خراج عقیدت
شکیل آزاد
جموں و کشمیر وہ سرزمین ہے جہاں علم، ادب اور روحانیت نے صدیوں سے انسان دوستی، صداقت اور فکری بالیدگی کی آبیاری کی ہے۔ یہی وہ مقدس دھرتی ہے جہاں شاردا پیٹھ کی علمی روایت نے شعور کو جِلا بخشی، جہاں لل دید اور شیخ نورالدین ولیؒ نے محبت، رواداری اور حق گوئی کا پیغام عام کیا، جہاں مَمٹھ ابھی نوگپت، مہجورؔ اور عبدالاحد آزادؔ جیسے عظیم اہلِ قلم نے فکر و فن کے چراغ روشن کئے۔ نثار پیرزادہ اسی علمی و ادبی تسلسل کا محض حصہ ہی نہیں تھے بلکہ انہوں نے انہی اصولوں کی آبیاری کی، انہیں اپنی عملی زندگی میں برتا اور انہی کو اپنا نقشِ راہ بنا کر جموں و کشمیر کی صحافت میں صداقت، دیانت اور وقار کی ایک روشن روایت قائم کی۔
نثار پیرزادہ کی زندگی مسلسل جدوجہد، صبر اور اصول پسندی کی عملی تصویر تھی۔ انہوں نے ایسے عہد میں صحافت کا آغاز کیا جب وسائل کی کمی، حالات کی سختی اور سچ لکھنے کی قیمت ادا کرنی پڑتی تھی۔ بلیک اینڈ وائٹ صحافت کے دور سے لے کر جدید ڈیجیٹل زمانے تک، انہوں نے قلم کی حرمت، خبر کی دیانت اور صحافی کی ذمہ داری کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ ان کے نزدیک صحافت محض روزگار نہیں بلکہ ایک مقدس امانت تھی، جس کے ذریعے سماج کے بے آواز طبقوں کو آواز دی جاتی ہے۔ترال جیسے دور افتادہ قصبے سے تعلق رکھنے والے نثار پیرزادہ نے وادیٔ کشمیر میں صحافت کے فروغ کے لیے خاموش مگر مسلسل محنت کی۔ انہوں نے اردو صحافت میں اپنی شناخت ہفت روزہ رہنمائے کشمیر کے مدیر کی حیثیت سے قائم کی، جو سینئر براڈکاسٹر اور سابق ڈائریکٹر دوردرشن اشرف ساحل کی ادارت میں شائع ہوتا تھا۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے انہوں نے سماجی، سیاسی اور عوامی مسائل کو ذمہ دارانہ انداز میں اجاگر کیا۔بعد ازاں انہوں نے اردو ہفت روزہ کارگل نمبر کے ساتھ کام کیا، جہاں لداخ کے دور دراز اور نظرانداز شدہ علاقوں کے مسائل کو نہ صرف جگہ دی بلکہ وہاں کے عوام کے احساسات اور مشکلات کو مرکزی دھارے تک پہنچایا۔ یہ ان کی صحافتی بصیرت کا ثبوت تھا کہ وہ جغرافیائی دوری کو خبر کی اہمیت میں رکاوٹ نہیں بننے دیتے تھے۔
صحافت کے میدان میں ان کی خدمات صرف تحریر تک محدود نہ رہیں۔ انہوں نے سینئر صحافی ظہور شاعر کے ساتھ مل کر نیوز ٹوڈے کے نام سے ایک خبر رساں ادارہ قائم کیا، جس نے زمینی سطح کی صحافت، عوامی مسائل اور علاقائی آوازوں کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دونوں میں ان کی موجودگی وقار، توازن اور اعتبار کی علامت سمجھی جاتی تھی۔تعلیمی اعتبار سے بھی نثار پیرزادہ ایک روشن مثال تھے۔ وہ اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی (IGNOU) کے تحت کشمیر یونیورسٹی میں شروع ہونے والے صحافت و ابلاغِ عامہ (JMC) کے پہلے بیچ کا حصہ رہے۔ ان کے ہم جماعتوں میں پرویز سجاد، احمد کشمیری اور شبنم تلگامی جیسے معتبر نام شامل تھے۔ ناصر مرزا، شوکت شفیع اور سیدہ افشانہ جیسے ممتاز اساتذہ کی رہنمائی نے ان کی پیشہ ورانہ شخصیت کو فکری گہرائی اور اخلاقی استحکام عطا کیا۔
نثار پیرزادہ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کا خلوص، انکسار اور عوامی روابط تھے۔ وہ نوجوان صحافیوں کے لیے ایک مشفق رہنما اور مخلص سرپرست کی حیثیت رکھتے تھے۔ بے شمار نوآموز رپورٹرز نے ان سے نہ صرف پیشہ ورانہ رہنمائی حاصل کی بلکہ صحافت میں اخلاقیات، برداشت اور ذمہ داری کا شعور بھی سیکھا۔ ان کے نزدیک کامیاب صحافی وہی ہے جو سچ کے ساتھ کھڑا رہے اور عوام کے اعتماد کی حفاظت کرے۔آج نثار پیرزادہ ہم میں موجود نہیں، مگر ان کی جدوجہد، ان کی دیانت اور ان کی صحافتی وراثت ہمیشہ زندہ رہے گی۔ ان کا انتقال جموں و کشمیر کی صحافت کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ وہ ایک ایسے دور کی نمائندگی کرتے تھے جہاں خبر کو امانت اور قلم کو عبادت سمجھا جاتا تھا۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو مغفرتِ کاملہ عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب کرے اور ان کے اہلِ خانہ، دوستوں اور شاگردوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ نثار پیرزادہ جیسے لوگ رخصت تو ہو جاتے ہیں، مگر اپنے کردار اور کام کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔