آج کے زمانے میں موبائل فون کے مضمرات،بُرے اثرات یا نقصانات کے بارے میں نکتہ چینی کرنا باعث ِشرمندگی ہی تصور کیا جائے گا،جس کی بڑی وجہ یا یوں کہیئےکہ سیدھی سادھی وجہ، موجودہ زمانے میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی مضبوط پکڑ ہے۔ پتھر کے زمانے سےآج تک انسان نے ہی انسانوں کی بھلائی اور بُربادی کے لئےکارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں۔ اپنی ذہنی توانائیوں کے ذریعے قدرتی وسایل کو بروئے کار لاکربے شمار ایجادات کئے ہیں اور مختلف ایجادات کے تحت ایسے انقلابات لائے ہیں کہ جن کی بدولت انسان ترقی کی منزلیںطے کر کے موجودہ زمانے میں قدم رکھ چکا ہے۔ظاہر ہے ہر عروج کا زوال بھی آتا ہے،ہر خوشی کے ساتھ غم بھی ہوتا ہے۔اسی طرح ہرفایدہ مند چیز نقصان دہ بھی بن جاتی ہے۔کسی بھی چیز کے غلط یا بے جا استعمال سے نقصان بھی پہنچتا ہے۔مشاہدہ میں بھی یہی آرہا ہے کہ ہر ترقی کے ساتھ کوئی نہ کوئی خرابی بھی پیدا ہوجاتی ہےاور ہر خرابی کئی بُرائیوں کو جنم دینے کا سبب بن جاتی ہے۔ جیسا کہ موجودہ دورِ جدید میںموبائل فون کے فواید کے ساتھ ساتھ اس کےنقصانات کا بھی مسئلہ درپیش ہے۔حالانکہ موبائیل فون انسانی ذہن کی عروج کا شاہکار ہے، باقی سائنسی ایجادات کی طرح اس نے بھی انسانی زندگی کو کافی حد تک آرام دہ بنا دیا ہےاور اس کے بغیر تواب زندگی کا نظام چلانا بے معنیٰ ہوکر رہ گیا ہے۔گویا آج جہاں بھی ہم نظر دوڑاتے ہیں، ہر سطح پر،ہرمعاملے میں اس کا استعمال لازم ِ ملزوم بن چکا ہے۔تقریباً ہر طرف اور ہر جگہ ،ہر فرد،چاہے امیر ہو یا غریب ،پڑھا لکھا ہو یا اَن پڑھ ،چھوٹا ہویا بڑا،مرد ہو یا عورت،جوان ہو یا بوڑھا،یہاں تک کہ کمسن بچے،ہر ایک کے ہاتھ میں موبائل فون دکھائی دے رہا ہے۔ اگر کسی سے بھی اس کی وجہ پوچھی جائےتو بظاہرہر کسی کا جواب معقول دکھائی دے رہا ہے۔اب اگر نوجوانوںسے وجہ پوچھی جائے تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ ہم آن لائن کلاس دیتے ہیں۔ اس کے ذریعے ہم نہ صرف گھر یلوکام کرتے ہیں بلکہ دوسرے اسکولوں کے ضروری کام بھی انجام دیتے ہیں۔ اسکولی بچوں کےہاتھوں میں تو موبائل فون کرونا وائرس نے تھما دیا ہے۔جس کے نتیجے میں پچھلے دو سال میں جتنے موبائل فونزہر خاص و عام کے گھروں داخل ہوچکے ہیں، ان کا حساب لگانا بہت مشکل ہےاور ان کے استعمال سے انسانی معاشرے میںکتنے مضر اثرات پڑے ہیں،اُن سے اب ہم سبھی بخوبی واقف ہوگئے ہیں۔
ہاں!اب دیکھنے میں یہ بھی آنے لگا ہے کہ بعض ذی شعور لوگ موبائل فون کےبے جا اور غلط استعمال کی طرف متوجہ ہونے لگے ہیں۔ ایک بچہ چوبیس گھنٹوں میں اٹھارہ یا انیس گھنٹے فون کے ساتھ گزارتا ہےتو ماں باپ کے لئے پریشانی کا سبب بننا لازمی ہے کہ ایسا کیا کچھ ہورہا ہےکہ اس کے بچے اب کھانے کو، کھیل کود کو، ٹیلی ویژن کواور رشتہ داروں کو بھی بھول چکے ہیں۔ حتیٰ کہ کچھ بچے موبائل فون کو بیت الخلا میں بھی ساتھ لے جاتے ہیں۔ وہ اس سے ایک پل بھی دور رہنا پسند نہیںکرتے ہیں۔ اب سوال جو انسان کو اڑچن میں ڈالتا ہے، وہ یہ کہکون سی ایسی وجہ ہے، جس نے موبائل فون کو ہماری زندگی کا اتنا اہم حصہ بنا دیاہے کہ اس کے بغیر زندگی ناممکن سی ہوگئی ہے۔
پہلا ہے کرونا وائرس : کرونا وائرس کی وجہ سے اسکولی کلاسز بند ہوگئے اور نظامِ تعلیم کا سلسلہ آن لائن ہوگیا ہے۔ اس کا سیدھا نتیجہ موبائل فون کی کثرت میں نکلا۔ جن گھروں میں دو وقت کا کھانا مشکل سے موجود ہوتا تھا،اُسے بھی اِس گروپ میں مجبوراً شامل ہونا پڑا جہاں حصول تعلیم کا واحد ذریعہ موبائیل فونزکی موجودگی ہے۔جس کے باعث اب ایک ہی گھر میں عموماً تین یا تین سے زیادہ موبائل فونس پائے جاتے ہیں۔ بلا شبہ ضرورت ایجاد کی ماں ہےمگر کسی بھی ضرورت کی چیز کچھ وقت یا کچھ مدت تک انتظار توکرسکتی ہے مگرموبائل فون کا بِل اور انٹرنیٹ کے مہینے بھر کا خرچہ انتظار نہیں کرسکتا،اس لئے ضروریات ِ زندگی کی کوئی بنیادی چیز گھر میں ہو یا نہ ہو لیکن موبائل فونز کا بِل ،انٹر نیٹ کا خرچہ لازمی ہونا چاہئے۔ بے شک موبائل فون سے پڑھائی ہورہی ہے مگرموبائیل فون میں ایسے چیزیں بھی موجود ہیں جو ایک طالب علم کے دھیان کو اصل مقصد ہٹا دیتے ہیں۔ گروپس بنانا اور پھر اس میں نازیبا زبان کا استعمال ،کسی بھی طرح سماج کو بہتر اور شائستہ بنانے میں کارگر نہیں ہوسکتا۔ اس کے علاوہ اس میں آن لائن یا آف لائن کھیلوں کا زیادہ عمل دخل ہوتا ہے، جس سے بچہ کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے۔ جھوٹے تعریفیںسُن کر وہ اصل حقیقت سے دور ہو جاتا ہے اور اپنے آپ کو ہیرو سمجھنا شروع کرتا ہے۔ اس کے ذہن پربُرا اثر اور جسم پر بھی مختلف قسم کی پرتیں پڑ جاتی ہے، جس کی وجہ سے اس کی اصل شخصیت مسخ ہوکر رہ جاتی ہے۔ ہاں! یہ درست ہے کہ موبائل فون سے ایک بچہ اپنا اصلی کام کرسکتا ہے مگر اکثر دیکھنے میں یہی آتاہے،کہ بچوں پر زیادہ تر اس کا غلط اثر ہی پڑتا ہے۔
دوسرا ہے وقت کی ضرورت: موجودہ زمانے میں آسائشوں کی طلب دن بہ دن بڑھ رہی ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسان ہر گزرتے دن کے ساتھ ایسی چیزیں ڈھونڈنا نکالتا رہتا ہے، جس سے زندگی کا گذر بسر نہایت سہل بن جائے اور ہر کام آسان سے آسان تر ہوجائے، مگر اس کا ہرگزیہ مطلب نہیں نکلتا ہے کہ ہم اُسی آسائشی چیز کے غلام بن جائیں۔اب تو ایک انسان دو میٹر کے فاصلے تک کے لئے فون کا ہی سہارا لیتا ہے۔ وہ اتنا سُست اورآرام پسند بن گیا ہے کہ اپنا ہر کوئی چھوٹا بڑا کام بذریعہ فون کرنے پر تُلا ہوا ہے ۔ اس کا اثراب اس صورت میں سامنے آرہا ہے کہ جہاں اس کی صحت متاثر ہورہی ہے وہیںاس کا اپنےرشتہ داروں ،یار دوستوں اور اپنے ہمسایوں تک کے ساتھ ناطہ ٹوٹ رہا ہے۔یہاں تک وہ سیاسی ،سماجی ،دینی اور دُنیوی معاملات سے بھی دور ہوتا جارہا ہے۔جہاں نگاہ ڈالی جائے، ہر طرف ایک سے بڑھ کر ایک موبائل فونوں کی بھرمار ہے۔ بغیر حیرانی کا مقام ہے کہ بغیرکسی ضرورت اور بغیر کسی مقصدکے لوگوں کی ایک خاصی تعداد نے اپنے پاس دو دو تین تین فونز رکھنے کا ایک نئی روایت قائم کردی ہے،جن میں مختلف فون کمپنیوں کے سِم لگے ہوتے ہیں،حالانکہ وہ سبھی کا م یا سہولیات جو وہ ایک عدد فون اور ایک ہی کمپنی کے سِم سے حاصل کرسکتے ہیں لیکن نہ معلوم کیوں یہ لوگ تین تین، چار چار فونز سے وہ سہولیات حاصل کرنے کے گرویدہ ہوچکے ہیں ،کوئی یہ جواز پیش کررہا ہے کہ اپنی اس وادی میں اکثر اوقات ہنگامی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے اُن حالات میں کسی نہ سِم سے فایدہ ضرور اٹھایا جاسکتا ہے۔ اگر ایک کمپنی اپنی سروس معطل کردیتی ہے تو دوسری کمپنی کی سروس سہولیات سےاستفادہ ہوتا رہتا ہے۔خیر! اس معاملے میںکچھ لو گ اپنی امیری کا دَم دکھانے کے لئے مختلف اقسام کے فونز رکھتے ہیں ، بعض لوگ محض دکھاوے کے لئے ایسا کرتے ہیںاور بعض دیکھا دیکھی کے عالم میں یہ سب کچھ کرتے ہیں۔اپنے یہاں تو زیر تعلیم نوجوانوں کی کثیر تعدا د کو ایک سے زیادہ فونز رکھنے کےلَت لگ چکی ہے۔گویا انہوں نے ایک زیادہ فون رکھنا بھی اب فیشن میں شامل کردیا گیا ہے۔الغرض ایک سے زاید فون رکھنے کا مرض نہ صرف نوجوان لڑکوں میں پایا جاتا ہے بلکہ نوجوان لڑکیوں میں بھی پھیل گیا ہے۔
تیسرا ہے دوسروں کی نقالی : ہمارے یہاں یہ چیز بھی عام ہے کہ جو چیزیں دوسرے ممالک میں پائی جاتی ہے، وہ ہمارے یہاں بھی ہونی چاہیے۔ اگر ۱۹۶۰ کی دھائی میں موبائل فون کی ضرورت مغربی ممالک کو پڑی تھی، تو یہ نئ ایجاد ہمارے لئے اہمیت کی حامل نہیں تھی۔ اُن ممالک میں سماجی، معاشی، سیاسی اور اخلاقی حالات کے الگ انداز ہیںاور ہمارے یہاں مختلف انداز ۔اب جبکہ جدید دور نے ہر نئی ایجاد کو دنیا کے ہر گوشے میں پہنچادیا ہےتو ہم نےبغیر سوچے سمجھے اُن کو ہی زندگی کا ضروری حصہ بنا دیا ہے۔ اُن کے یہاں ہر نئی چیز کا فکرواداک بھی موجود ہیں،لیکن ہمارے یہاں نہیں۔ وہ مواجد ہیں ،ہر مشینی چیز کی اچھائی اور خرابی دونوں سے واقف ہیں اور مناسبت کے ساتھ ان کا استعمال کرتے ہیں۔ مگر ہمارے یہاں cell-phone obsession پائی جاتی ہے۔ دوسروں سے چیزیں لینا یا ان کو دینا، سائنسی اور تہذیبی اصول ہیں، اس سے دنیا رنگین اور پُر کشش بنتی ہے۔ اس سے ترقی کی راہیں کھل جاتی ہے۔ فرسودہ نظام نئے اور پائیدار نظام کو جنم دیتی ہے۔ مگر احتیاطی تدابیر کو ذہن میں رکھناتو ضروری ہیں۔
چوتھا ہے جنسیا تی خواہشات: بغور دیکھا جائے تو اخلاقی طور پر اس وقت ہم سیڑھی کے نچلے پائیدان پرپہنچ گئےہیں۔جس کی بڑی وجہ ہماری دین سے دوری ،ناجائز پیسے کی فراوانی کے علاوہ بے روز گاری بھی ہے۔ اپنی جنسیاتی خواہشات کی لذت ہم غیر محرم لڑکوں اور لڑکیوں سے پوری کردیتے ہیں۔ رات بھر ایک لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے ساتھ نازیبا گفتگو میں محو رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کو video calls کے تحت، گندی حرکات کے مرتکب ہوجاتے ہیں۔ جنسی خواہشات کو دبایا نہیں جاسکتا مگر غلط طریقوں سے اس کو پورا کرنا بھی کہاں کی عقل مندی ہے؟ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے یہاں sex جیسی بنیادی تعلیم کو غلیظ مانا جاتا ہے۔ جس کا براہ راست اثر سماج پر پڑتا ہے، ایک بالغ بچہ بہت ساری نئ تبدیلیوں کا مشاہدہ کرتا ہےاور وہ کسی سے کہہ نہیں پاتا۔ جنسیاتی ہوس کو مٹانے کے لئے بالآخر اُسے غلط چیزوں کا سہار ا لینے کی لت لگ جاتی ہے۔
آخری بات ہمارا اپنا رویہ: ہم حقیقی معنوں میں بے بسی کی زندگی گزارتے ہیں۔ اپنے گھر یا معاشرے میں موجود کسی بھی خرابی یا بُرائی سے چھٹکارا پانے کے لئےہم لوگ اس کے خلاف کوئی اثر دار حل نکال نہیں پاتے ہیں۔ میں نے خود مشاہدہ کیا ہے کہ ہر کوئی ماں یا باپ، اس بات کی شکایت کرتا ہے کہ میری بچی یا بچہ پورا دن موبائل فون کے ساتھ گزارتی یا گزارتا ہے۔ مگر ا انفرادی سطح پر کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاتا، جس سے اس کا بچہ یا بچی اس لت سے چھٹکارا پا سکے۔ بہتری کے بارے میں کوئی نہیں سوچتا ہے اور نہ کوئی قابل تعریف کوشش کر تا ہے۔
وقت کی ضرورت ہے کہ ہم موبائل فونس کا صحیح استعمال کریں۔ اخبار پڑھنے کی عادت ڈالیں، کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا کریں، اتنا کمانے کی کوشش کریں،جس سے کم از کم اپنی ضروریات پوری ہوسکیں، ایک دوسرے سے ملنے ، ایک دوسرے کے کام آنے،گفت و شنید سے مسائل کا حل ڈھونڈنے،،دوستانہ ناطہ جوڑنے اوربگڑے ہوئے رشتوں کو استوار کرنے کی کوشش کریں۔والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں کہ وہ موبائل فون کا کتنا اورکیسا استعمال کرتے ہیں۔ اگر کوئی غلط چیز پائی جاتی ہے، تو شفقت وآرام سے ان کو سمجھائیںاور انہیں صحیح راستے پر چلانے کی حتی المکان کوشش کرکے ایک اچھے ا نسان ہونے کا فرض نبھائیں ۔تو دیر کس بات کی ، آیئے اور عہد کیجئے کہ آج سے ہی ہم اپنے بچوں کو اس موبائل کی خرافات سے بچانے کی پہل کریں۔
رابطہ ۔7889346763
(مضمون نگار الھدیٰ کوچنگ سنٹر، مصطفیٰ آباد، عمر آباد، سرینگر، میں مدرس ہیں)