رئیس یاسین
آج کے معاشرے میں شادی اب ایک سادہ عمل نہیں رہی۔ لڑکیاں 35 اور 40 سال کی عمر تک پہنچ رہی ہیں مگر اُن کی شادیاں نہیں ہو رہیں اور اسی طرح بہت سے لڑکے بھی عمر گزار رہے ہیں مگر غیر شادی شدہ ہیں۔ اصل مسئلہ اچھے لوگوں کی کمی نہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری توقعات حقیقت سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ ایک لڑکی کا باپ اکثر ایک نوجوان لڑکے میں وہ سب کچھ تلاش کرتا ہے جو عموماً ایک مکمل طور پر settled پچاس سالہ آدمی کے پاس ہوتا ہے — دولت، جائیداد، مالی استحکام، سماجی حیثیت اور مکمل سیٹل زندگی۔ دوسری طرف بہت سے خاندان لڑکی میں صرف خوبصورتی تلاش کرتے ہیں جبکہ کردار،
حیا، تربیت، صبر اور نیکی کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
نتیجتاً مخلص، تعلیم یافتہ، بااخلاق اور دیندار نوجوان لڑکے اور لڑکیاں صرف اس لیے دیر سے شادی کا شکار ہو رہے ہیں کیونکہ وہ معاشرے کے بنائے ہوئے مصنوعی معیار پر پورا نہیں اترتے۔ پھر جب شادیاں صرف پیسے اور ظاہری خوبصورتی کی بنیاد پر ہوتی ہیں، ایمان، مزاج کی ہم آہنگی اور اچھے کردار کی بنیاد پر نہیں، تو اس کے نتائج سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ طلاق کی شرح بڑھتی ہے، خاندانی جھگڑے عام ہو جاتے ہیں اور گھروں سے سکون اور جذباتی استحکام ختم ہونے لگتا ہے۔ ہماری قوم میں پہلے ہی fertility rate کم ہو رہا ہے، مگر اس کے باوجود معاشرہ شادی کو آسان بنانے کے بجائے مزید مشکل بنا رہا ہے۔
اصل سوال یہ ہے: کیا اسلام ہمیں یہی سکھاتا ہے؟ اسلام نے نکاح کو آسان، باعزت اور پاکیزہ بنایا تھا۔ اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ دولت، خوبصورتی اور سماجی حیثیت کے بجائے دین، کردار، حیا اور اچھے اخلاق کو ترجیح دی جائے۔ اصل بحران یہ ہے کہ ہم دین کی تعلیمات سے دور ہو چکے ہیں اور مادہ پرستی اور سماجی دکھاوے میں گم ہو گئے ہیں۔
آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ نکاح مشکل ہو چکا ہے جبکہ زنا آسان اور عام ہو گیا ہے۔ نکاح سے باہر تعلقات کو معمول سمجھا جانے لگا ہے، love affairs کو قبول کیا جاتا ہے بلکہ بعض اوقات اُن کی تعریف بھی کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس وہ نوجوان لڑکا یا لڑکی جو اپنے کردار کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں، نگاہیں جھکاتے ہیں، حرام سے بچتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے ہیں، اُن کے لیے ایک نیک شریکِ حیات تلاش کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ معاشرہ ایسے لوگوں کی عزت کرنے کے بجائے اکثر اُنہیں کمزور یا پسماندہ سمجھتا ہے۔
اسلام صرف جسمانی زنا کو ہی منع نہیں کرتا بلکہ غیر محرم سے غیر ضروری قربت، جذباتی وابستگی اور نامناسب تعلقات کو بھی روکتا ہے، کیونکہ اسلام عمل کی خرابی سے پہلے دل کی پاکیزگی کی حفاظت کرتا ہے۔ مگر آج جو شخص حرام تعلقات میں ملوث ہو اُسے ہیرو سمجھا جاتا ہے، جبکہ جو شخص اپنے آپ کو پاک رکھنے کی کوشش کرے وہ تنہا اور نظر انداز محسوس کرتا ہے۔ایک اچھی نوکری اور بڑی تنخواہ رکھنے والے شخص کو فوراً قبول اور عزت دی جاتی ہے، جبکہ اللہ کا خوف رکھنے والا، باکردار اور دیندار نوجوان اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہی حال نیک اور باحیا لڑکیوں کا بھی ہے۔ معاشرہ اب اخلاص سے زیادہ status کو، کردار سے زیادہ دولت کو، اور حیا سے زیادہ ظاہری خوبصورتی کو اہمیت دینے لگا ہےاور آج اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں — ٹوٹتے ہوئے خاندان، بڑھتی ہوئی طلاقیں، جذباتی بے سکونی، تاخیر سے ہونے والی شادیاں، گرتی ہوئی اخلاقیات، اور معاشرتی اقدار کی تباہی۔یہ ہمارے دور کا ایک اخلاقی الٹاؤ ہے۔ ہم آہستہ آہستہ ایسے زمانے کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں گناہوں کو معمول بنا دیا گیا ہے، حیا کا مذاق اڑایا جاتا ہے، اور نیکی اجنبی محسوس ہونے لگی ہے۔آخر میں ہماری امید صرف اللہ سے وابستہ ہونی چاہیے۔ صرف اللہ ہی دلوں کی اصلاح کر سکتا ہے، نوجوانوں کی حفاظت کر سکتا ہے، اور اس امت کو دوبارہ عزت، پاکیزگی اور توازن کی طرف واپس لا سکتا ہے۔