راجہ ارشاد احمد
گاندربل ضلع کے وانگت علاقے میں بلند پایہ روحانی پیشوا میاں بشیر احمد لاروی رحمت اللہ علیہ کا پہلا یوم وصال بابا نگری وانگت میں نہایت ہی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا جہاں ہزاروں عقیدت مندوں نے درگاہ پر حاضری دی اور خصوصی دعائوں میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر وہاں رات بھر شب خوانی، تلاوت قرآن پاک، ختمات الامعظمات اور درود اذکار کی مجالس آراستہ ہوئیں اور علمائے کرام نے اولیا ئے کرام کی زندگی اور انکی دینی خدمات پر روشنی ڈالی جبکہ موجودہ سجادہ نشین میاں الطاف احمد نظامی نے اختتامی تقریب میں خصوصی دعائیں کرتے ہوئے زائرین سے تلقین کی کہ وہ قرآن و حدیث اور اولیاۓ کرام کے نقش و قدم پر چل کر اپنی دنیا و آخرت سنواریں ۔میاں بشیر احمد لاروی کو وفات پائے ایک سال گزر چکا ہے۔سال 2021 کی اگست 14 کو بابانگری وانگت میں ان کا انتقال ہوا تھا۔ میاں بشیر احمد لاروی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔انہوں نے سیاست میں کامیابی کے جھنڈے گاڑھے اور سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے اسلام کی تعلیمات اور پیروی کرنے میں اپنی زندگی کے آخری ایام وقف کردیئے ۔
میاں بشیر احمد لاروی وسطی ضلع گاندربل کے علاقہ کنگن سے ملحقہ بابانگری وانگت میں پیدا ہوئے تھے۔ان کی ابتدائی تعلیم کا بندوبست گھر میں ہی کیا گیا، جس کے لئے ضلع راجوری کے علاقہ بدھل سے تعلق رکھنے والے مولوی محمد عبداللہ چچی ،جن کو دربار بابا جی صاحبؒسے بڑی عقیدت تھی کی خدمت حاصل کی گئی۔مولوی محمد عبداللہ چچی کو اردو، فارسی اور عربی زبانوں پر عبور حاصل تھا ۔انہوں نے میاں بشیر احمد لاروی کی ابتدائی تعلیم کا سلسلہ شروع کردیا۔مکتب سے فارغ ہوکر مروجہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے گورنمنٹ پرائمری سکول وانگت میں داخل کئے گئے۔دینی تعلیم آپ نے مظفرآباد کے مولوی فضل الرحمن، گاندربل کے علاقہ ولی وار کے مولوی عبدالقدوس اور کنگن کے مضافاتی علاقہ چھترگل کے مولوی محمد ابراہیم سے حاصل کی۔سال 1931/32 میں آپ نے سیاست میں دلچسپی لینی شروع کردی۔ اگرچہ اس وقت آپ کی عمر صرف دس سال کی ہی تھی جب آپ اپنے پھوپی زاد بھائی میاں لعل الدین عرف لالہ صاحب کے ہمراہ سرینگر جایا کرتے تھے، جہاں پائین شہر میں مرحوم شیخ محمد عبداللہ کے قائم کردہ ریڈینگ روم میں اکثر بیشتر بیٹھ کر سیاست میں حصہ لینے لگے۔ سال 1942 میں پونچھ کے علاقہ لسانہ کے چودھری غلام حسین لسانوی کی چھوٹی صاحبزادی غلام مریم سے ازدواجی زندگی میں بندھ گئے۔شادی کی تقریب نہایت سادگی سے انجام دی گئی۔میاں بشیر احمد لاروی کو سال 1967میں حلقہ انتخاب کنگن سے کانگریس کی جانب سے منڈیٹ دیا گیا، جہاں سے وہ بلا مقابلہ منتخب ہوگئےجبکہ 1971 میں آپ کی اعلی ذہانت، بلند کرداراور عوامی رتبے کی بدولت اُنہیں ریاستی کابینہ میں نائب وزیر کے طور پر شامل کیا گیا۔انہوں نے 1967،1972،1977میں لگاتار کنگن کی نمائیندگی کی اور ان کو کئی مرتبہ وزارت منصب پر فائز کیا گیا، جس دوران بغیر ملت اور مذہب کے عوام کی خدمت میں پیش پیش رہے۔سال 1987 میں میاں بشیر احمد لاروی سیاست سے مکمل طور پر کنارہ کش ہوئے اور دین اسلام کی خدمت میں جٹ گئے۔ سرگرم سیاست سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد میاں بشیر احمد صاحب پوری یکسوئی کے ساتھ عبادت اور ریاضت میں محو ہو گئے۔وانگت بابانگری میں واقع درگاہ پر مریدوں سے ملنا، ان کا دکھ درد سننا اُنہیںدین اسلام کی دعوت دینا، مذہبی معاملات میں تربیت کرنا اور سلسلہ کے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کی تلقین کرنا ان کا روزمرہ کا کام بن گیا۔
مریدوں، عقیدت مندوں کے لئے دعا کرنا، روحانیت سے علاج کرنا، تعویز دینے کے ساتھ ساتھ زیارت شریف میں موجود لنگر کے انتظام پر نگرانی رکھنا اور درگاہ پر آنے والے مہمانوں اور زائرین کے لئے طعام اور قیام کے دوران ان کیلئے سہولیات میسر رکھنا آپ کے معمولات بن گئے۔ اس کے علاوہ آپ ریاست بھر میں پھیلے ہوئے مریدوں اور عقیدت مندوں کی دعوت پر ان کے علاقوں میں جاتے ۔عقیدت مندوں کے گھروں میں قیام کے دوران دربار لگا کردین اور اسلام کی تبلیغ کرتے۔ دورافتادہ علاقوں میں دین کے فروغ کے لئے نئی نئی مساجد کا سنگ بنیا در رکھتے اور پھر ان کی تکمیل میں مالی معاونت کرتے ، مقامی طور پر سیرت کانفرنس منعقد کراتے اور ان کی کامیابی کے لئے ہرممکن کوشش کیا کرتے تھے۔دور دور سے علمائے کرام کو در بارعالیہ پر مدعو کرتے اور پھر دین اور سلسلہ کے بارے میں اجتماعات منعقد ہوتے ،جن میں اللہ اور رسول ﷺ کی حمد ثنا ہوتی ۔میاں بشیر احمد صاحب نے عوام کو دین اور شریعت کی صحیح تعلیمات سے بہرہ مند کرنے کے لئے کنگن میں کل ہند سیرت کانفرنس کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کی کامیابی کے لئے زور دار مہم شروع کی۔18 اگست 1989کو کنگن سے ملحقہ مرگنڈ میں موجود میدان میں نماز ظہر کے بعد سہ روزہ سیرتِ کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا گیا ،جس میں ہزاروں کی تعداد میں عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم شریک ہوئے۔سہ روزہ سیرتِ کانفرنس کی کامیابی کے بعد پوری طرح دینی تبلیغ میں پیش پیش رہے۔سال 1985 میں میاں بشیر احمد لاروی نےحج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔میاں بشیر احمد صاحب کی دعاؤں اور روحانیات سے ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند اور مرید فیضیاب ہوئے۔ 26 جنوری 2008 کو سماج میں ان کی بہترین خدمات کے اعتراف میں ان کوحکومت ہندوستان کی جانب سے بڑے اعزاز سے نوازتے ہوئے پدم بھوشن سے سرفراز کیا گیا۔14اگست 2021 کو میاں بشیر احمد لاروی نے اپنی رہائش گاہ واقع بابانگری وانگت میں آخری سانس لی اور اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ان کی انتقال کی خبر سن کر ان کے عقیدت مند، مریدوں اور ہر مذہب سے تعلق منسلک چاہنے والوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ان کی نماز جنازہ میں شرکت کیلئے جموں و کشمیر کے کونے کونے سے بابانگری وانگت پہنچ کر ان کے نماز جنازہ میں شریک ہوا۔ان کی نماز جنازہ ان کے بڑے فرزند میاں سرفراز احمد نے ادا کی، جس میں نیشنل کانفرنس کے صدر ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ سمیت دیگر متعدد سیاسی،مذہبی، سماجی شخصیات نے شرکت کی۔
میاں بشیر احمد لارویؒکو وفات پائے ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن اس کے باوجود بھی ان کے عقیدت مندوں اور مریدوں کی چاہت کم نہیں ہوئی ہے۔ لوگ جوق در جوق بابانگری وانگت دربار عالیہ پر حاضری دیتے ہوئے اپنی مرادیں حاصل کررہے ہیں ۔