رئیس یاسین
آج کل کے اس دور میںہمارے طالب علم کی روز مرہ کی زندگی جن حالات اور جس ماحول میں گذر رہی ہے،اُس سے وہ فکری پستی کا شکار ہوتا جارہا ہے۔معاشرے میں مادیت پرستی کی بالادستی کو دیکھ کرہمارا طالب علم جہاں پڑھائی کے حصول کے بنیادی مقصداور زندگی گذارنے کے صحیح قوائد و ضوابط سے دور ہوتا جا رہا ہے تووہیںوہ پڑھائی کا حصول بھی محض نوکری کے لئے ہی کرتا ہے ۔موجودہ نظام تعلیم میںتو نوجوان طلبا کو ڈگریاں ملتی ہیں ۔لیکن ان ڈگریوں کے حصول دوران ان نوجوانوںکو دو چیزوں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے ۔ ایک طرف اپنے ہم جماعت کے ساتھ مقابلہ تو دوسری جانب اخلاقی طور پر اپنے نفس کا سامنا ۔ظاہر ہے کہ انسان کی صحبت جن لوگوں سے ہو گی،اُن کی صحبت کا اثر اُس پر ضرور پڑتا ہے ،جو انسان اپنے سے نیک لوگوں کی صحبت میں رہے تو وہ اچھائی کی طرف راغب ہو جائے گا ۔ اس کے برعکس اگر غلط صحبت میں رہا تو ممکن ہے کہ اُسے بہت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑےگا۔ بغور دیکھا جائے تو موجودہ دور کے تعلیمی اداروں میں ہمارے نوجوان نسل کے ذہنوں میں زیادہ تر دُنیوی ومادہ پرستی کا درس ملتا ہے۔جس کی باعث ایک طالب علم اپنی دینی تعلیمات سے محروم رہتا ہےاور پھر اپنے معبود برحق سے دور ہوجاتا ہے ۔یہ ایک نہایت اہم مسئلہ ہے کہ اس نوجوان میں دین و دنیا کا توازن کیسے برقرار رکھا جائے، جس سے وہ اپنی تعلیم بھی اچھی طرح برقرار رکھے اور اپنے قوم و ملت اور ملک سے اپنا رشتہ اچھی طرح جوڑ سکے۔
بعض ماہرین کی رائے ہے کہ موجودہ دورکےزیادہ تر تعلیمی ادارے قوم اور سماج کے نوجوانوں کے بگاڑنے کے اصل سبب ہیں۔سید سعدی فرماتےہیں کہ’’ اگر کسی قوم کو بغیر ہتھیار کے شکست دینی ہو تو اس قوم کے نوجوانوں میں فحاشی عام کردوں‘‘۔بغور دیکھا جائے تو فحاشی انہی تعلیمی اداروں کے ذریعے پھلتی اور پھولتی ہے۔ سکولوں ،کالجو اور یونیورسٹیوں میں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان ایک ایسا ماحول فراہم ہوجاتا ہے جس کے ذریعے وہ ایک فتنہ میں پھنس جاتے ہیں ۔ایک عورت کا غیر محرم مرد کے ساتھ تنہائی میں بیٹھنا بہت زیادہ خطرناک ہوتا ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کافرمان ہے: ‘’’کوئی مرد کسی عورت سے جب تنہائی میں ملتا ہے تو تیسرا( شیطان)وہاں موجود رہتا ہے‘‘۔لیکن ان تعلیمی اداروں میں لڑکا اور لڑکی نہ صرف یہ کہ آسانی کے ساتھ مل بیٹھ کر باتیں کرسکتے ہیں بلکہ بغیر کسی کھٹکے ایک ہی ڈریس میں ایک ساتھ بیٹھ سکتےہیں۔جس کے بارے میں حضرت عمر ؓ فرمایا کرتے تھے کہ اگر دو بوسیدہ ہڈیاں ایک دوسرے کے قریب رکھ دی جائیں تو وہ بھی اکٹھا ہونے کی کوشش کریں گی ۔یعنی بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت بھی بے حیائی اور بے شرمی کے مرتکب ہو جائیں گے ۔تو ان حالات میں ایک نوجوان طالب علم کو روحانی طور پر بہت زیادہ نقصان پہنچتاہے ۔جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان تعلیمی اداروں کا نظام تعلیم اہل ِکلیسائی ہے،جن میںطالب علم کو ڈگریاں ملتی ہیں،لیکن وہ اُسے وہ چیز نہیں مل پاتی جو اُسے دنیا میں ایک اچھا مقام و مرتبہ دلاتی ۔مسلمان طالب علم تو اس تعلیمی نظام میں اپنی میراث قرآن و سنت سے بہت زیادہ دور ہوتا جا رہا ہے۔ اگرچہ وہ ان اداروں سےڈگریاں حاصل کرلیتا ہے لیکن وہ اپنی زندگی کا حقیقی مقصد بھول بیٹھتا ہے، آخرت کی فکر فراموش کرتا ہے۔ اخلاقیات سے دور ہوجاتاہے، اسی لئے اقبال نے کہا تھا؎
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا لا الہ الا الله
ان تعلیمی اداروں میں طالب علموں میں اخلاقی بگاڑ پیدا ہونے سے وہ اپنے مقصدِ حیات سےمحرو م ہوجاتے ہیں۔وہ اپنی زندگی محض اس دوڑ میںلگا دیتے ہیں، کسی نہ کسی طرح اچھی نوکری مل جائے۔ اس دوڑ میں وہ قوم کے نوکر بن تو جاتے ہیں لیکن وہ قوم کے رہبر نہیں بن پاتےاور نہ ہی قوم و ملت ٖ کی فلاح و بھلائی کے کام آتے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔’’میں نےجِن و انس کو پیدا کیا تاکہ وہ میری عبادت کرے‘‘ اور ایک جگہ فرمایا کہ’’فلاح پاگئے وہ جنہوں نے پاکیزگی اختیار کی ‘‘۔تو اللہ تعالیٰ کے سامنے کامیاب وہ ہے جس نے اپنے ربّ کو راضی کیا ۔لیکن یہاں اس کے برعکس ہو رہا ہے ۔کامیابی کا معیار کچھ اور ہے۔تعلیمی میدان میں کامیابی کا مقصد صرف اتنارہا ہے کہ طالب علم اپنے خواب پورا کرسکے۔نہ کہ وہ مقاصد پوراکریں جن میں خدا کی رضا حاصل ہو۔ جب یہی جوان اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اپنے آپ کو کوستا ہے اور پریشانی میں مبتلا رہتا ہے ۔اور اگر کامیاب ہو جاتا ہے تو اپنے آپ کو سب سے چالاک ،سب سےاعلیٰ اور سب سے اونچا سمجھتا ہے۔گویا یہ کامیابی بھی اُسے حقیقی مقاصد سے دور رکھتی ہے۔ اگر یہ کامیاب ہو تا تو اللہ کا شکر ادا کرتا، اور اگر ناکام رہتا تو صبر کرتا ،لیکن یہ فکر و فہم اُسے تبھی مل سکتا، جب یہ قرآن مجید کا بھی طالب علم ہوتا ۔جبکہ اُس کے یونیورسٹی نصاب میں صرف یہ سکھایا جاتا ہے کہ grades کیسے لانے ہیں، یہ نہیں پڑھایا جاتا ہے کہ حقیقی مقصد زندگی کیا ہے ۔ بقول اقبال؎
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
اس شعر میں علامہ نے دور جدید کے مدرسوں میں پڑھنے والے ان طالب علموں کو جو اہل مغرب کے افکار و خیالات اور تہذیب و ثقافت کا شکار ہو چکے ہیں ،کے لئےکہا ہے کہ تم ایک ایسے سمندر کی مانند ہو، جس کی لہروں میں کوئی تڑپ اور بے قراری نظر نہیں آتی، میری دعا ہے کہ خدا تمہاری زندگی کے سمندر کو کسی طوفان سے آشنا کر دے یعنی تمہارے اندر صحیح زندگی، انسانیت اور صحیح مسلمانی کا جذبہ اس حد تک پیدا ہو جائے جیسا کہ سمندر کے طوفان میں ہوتا ہے۔ ہمارے نوجوان خوشگوار اور پرامن زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو اُنہیںاُسی آفاقی نظریہ تعلیم کی طرف رجوع کرنا ہوگا، جسے ہمارے نبی رحمتؐ ہم تک لائےہیں، اُسی میں ہماری دنیا و آخرت بھی آباد ہو سکتی ہے۔