اِکز اِقبال
حکومت کی جانب سے حالیہ’’100دن نشہ مکتی ابھیان‘‘ ایک سنجیدہ اور بڑے پیمانے پر اٹھایا گیا قدم ہے۔ ایسا قدم جس کا مقصد نہ صرف منشیات کے پھیلاؤ کو روکنا ہے بلکہ نوجوان نسل کو اس زہر سے بچانا بھی ہے۔ جموں و کشمیر میں اس مہم کا باقاعدہ آغاز اس نیت کے ساتھ کیا گیا کہ منشیات کی سپلائی لائن کو توڑا جائے، اسمگلنگ پر سخت گرفت ہو اور معاشرے میں ایک اجتماعی بیداری پیدا کی جائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ مہم ایک وسیع قومی کوشش کا حصہ بھی ہے، جو’’نشہ مکت بھارت ابھیان‘‘ کے تحت چل رہی ہے۔ ایک ایسی حکمت عملی جس میں آگاہی، علاج، بحالی اور قانون نافذ کرنے والے اقدامات کو یکجا کیا گیا ہے ۔بظاہر یہ سب کچھ ایک مضبوط عزم کی عکاسی کرتا ہے، ایک ایسا عزم جو اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مگر سوال وہیں سے جنم لیتا ہے جہاں حقیقت اور تاثر کے درمیان فاصلہ بڑھنے لگتا ہے۔کیا یہ مہم صرف سڑکوں تک محدود ہے یا واقعی نظام کے اندر بھی اتر رہی ہے؟سڑکوں پر بینر لہرا رہے ہیں، نعروں کی گونج ہے، کیمرے آن ہیں اور چند معصوم چہرے’’نشہ مکتی‘‘ کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں ۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی نشے کے خلاف لڑ رہے ہیں ؟
نشہ مکتی کی مہمات آج کل ایک باقاعدہ منظرنامہ بن چکی ہیں۔ تعلیمی اداروں سے لے کر چوراہوں تک، ہر جگہ ایک ہی بیانیہ دہرایا جا رہا ہے۔’’نشے کو نا کہو‘‘۔ بظاہر یہ ایک مثبت اور ضروری پیغام ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ پیغام اپنے مطلوبہ اثرات پیدا کر رہا ہے یا صرف ایک وقتی تاثر قائم کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے؟
یہ ماننا سادہ لوحی ہوگی کہ منشیات جیسے پیچیدہ مسئلے کا حل محض ریلیوں، تقاریر اور آگاہی مہمات میں پوشیدہ ہے۔ یہ مسئلہ محض ایک عادت نہیں بلکہ ایک منظم جال ہے۔ ایک ایسا جال جس کے دھاگے معاشرے کے مختلف طبقات اور بعض اوقات اداروں کے اندر تک پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایسے میں صرف سڑکوں پر آواز بلند کرنا، بغیر بنیاد کو مضبوط کئے، کسی حد تک سطحی معلوم ہوتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عوامی سطح پر ایک تاثر عام ہے کہ منشیات کا کاروبار صرف گلیوں میں نہیں پلتا، اسے کہیں نہ کہیں سے’’نظرِ کرم‘‘ بھی ملتی ہے۔ یہ بات درست ہے یا غلط، اس کا فیصلہ ثبوت کریں گے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس تاثر کا وجود خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے اور سوال کو نعروں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ جب اعتماد متزلزل ہو جائے تو کوئی بھی مہم اپنی تاثیر کھو دیتی ہے۔ اعتماد کسی بھی اصلاحی عمل کی بنیاد ہوتا ہے اور جب بنیاد ہی کمزور ہو تو عمارت کا کھڑا رہنا محض اتفاق رہ جاتا ہے۔یہاں ایک نازک مگر ضروری نکتہ بھی سمجھنا ہوگا۔ کسی بھی ادارے کو یکسر موردِ الزام ٹھہرانا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ ان ہزاروں افراد کی محنت کو نظر انداز کرنا بھی ہے جو واقعی اس ناسور کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ہر نظام میں مخلص لوگ ہوتے ہیں جو خاموشی سے اپنا کام کرتے ہیں، خطرات مول لیتے ہیں اور اپنی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ مگر یہ بھی اتنا ہی سچ ہے کہ چند عناصر پورے نظام کی ساکھ کو داغدار کر دیتے ہیں اور جب ان عناصر کے خلاف واضح اور مؤثر کارروائی نظر نہیں آتی، تو شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔اسی لئے اصل جنگ دو محاذوں پر لڑی جانی چاہیے،باہر بھی اور اندر بھی۔۔سڑکوں پر مہمات اپنی جگہ اہم ہیں۔ یہ شعور پیدا کرتی ہیں۔ نوجوانوں کو متوجہ کرتی ہیں۔ ایک اجتماعی بیانیہ تشکیل دیتی ہیں۔ مگر یہ صرف پہلا قدم ہے، آخری منزل نہیں۔ اگر ان مہمات کے ساتھ ساتھ اندرونی احتساب، شفافیت اور اصلاحی اقدامات نہ ہوں تو یہ کوششیں ادھوری رہ جاتی ہیں۔
طلبہ کو اس مہم کا حصہ بنانا ایک حساس معاملہ ہے۔ ایک طرف یہ انہیں ذمہ دار شہری بننے کی طرف مائل کرتا ہے۔ مگر دوسری طرف ایک سوال بھی جنم لیتا ہے،کیا ہم انہیں مسئلے کا حل سکھا رہے ہیں یا صرف اس کا تعارف کرا رہے ہیں؟ شعور دینا اور تجسس پیدا کرنے کے درمیان ایک باریک لکیر ہوتی ہے۔ جب ہم مسلسل کسی شے کو موضوعِ گفتگو بناتے ہیں تو وہ بعض اوقات مسئلہ حل کرنے کے بجائے ذہنوں میں جگہ بنانے لگتی ہے۔ یہ پہلو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہم اپنے نوجوانوں کو کس ماحول میں پروان چڑھا رہے ہیں۔ کیا ہم نے ان کے لئے ایسا معاشرہ تشکیل دیا ہے جہاں وہ محفوظ رہ سکیں؟ کیا ہمارے گھروں میں مکالمہ موجود ہے؟ کیا ہمارے تعلیمی ادارے صرف نصاب پڑھا رہے ہیں یا کردار بھی تراش رہے ہیں؟حقیقت یہ ہے کہ نشہ صرف ایک کیمیائی مادہ نہیں، یہ ایک خلا کا نام ہے، ایک ایسا خلا جو عدم توجہ، بے مقصدیت اور جذباتی تنہائی سے پیدا ہوتا ہے۔ جب نوجوان کو سمت نہ ملے، جب اسے سننے والا کوئی نہ ہو، جب اس کے سوالوں کو نظرانداز کیا جائے تو وہ ایسے راستوں کی طرف مائل ہوتا ہے جو وقتی سکون تو دیتے ہیں، مگر مستقل تباہی کا باعث بنتے ہیں۔
یہاں سے ہماری اجتماعی ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کو مؤثر بنائے، سپلائی چین کو توڑے اور احتساب کو یقینی بنائے۔ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اندر موجود کمزوریوں کو تسلیم کریں اور انہیں دور کریں۔ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف تعلیم نہ دیں، تربیت بھی دیں والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف سہولیات نہ دیں، وقت بھی دیں، توجہ بھی دیں۔ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ برائی کو’’رجحان‘‘ کا نام دے کر قبول نہ کرے۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ یہ مسئلہ ’’کسی اور‘‘ کا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ ہم سب کا ہے۔ ہر وہ خاموشی جو ہم اختیار کرتے ہیں، ہر وہ نظر جو ہم چرا لیتے ہیں، ہر وہ لمحہ جب ہم ذمہ داری سے بچتے ہیں، وہ سب اس مسئلے کو تقویت دیتے ہیں۔ نشہ مکتی کی اصل شروعات نعروں سے نہیں، رویّوں سے ہوتی ہے۔ یہ اس لمحے سے شروع ہوتی ہے جب ایک والد اپنے بچے سے بات کرتا ہے، جب ایک استاد اپنے شاگرد کے بدلتے رویے کو محسوس کرتا ہے، جب ایک ادارہ اپنے اندر جھانکنے کی ہمت کرتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ اصلاح کا عمل آسان نہیں ہوتا۔ یہ تکلیف دہ ہوتا ہے، وقت لیتا ہے اور بعض اوقات اپنے ہی چہرے آئینے میں دیکھنے پڑتے ہیں۔ مگر یہی وہ مرحلہ ہے جہاں سے حقیقی تبدیلی جنم لیتی ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم صرف منظر کا حصہ بننا چاہتے ہیں یا تبدیلی کا۔ اگر ہم واقعی ایک نشہ سے پاک معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی۔ ہمیں وقتی تاثر سے نکل کر مستقل اثر کی طرف آنا ہوگا۔ ہمیں نعروں سے آگے بڑھ کر عمل کی طرف جانا ہوگا۔جب تک ہم اپنے گھروں، اپنے اداروں اور اپنے نظام کے اندر موجود خامیوں کو تسلیم نہیں کریں گے، تب تک سڑکوں پر ہونے والی ہر مہم محض ایک منظر رہے گی ،ایک ایسا منظر جو وقتی طور پر تو متاثر کرتا ہے، مگر دیرپا تبدیلی پیدا نہیں کرتا۔
(مضمون نگار کشمیر سے تعلق رکھنے والے کالم نگار اور تعلیمی شعبے سے وابستہ ہیں)
رابطہ۔ 7006857283
[email protected]