بلال احمد پرے
آج کل ہر طرف لفظ منشیات دیکھنے کو ملتا ہے ۔ اور چاروں اطراف سے نشہ مکتہ بھارت ابھیان کی مختلف ریلیاں دیکھنے کو ملتی ہے ۔ اسکولوں و کالجوں میں منشیات کے خلاف متعلق آگاہی پروگرام منعقد ہو رہے ہیں ۔ ہر طرف ’’نشہ کو نا، زندگی کو ہاں‘‘ اور ’’نشہ کو چھوڑو، زندگی کو جوڑو‘‘ کے نعرے سننے کو ملتی ہیں ۔ آخر یہ سب کیوں؟
دیکھا جائے تو منشیات کی لت نے سماج کو پوری طرح سے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جو انتہائی تشویش ناک صورتحال پیش کرتی ہے ۔ منشیات کا مطلب ہر وہ چیز ہے جو تھوڑی یا زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے نشہ پیدا کرے یا اعضائے جسمانی میں افسردگی کے علاوہ عقل میں فتور پیدا کرے یا بے حسی و مد ہوشی پیدا کرے، وہ سب اس میں شامل ہیں ۔ جیسے شراب، گانجہ، چرس، بھنگ، فکی، ہیروئن، افیون، کوکین، مارفین وغیرہ کے انجکشن و دیگر زہریلی کیمکلز قابل ذکر ہیں ۔
منشیات (Drugs) ہر اس اشیاء پر اطلاق کرتی ہے جس میں کسی بھی طرح کا نشہ پایا جائے خواہ یہ ٹھوس یا مائع کی حالت میں ہو ۔ موجودہ دور میں نشہ آور چیزوں کی اقسام کافی بڑھ چکی ہے ۔ منشیات میں ہر وہ شئے داخل ہے جس سے ہماری عقل میں فتور پیدا ہو جائے، ہمارا شعور بگڑ جائے، ہمارا جسمانی و نفسیاتی ڈھانچہ ٹوٹ جائے، ہمارا اخلاقی اقدار گِر جائے، ہماری بصیرت کمزور ہو جائے، یا ہماری مالی حالت کا ڈھانچہ گر کر برباد ہو جائے ۔یہ جان لینے والی نشیلی عادت زہریلی وائرس یا وبائی بیماری کی طرح تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ جس سے تمام عمر کے افراد شکار ہو چکے ہیں ۔ اس وقت منشیات کا مسئلہ ایک سنگین قومی المیہ بن کر ناقابلِ تسخیر کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ منشیات نہ صرف متاثرہ افراد کو تباہ کرتا ہے بلکہ یہ خاندانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے، اور ہماری برادریوں کے تانے بانے کو کمزور کر دیتا ہے ۔ اس وقت منشیات کی وباء سنگین مسائل میں سے سرفہرست ہے ۔
اس کے سدباب کے لئے مختلف قسم کی تدابیر کو اپنانے پر زور دیا جا رہا ہے – اس حرام کاروبار کی وجہ سے جو سماجی، اخلاقی، معاشی، جسمانی اور معاشرتی خرابیاں پیدا ہوئی ہے، اس سے ہمارے سماج کا ہر شہری بہ خوبی واقف ہے ۔
اسی سدّباب کی ایک کڑی کے طور پر جموں و کشمیر یو ٹی انتظامیہ نے حال ہی میں گورنرصاحب کی سرپرستی کے اندر منشیات سے پاک ’’سو روزہ نشہ مکتہ ابھیان‘‘ کے طور پر ایک نئی مہم کا آغاز کیا ہے جس میں منشیات مخالف آگاہی پروگرام منعقد ہو رہے ہیں ۔نشہ مکت جموں کشمیر ابھیان کے بینر تلے، گورنر انتظامیہ نے یوٹی سے اس لعنت کو ختم کرنے کا اجتماعی عہد کیا ہے ۔ کیونکہ ہمارے نوجوان جموں و کشمیر کا مستقبل ہیں ۔ ان کی توانائی کو تخلیقی صلاحیتوں، اختراعات اور قوم سازی میں استعمال کیا جانا چاہئے ۔ نشے کی تاریکی میں اس سے گم ہونے نہیں دینا چاہئے ۔ ہم سب کو مل کر ایک ایسا ماحول بنانا چاہئے، جہاں آگاہی، روک تھام اور بحالی کو اولین ترجیح دی جائے ۔نشہ والی چیزوں کو استعمال کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی تیار کردہ سخت عذاب کی وعید بتائی گئی ہے ۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ جیشان کا ایک شخص (جیشان یمن کا ایک قبیلہ ہے) آیا اور رسول اللہؐ سے مکئی کے بنے اس مشروب کے بارے میں پوچھا جسے وہ اپنے ملک میں پیتے تھے اور اسے ’’ مزر ‘‘کہتے تھے۔ نبی اکرم ؐ نے پوچھا، کیا وہ نشہ لاتا ہے؟ وہ بولا، جی ہاں، رسول اللہ نے فرمایا، ’’كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ‘‘
’’ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ طے کر دیا ہے کہ جو نشہ لانے والی چیز پیئے گا تو اللہ تعالیٰ اسے ’’طینۃ الخبال‘‘ پلائے گا ۔ لوگوں نے عرض کیا: یہ ’’ طینۃ الخبال ‘‘ کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا،’’جہنمیوں کا پسینہ، یا فرمایا ،’’جہنمیوں کا مواد۔‘‘ (سنن نسائی)۔اسی طرح ہمارے یہاں جموں و کشمیر میں اکثر دیہاتوں میں لوگ خشخاش (poppy) اور بھنگ (canabis) کی کاشت کرتے ہیں ۔ جس کے طبعی فائدے تو ہیں لیکن اس کی بہ آسانی دستیابی سے ہر محلے میں اب نوجوان بُری طرح سے متاثر ہو چکے ہیں ۔ ایک زمانے میں خشخاش کی کاشت کی اجازت ہوا کرتی تھی ۔ لیکن اب محکمہ مال نے بھی اس سے غیر قانونی طور پر کاشت کرنے پر پابندی لگائی ہے اور پولیس کی طرف سے اس کی کاشت کرنے والوں کے خلاف باضابطہ طور پر ایف آئی آر درج ہو رہے ہیں ۔ کیونکہ یہ دونوں نشہ پیدا کرتے ہیں اور دونوں کی کاشت اور استعمال کرنا سراسر حرام ہے ۔ ایسے افراد کو طینۃ الخبال یعنی جہنمیوں کا پسینہ یا جہنمیوں کا مواد پلایا جائے گا ۔
منشیات میں ملوث افراد کو خون کی کمی، چہرے کی زردی، جسمانی کمزوری، بیماری کا مقابلہ کرنے کی طاقت ختم ہونا ( Antibodies)، بھوک کے ضائل ہونے کے ساتھ ساتھ گردے کا بے کار ہونا، ایڈز جیسی جان لیوا بیماری کا شکار ہونا جیسے طبعی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ایسے افراد کے ہاں سماجی و اقتصادی زندگی تباہ و برباد ہو کر رہ جاتی ہے ۔ منشیات پر رقم خرچ کرنے سے چوری و ڈکیتی اور قتل و غارت گری جیسے بڑے جرائم بھی ہو سکتے ہیں ۔ منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ روکنے کے حوالے سے پولیس کی صلاحیت میں روز بہ روز اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور منشیات کے خلاف جنگ (War on Drugs) ہر طرف جاری ہے ۔ جو واقعی قابلِ تعریف کام ہیں ۔خلاصہ کلام یہی ہے کہ منشیات کی دلدل ہماری زندگی کے پیہہ کے لیے ایک زبردست خطرہ ہے ۔ اور یہ ضروری ہے کہ اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہم سب مل کر اپنی پوری قوت کے ساتھ آگے آئیں ۔ ہمیں بھی چاہیے کہ سماج کے تئیں ایک فکر مند شہری کے طور پر اپنا منفرد کردار ادا کریں ۔ تب جا کر ہم منشیات کی وباء سے بچ سکتے ہیں ۔
رابطہ۔ 9858109109