راقف مخدومی
جموں و کشمیر نے منشیات کی لت کے خلاف جنگ ہار دی ہے۔ جموں و کشمیر منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں سرِفہرست ہے۔ 13.5اکھ لوگ لت میں مبتلا ہیں، یعنی کل آبادی کا 8فیصد منشیات کی لت کا شکار ہے۔ بھارتی یونین ٹیریٹریوں میں جے اینڈ کے اس فہرست میں سب سے اوپر ہے۔ ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہم ’’اگر‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کر سکتے۔ ہماری زبان بدل چکی ہے اور اب ’’اگر نہیں کیا گیا‘‘ کہنا پڑتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ کچھ کیا جائے، ورنہ آنے والی نسلیں برباد ہو جائیں گی۔
چند سال پہلے منشیات کا عادی شخص ملنا مشکل تھا، لیکن اب یہ بہت عام ہو گیا ہے کہ آپ کے ساتھ چلتے ہوئے ایک منشیات کا عادی شخص ہو۔ پہلے منشیات کے عادی لوگ صرف رات کے اندھیرے میں نشہ کرتے تھے، اب وہ کھلے عام کرتے ہیں۔ منشیات کے عادی ہونے کا شرم ختم ہو چکا ہے۔ جب ان سے پوچھا جاتا ہے تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ’’ہم اپنے پیسوں سے منشیات خرید کر استعمال کرتے ہیں، آپ کو ہمیں روکنے کا کوئی حق نہیں۔‘‘ یہ الفاظ سن کر ایک شخص بے بس ہو جاتا ہے۔
منشیات کے عادی افراد کی عمر 17سے 75سال تک ہے۔ نہ صرف مرد بلکہ خواتین بھی اس لت میں برابر کی شریک ہیں۔ ایک بہت اہم سوال یہاں پوچھا جانا چاہیے کہ ’’منشیات اتنی آسانی سے دستیاب کیسے ہیں؟‘‘ نہ صرف دستیاب ہیں بلکہ اتنی بڑی مقدار میں کہ وہ دوسروں کو بھی دے سکتے ہیں۔ ان کے اپنے کوڈ ورڈز ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’بچاو یا‘‘ یعنی اگر تمہارے پاس کچھ ہے تو مجھے بھی دے دو، اور جب منشیات کے عادی لوگ کسی کو نشے میں دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں ’’یہ چو تیچ کارِتھ‘‘ یا ’’یہ چو لائن کارِتھ‘‘ یعنی اس نے ہیروئن استعمال کی ہے۔ ان کے اپنے اشاروں کی زبان ہے، جس سے وہ ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں تاکہ دوسرے نہ سمجھ سکیں۔
جموں و کشمیر یونین ٹیریٹریوں میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں سرِفہرست ہونے کے ساتھ ساتھ این ڈی پی ایس (NDPS) کے تحت درج کئے گئے مقدمات کی تعداد میں بھی سب سے آگے ہے۔ ریاستوں میں کیرالہ منشیات کی لت میں سرِفہرست ہے۔
این ڈی پی ایس کے تحت درج مقدمات کے اعداد و شمار جموں و کشمیر میںستمبر 2025تک جموں و کشمیر میں 1,342این ڈی پی ایس مقدمات درج کیے گئے، جن میں سے 1,305چارج شیٹ عدالت میں دائر کی گئیں۔ کشمیر وادی میں اکیلے تقریباً 1,000مقدمات درج ہوئے اور تقریباً 1,400افراد گرفتار کیے گئے۔ 2025 میں حکومتِ ہند نے راجیہ سبھا کو بتایا کہ 2023میں جموں و کشمیر میں 2,232این ڈی پی ایس مقدمات درج ہوئے جو یونین ٹیریٹریوں میں سب سے زیادہ ہیں۔ 2025میں 81جائیدادوں کو 16.64کروڑ روپے کی مالیت کے ساتھ ضبط کیا گیا اور پریوینشن آف الیکٹ ٹریفک ان این ڈی پی ایس ایکٹ (PITNDPS) کے تحت 215افراد کو حراست میں لیا گیا۔ 222ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کی گئی، جن میں سے 44 کو مسمار کر دیا گیا اور 1,350افراد فعال نگرانی میں ہیں۔
اتنی بڑی کوششوں کے باوجود منشیات اب بھی بہت آسانی سے دستیاب ہیں۔ خامی کو تلاش کرنا ضروری ہے۔ منشیات کے ڈیلروں کو عادیوں سے زیادہ سختی سے روکنا چاہیے۔ جب تک ڈیلروں کو نہ روکا جائے، لت کی سطح کم نہیں ہو سکتی۔ ہم کو سانپ کو اس کے سر سے پکڑنا چاہیے۔ ہم اس مقام پر نہیں ہیں جہاں درخت کی شاخیں کاٹنی ہیں بلکہ پورا درخت جڑ سے اکھاڑنا ہے اور کچھ بھی باقی نہ چھوڑنا ہے۔
2021 میں 160کلوگرام سے زیادہ ہیروئن ضبط کی گئی۔ 2023-2024میں سمگلنگ روکنے پر توجہ دی گئی اور کروڑوں روپے مالیت کی ہیروئن ضبط کی گئی۔ 2024کے آخر اور 2025کے شروع میں جموں پولیس نے بڑی کارروائی کی اور مختلف مقدمات میں 28کلوگرام سے زیادہ ہیروئن برآمد کی گئی جس کی مارکیٹ ویلیو 129کروڑ روپے سے زیادہ تھی۔ (2019-2021) کے درمیان نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے مطابق جموں و کشمیر میں تقریباً 400 کلوگرام ہیروئن ضبط کی گئی۔
جموں و کشمیر میں منشیات کے عادی افراد استعمال کرنے والی منشیات ہیروئن اب بھی منشیات کے عادی افراد کی پہلی پسند ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ یہ اتنی آسانی سے دستیاب کیسے ہے کہ ہر عادی شخص اس تک آسانی سے رسائی حاصل کر لیتا ہے اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ عادی افراد کو کبھی ہیروئن کی کمی نہیں پڑتی۔ انہیں بس پیسے چاہئیں۔ کشمیر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی منشیات میں کینابس (چرس) ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ چرس کو کشمیر میں ایک قسم کی روحانیت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے ،جس کی وجہ سے یہ بہت عام ہو گئی ہے۔ دیگر منشیات میں بوپرینورفائن، میتھاڈون، نیلٹریکسون، بوپرینورفائن اور نیلوکسون کا امتزاج، ٹرامادول کی گولیاں، پریگابالن اور کلونازیپم شامل ہیں۔ کرسٹل میتھ ایمفیٹامین (کرسٹل میتھ) بھی استعمال ہوتی ہے جو انتہائی لت لگانے والی منشیات میں سے ایک ہے۔
کچھ لوگ لت کی انتہا تک پہنچ چکے ہیں۔ وہ استعمال شدہ جرابیں، روٹی پر مائع پالش لگا کر کھاتے ہیں۔ سب سے گندی چیز ’’استعمال شدہ سینیٹری پیڈ‘‘ ہے۔ پیڈ کو پانی میں اُبال کر اس کا بھاپ سانس میں لیتے ہیں۔ میں نے ایک ایسے شخص سے بات کی جو یہ سب کرتا تھا۔ اس نے بڑے خوشی سے مجھے بتایا، سن کر میں حیران رہ گیا۔
منشیات کی لت کی وجوہات: جموں و کشمیر کی بات کریں تو منشیات کی لت کی سب سے بڑی وجہ ’’بے روزگاری‘‘ ہے۔ بڑھتی ہوئی بے روزگاری منشیات کی لت میں اضافے کی وجہ ہے۔ دیگر عوامل میں دوستوں کا دباؤ، دوستوں کا حلقہ، خاندانی تناؤ، ماحول، سماجی اثر، حیاتیاتی عوامل اور بچپن کا صدمہ شامل ہیں۔ خاندان ایک اہم کردار ادا کرتا ہے کہ کوئی شخص لت کا شکار ہو گا یا نہیں۔ غریب بستیوں (سلوم ایریاز) منشیات کی لت کے ہاٹ سپاٹ ہیں۔
منشیات کی لت کی نشانیاں: ہر چیز کی طرح منشیات کے عادی شخص میں بھی کچھ علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ ایک قسم کا نشہ یا ’’ہائی‘‘ محسوس کرنا، سرخ آنکھیں، خشک منہ، غیر معمولی اوقات میں شدید بھوک، توجہ کی کمی، کام میں دلچسپی کا خاتمہ، زیادہ چوکس رہنا، رویے میں تبدیلی، جارحیت، غلط فیصلے، وہم، شور برداشت نہ کر پانا، بے خوابی، آنکھوں کی غیر ارادی حرکت اور دل کی دھڑکن کا غیر منظم ہونا۔
یہ علامات مختلف منشیات کی ہیں۔ عام علامات میں غصے کے مسائل، رویے میں تبدیلی، کھانے کی عادات میں تبدیلی، سرخ آنکھیں، چکر آنا اور بے خوابی شامل ہیں۔
نتیجہ:منشیات کی لت اکثر موت کا باعث بنتی ہے۔ یہ گردوں پر حملہ کرتی ہے جو موت کی بڑی وجہ بنتی ہے۔ زیادہ مقدار لینے سے بھی موت ہو جاتی ہے۔ لت ’’ایک بار آزما کر دیکھتے ہیں‘‘ سے شروع ہوتی ہے اور موت پر ختم ہوتی ہے۔ جموں و کشمیر کے پاس اس بحران سے نمٹنے کے لیے جنگ کے قدم اٹھانے کے سوا کوئی راستہ نہیں، ورنہ ایک پوری نسل کھو دی جائے گی۔
(مضمون نگار قانون کے طالب علم اور انسانی حقوق کے کارکن ہیں)