سرینگر// وادی میں موبائل انٹرنیٹ خدمات آج 6 ستمبربھی معطل رہیں گی۔ آج سہ پہر 5بجے کے بعد5روز بعد موبائل انٹرنیٹ سروس بحال کی جارہی ہیں۔ ادھر وادی میں چوتھے روز بھی کاروباری سرگرمیاں بند رہیں،تاہم بیشتر علاقوں میں بندشیں عائد نہیں رہیں۔ یکم ستمبر کی شام بزرگ لیڈر سید علی شاہ گیلانی کے انتقال کے بعد حکام نے وادی میں فون سروس اور انٹرنیٹ سہولیات کو معطل کیا ،تاہم بی ایس این ایل پوسٹ پیڈموبائل سروس جاری رہی۔ایک آرڈر میں ، پرنسپل سکریٹری محکمہ داخلہ ، شالین کابرانے کہا کہ موبائل انٹرنیٹ 6 ستمبر شام5 تک معطل رہے گا ‘‘۔یہ حکم 3 ستمبر کو ’’موجودہ حالات کا معروضی جائزہ لینے اور پابندیوں کو جاری رکھنے کی ضرورت‘‘کے بعد جاری کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رپورٹیں طلب کی گئی ہیں ، جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان ہدایات کا افواہ پھیلانے ، غلط خبروں کی ترسیل ، تشدد پر اکسانے وغیرہ کے لیے ڈیٹا سروسز کے غلط استعمال پر اثرات مرتب ہوئے ہیں حالانکہ صورتحال بڑی حد تک پْرامن رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ جگہوں پر ’’معمولی واقعات‘‘ رونما ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا ’’موبائل ڈیٹا سروسز کے غلط استعمال کے ذریعے سرحد پار سے پاکستان کے حمایت یافتہ ہینڈلرز اور اندرونی علیحدگی پسند قوتوں کے مذموم عزائم سے امن و امان میں خلل پڑنے کا خدشہ تھا۔ آرڈر میں کہا گیا’’سیکورٹی کے مجموعی منظر نامے کا بغور جائزہ لینے کے بعد ، میں محکمہ داخلہ کا پرنسپل سکریٹری ، مطمئن ہونے کے بعد ، ہندوستان کی خودمختاری اور سالمیت ، ریاست کی سلامتی کے مفاد میں ایسا کرنا بالکل ضروری سمجھتا ہوں۔ امن و مان کو برقرار رکھنا ، انڈین ٹیلی گراف ایکٹ ، مجریہ1885 کے دفعہ 5 کے ذیلی دفعہ (2) اور ٹیلی کام سروسز کی عارضی معطلی (پبلک ایمرجنسی یا پبلک سیفٹی) کے قاعدہ 2 کے ذیلی اصول (1) کے تحت دیئے گئے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے موبائل ڈیٹا سروسز وادی کشمیر میں 6 ستمبر شام5بجے تک معطل رہیں گی ، جب تک کہ پہلے ترمیم نہ کی گئی ہو‘‘۔حکم نامہ کے مطابق آئی جی پی کشمیر سروس فراہم کرنے والے اس حکم کی تعمیل کو یقینی بنائیں گے اور وہ پابندیوں کے خاتمے کے اثرات کی بھی قریب سے نگرانی کریں گے۔ اس دوران انسپکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار نے اتوار کو کہا کہ اتوار شام 5 بجے سے پورے کشمیر میں نقل و حرکت اور کاروباری سرگرمیوں میں مزید نرمی فراہم کی گئی۔انہوں نے کہا کہ پورے کشمیر میں امن کی بحالی میں لوگوں کے تعاون کو ذہن میں رکھتے ہوئے ، یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اتوار شام 5 بجے سے پورے کشمیر میں نقل و حرکت اور کاروباری سرگرمیوں میں مزید نرمی فراہم کی جائے گی۔آئی جی پی نے یہ بھی کہا کہ موبائل انٹرنیٹ خدمات (پیر) کوبحال ہو جائیں گی۔ادھر وادی میں چوتھے روز بھی کاروباری سرگرمیاں بند رہیں،تاہم گزشتہ دنوں کے برعکس اتوار کو بیشتر علاقوں میں بندشیں نہیں تھیں۔ دکانیں اور کاروباری مراکز بند تھے ، تاہم مسافر و پرائیویٹ ٹرانسپورٹ چلتا رہا۔سرینگر کے لالچوک میں مشہور سنڈے مارکیٹ میں کاروباری گہما گہمی جاری رہی۔ دیگر اضلاع میں بھی بندشیںہٹائی گئی تھیں،تاہم کاروباری سرگرمیاں مانند تھی۔