فکر انگیز
مومن فیاض احمد غلام مصطفی
آج کا انسان عجیب پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے۔ کہیں پٹرول کی قلت ہے، کہیں گیس کی کمی، کہیں مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ ہر طرف شکایتوں کا بازار گرم ہے، ہر شخص بے چینی اور اضطراب کا شکار نظر آتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب صرف حالات کا نتیجہ ہے یا اس کے پیچھے ہمارے اپنے اعمال کا بھی کوئی دخل ہے؟
ہم ذرا اپنے گریبان میں جھانکیں تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہم میں سے کتنے ہی لوگ دوسروں کے حقوق پامال کر چکے ہیں۔ کسی نے ناپ تول میں کمی کی، کسی نے جھوٹ بول کر فائدہ اٹھایا، کسی نے رشوت لی اور کسی نے کسی غریب کا حق مار لیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ تو بے حیائی کے ساتھ ان غلط کاموں کا ذکر فخر سے کرتے ہیں، جیسے یہ کوئی کارنامہ ہو۔حالانکہ قرآن مجید ہمیں واضح طور پر متنبہ کرتا ہے:’’خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا ہے ان اعمال کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائے۔‘‘(سورۃ الروم ۔ 41)۔یہ آیت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے والی بہت سی مشکلات اور مصیبتیں دراصل ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
اسی طرح نبی کریمؐ نے فرمایا:’’جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘(صحیح مسلم)
یہ حدیث ہمیں دیانت داری اور سچائی کی اہمیت بتاتی ہے۔ آج اگر ہم دھوکہ، فریب اور ناانصافی کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں، تو پھر سکون کیسے حاصل ہو سکتا ہے؟
ہم پٹرول اور گیس کی کمی پر پریشان ہیں، لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہم نے کتنے لوگوں کا حق مارا ہے؟ ہم مہنگائی کا رونا روتے ہیں، مگر کیا ہم نے کبھی اپنے اعمال کا حساب کیا؟ جب معاشرے میں بے ایمانی، ظلم اور حقوق العباد کی پامالی عام ہو جائے تو پھر برکت اُٹھ جاتی ہے اور پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں۔
یاد رکھئے! ایک حقیقت ایسی ہے جس میں کوئی شک نہیں — اور وہ ہے موت اور قبر۔ یہ ایک یقینی انجام ہے جس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ دنیا کی پریشانیاں عارضی ہیں، مگر آخرت کا حساب ہمیشہ کے لیے ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’خبردار! دلوں کا اطمینان تو صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔‘‘(سورۃ الرعد۔ 28)۔سجدہ وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنے ربّ کے سب سے قریب ہوتا ہے۔ نبی کریمؐ نے فرمایا:’’بندہ اپنے ربّ کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے۔‘‘(صحیح مسلم)
لہٰذا اگر ہم واقعی سکون چاہتے ہیں، اگر ہم اپنی پریشانیوں کا حل چاہتے ہیں تو ہمیں سجدوں کی طرف لوٹنا ہوگا، اپنے گناہوں سے توبہ کرنی ہوگی اور سب سے بڑھ کر دوسروں کے حقوق ادا کرنے ہوں گے۔آج ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم صرف شکایتیں کریں گے یا اپنے اعمال کو درست کریں گے۔ کیونکہ کل جب ہم قبر میں ہوں گے، تو نہ پٹرول کام آئے گا، نہ گیس، نہ دولت — صرف ہمارے اعمال، ہماری نمازیں اور ہمارے سجدے ہی ہمارے کام آئیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں سچی توبہ کی توفیق دے، حقوق العباد ادا کرنے کی ہمت عطا فرمائے اور ہمیں سجدوں میں حقیقی سکون نصیب کرے۔ آمین
(رابطہ۔9890476581)
[email protected]