سبدر شبیر
انسانی جسم میں آنکھوں کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ یہ صرف دیکھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ دل اور روح تک پہنچنے والا سب سے حساس راستہ بھی ہیں۔ اسی لئے اہل ِ دانش نے کہا ہے کہ آنکھیں جسم کا دروازہ ہیں۔ جو کچھ اس دروازے سے اندر داخل ہوتا ہے، وہ محض نظر تک محدود نہیں رہتا بلکہ آہستہ آہستہ دل، دماغ، کردار اور روح پر اپنے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اگر اس دروازے کی حفاظت کی جائے تو انسان باطنی سکون، پاکیزگی اور اخلاقی بلندی حاصل کرتا ہے اور اگر اس دروازے کو بدنگاہی کے لیے کھول دیا جائے تو روح بیمار اور دل بے چین ہو جاتا ہے۔بدنگاہی بظاہر ایک معمولی سا عمل محسوس ہوتی ہے۔ اکثر لوگ اسے ایک وقتی نظر یا بے ضرر تجسس سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ ایک ایسی خاموش بیماری ہے جو انسان کے اندر سرایت کر جاتی ہے۔ آنکھ جب حرام یا ناپسندیدہ مناظر کی عادی ہو جائے تو دل کی پاکیزگی متاثر ہونے لگتی ہے۔ دل جو کہ ایمان، احساس اور نیت کا مرکز ہے، آہستہ آہستہ سیاہ پڑنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بدنگاہی کا پہلا نقصان نظر آنے سے پہلے دل میں محسوس ہوتا ہے، اور دل کا بگاڑ پورے کردار کو بگاڑ دیتا ہے۔
اسلام سمیت تمام آسمانی تعلیمات میں نگاہ کی حفاظت پر خاص زور دیا گیا ہے۔ قرآنِ کریم میں مردوں اور عورتوں دونوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی پاکدامنی کی حفاظت کریں۔ اس حکم میں گہری حکمت پوشیدہ ہے، کیونکہ انسان کی زیادہ تر اخلاقی لغزشیں نگاہ کی بے احتیاطی سے ہی شروع ہوتی ہیں۔ ایک غلط نظر، پھر ایک خیال، پھر خواہش، اور آخرکار عمل۔ یوں ایک چھوٹی سی کوتاہی بڑے گناہ کی بنیاد بن جاتی ہے۔
بدنگاہی صرف گناہ ہی نہیں بلکہ ایک نفسیاتی مسئلہ بھی ہے۔ جو شخص اپنی نگاہ پر قابو نہیں رکھتا، اس کا ذہن ہر وقت منتشر رہتا ہے۔ اس کے خیالات بے قابو، خواہشات بے لگام اور دل بے سکون ہو جاتا ہے۔ وہ عبادت میں لذت محسوس نہیں کرتا، رشتوں میں خلوص باقی نہیں رہتا، اور تنہائی میں بےچینی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنی نظر کی حفاظت کرتا ہے، اس کے دل میں ایک خاص طرح کا سکون، وقار اور اعتماد پیدا ہو جاتا ہے۔
روحانی اعتبار سے بدنگاہی دل کی روشنی کو مدھم کر دیتی ہے۔ دل وہ آئینہ ہے جس میں حق اور باطل کی پہچان ہوتی ہے۔ جب اس آئینے پر گناہوں کی گرد جم جائے تو سچائی دھندلی ہو جاتی ہے۔ انسان پھر غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح سمجھنے کی صلاحیت کھونے لگتا ہے۔ یہی روحانی بیماری ہے، جو بظاہر نظر نہیں آتی مگر انسان کے اندر سے اسے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
آج کے دور میں بدنگاہی کے اسباب پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکے ہیں۔ میڈیا، سوشل نیٹ ورک، موبائل فون اور انٹرنیٹ نے آنکھوں کے سامنے ایک ایسا سیلاب کھڑا کر دیا ہے جس سے بچنا آسان نہیں رہا۔ ہر طرف بے حیائی، عریانی اور فتنہ انگیز مناظر عام ہو چکے ہیں۔ ایسے ماحول میں نگاہ کی حفاظت ایک بڑی جدوجہد بن گئی ہے، مگر یہی جدوجہد انسان کے کردار کو مضبوط بناتی ہے۔ جو شخص اس آزمائش میں خود کو بچا لیتا ہے، وہ واقعی مضبوط ایمان اور اعلیٰ اخلاق کا حامل ہوتا ہے۔
بدنگاہی کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ یہ انسان کو قناعت سے محروم کر دیتی ہے۔ جو آنکھ ہر وقت دوسروں کو دیکھنے میں لگی رہے، وہ اپنے حال پر راضی نہیں رہتی۔ دل میں حسرت، موازنہ اور ناشکری پیدا ہو جاتی ہے۔ انسان اپنی زندگی، اپنے رشتوں اور اپنی نعمتوں سے لطف اندوز نہیں ہو پاتا۔ اس کے برعکس نگاہ کی حفاظت انسان کو قناعت، شکر اور اندرونی خوشی عطا کرتی ہے۔خاندانی اور معاشرتی سطح پر بھی بدنگاہی کے منفی اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ ازدواجی زندگی میں بدنگاہی اعتماد کو کمزور کرتی ہے۔ جب انسان کی نظر باہر بھٹکتی رہے تو وہ اپنے شریکِ حیات کی قدر کھو بیٹھتا ہے، جس سے گھریلو سکون متاثر ہوتا ہے۔ معاشرے میں بدنگاہی فتنہ، بداعتمادی اور اخلاقی بگاڑ کو جنم دیتی ہے، جس کا انجام مجموعی زوال کی صورت میں نکلتا ہے۔نگاہ کی حفاظت صرف نظر نیچی رکھنے کا نام نہیں بلکہ دل کی تربیت بھی ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان کا دل پاک ہو اور اس کی خواہشات قابو میں ہوں۔ اس کے لیے چند عملی اقدامات ضروری ہیں: غیر ضروری مناظر سے اجتناب، تنہائی میں اللہ کی یاد، مفید مشاغل میں مشغول رہنا، اور اپنی صحبت کو نیک لوگوں تک محدود رکھنا۔ جب انسان اپنے ماحول اور معمولات کو درست کرتا ہے تو نگاہ کی حفاظت نسبتاً آسان ہو جاتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان خطا کا پتلا ہے۔ اگر کبھی لغزش ہو جائے تو مایوسی کے بجائے فوراً توبہ کرنی چاہیے۔ توبہ دل کو دوبارہ صاف کر دیتی ہے اور روح کو نئی زندگی بخشتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے، وہ نیت اور کوشش کو دیکھتا ہے۔ جو شخص سچے دل سے اپنی اصلاح چاہتا ہے، اس کے لیے راستے خود بخود آسان ہو جاتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ آنکھیں واقعی جسم کا دروازہ ہیں۔ اگر اس دروازے کی حفاظت کی جائے تو دل میں نور، روح میں سکون اور زندگی میں توازن پیدا ہوتا ہے۔ اور اگر اسے بدنگاہی کے لیے کھلا چھوڑ دیا جائے تو روح بیمار، دل بے چین اور زندگی بے سمت ہو جاتی ہے۔ کامیاب وہی ہے جو اپنی نگاہ کا محافظ بن جائے، کیونکہ جس نے اپنی نظر پر قابو پا لیا، اس نے دراصل اپنے دل اور اپنی تقدیر کو سنوار لیا۔