ہیں ۔سرکاری سطح پربھی محکمہ سیاحت ہر سال جموں وکشمیر کے سیاحتی مقامات ،دریا،راستےوغیرہ کلینڈر کے ذریعے منظر عام پر لاتا ہے ۔اس کے علاوہ یہاں پر قائم دینی،تعلیمی اور فلاحی ادارے اپنی سرگرمیوں کے مطابق سالانہ بنیادوں پر کلینڈر شائع کرتے ہیں جن پر مختلف تھیمزThemes کے تحت معلومات اور پیغامات درج ہوتے ہیں ۔
مجموعی طور پر وال کلینڈر ایک ایسا موثر ذریعہ ہے جس کے ذریعے کوئی بھی شخص یا ادارہ ماضی کی تاریخ و جغرافیہ ،تہذیب وتمدن ،کلچرل ورثہ،دینی پیغامات اور اخلاقیات کے اقوال نئی نسل تک پہنچا سکتا ہے۔