ریشی اعجاز
ریاست کی تہذیبی شناخت، فکری بالیدگی اور سماجی شعور کا سب سے مضبوط ستون اس کی ادبی روایت ہوتی ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ آج ریاست کی نئی نسل آہستہ آہستہ ادب، کتاب اور مطالعے سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ یہ صرف ذوق کی کمی نہیں بلکہ ایک گہرا فکری، تعلیمی اور تہذیبی بحران ہے، جو مستقبل میں ہمارے اجتماعی شعور کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
عدم توجہی کے اسباب :نئی نسل کی ادبیات سے دوری کے کئی اسباب ہیں، جن میں سب سے نمایاں ڈیجیٹل دنیا کی یلغار ہے۔ سوشل میڈیا، مختصر ویڈیوز اور سطحی تفریح نے نوجوان ذہن کو فوری لذت کا عادی بنا دیا ہے، جہاں گہرے مطالعے اور فکری محنت کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔دوسرا اہم سبب تعلیمی نظام کا امتحان مرکز ہونا ہے۔ نصاب میں ادب کو محض نمبر حاصل کرنے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے، نہ کہ شخصیت سازی اور فکری تربیت کا وسیلہ۔ طلبہ غالب، اقبال، فراق اور فیض کو پڑھتے تو ہیں، مگر سمجھتے نہیں۔ یاد کرتے ہیں، محسوس نہیں کرتے۔تیسرا سبب گھریلو اور سماجی ماحول ہے، جہاں کتاب اب ضرورت نہیں رہی بلکہ ایک اضافی شے سمجھی جاتی ہے۔ والدین خود مطالعے سے دور ہیں، تو نئی نسل کو کتاب سے جوڑنے کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
ادب سے دوری کے نتائج :ادب سے دوری کا سب سے خطرناک نتیجہ سوچنے کی صلاحیت کا زوال ہے۔ ادب انسان کو سوال کرنا، برداشت سکھاتا اور مختلف نقطۂ نظر کو سمجھنے کی تربیت دیتا ہے۔ جب نئی نسل ادب سے کٹ جاتی ہے تو اس میں عدم برداشت، شدت پسندی اور سطحی سوچ پروان چڑھتی ہے۔ادب صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ تہذیب کی روح ہے۔ نئی نسل کا ادب سے رشتہ ٹوٹنے کا مطلب اپنی تاریخ، ثقافت اور شناخت سے دوری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے نوجوان کو نہ اپنی زبان پر عبور ہے اور نہ اپنے ادبی ورثے کا شعور۔
ازالے کی صورتیں:اس فکری المیے کا ازالہ ناممکن نہیں، بشرطیکہ سنجیدہ اور مشترکہ کوشش کی جائے۔
تعلیمی اداروں میں ادبی ماحول کی بحالی:اسکولوں اور کالجوں میں ادبی نشستیں، مباحثے، مشاعرے اور کتاب بینی کے مقابلے منعقد کیے جائیں۔ ادب کو خوف نہیں، شوق کے ساتھ پڑھایا جائے۔
نصاب میں عصری اور مقامی ادب کی شمولیت :نئی نسل کو اپنے عہد اور ماحول سے جڑے ادیبوں اور تخلیقات سے روشناس کرانا ناگزیر ہے تاکہ ادب اجنبی نہ لگے۔
ڈیجیٹل ادب کا مثبت استعمال:سوشل میڈیا کو ادب دشمن سمجھنے کے بجائے اسے ادب دوست بنایا جائے۔ آن لائن ادبی صفحات، آڈیو بکس اور پوڈکاسٹس نئی نسل کو دوبارہ ادب کی طرف لا سکتے ہیں۔
گھریلو سطح پر مطالعے کی روایت:والدین خود کتاب سے دوستی کریں، بچوں کو تحفے میں کتاب دیں، اور گھر میں مطالعے کا ماحول پیدا کریں۔
ریاستی اور ادبی اداروں کا کردار:ادبی اکادمیوں، ثقافتی اداروں اور حکومت کو نوجوانوں کے لیے ادبی پروگرام، ورکشاپس اور اسکالرشپس کا اہتمام کرنا چاہیے۔
نتیجہ :ادب سے بے رخی محض ایک ادبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی خطرہ ہے۔ اگر نئی نسل کو ادب سے جوڑنے کی فوری اور مؤثر کوشش نہ کی گئی تو ہم ایک ایسی نسل تیار کریں گے جو معلومات تو رکھتی ہو، مگر حکمت، شعور اور انسانی قدروں سے محروم ہو۔اب بھی وقت ہے کہ ہم کتاب کو دوبارہ زندگی کا حصہ بنائیں، کیونکہ قومیں اس وقت مرتی نہیں جب ان کے جسم کمزور ہوں،بلکہ اس وقت زوال کا شکار ہوتی ہیں جب ان کی فکر مر جائے۔
( مدرس گورنمنٹ مڈل اسکول کانٹھ گنڈ شوانگس )
رابطہ ۔6006163519
[email protected]