مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی تشویش ناک صورتحال کا عالمی نظام پر گہرا اثر پڑچکا ہے ،خصوصاًدنیا بھر میںتوانائی کے شعبے بُر ی طرح متاثر ہورہے ہیں۔ بہت سے ممالک نے بجلی اور ایندھن کی کھپت کو کنٹرول کرنے کے لیے توانائی کے استعمال کے لئے ہنگامی اقدامات کرنا شروع کر دئیے ہیںاور کئی ترقی پذیر ممالک میں بجلی کی کٹوتی، پیٹرول اور ڈیزل کی محدود سپلائی کے فیصلے کئے جا رہے ہیں۔ یہ بحران صرف ترقی پذیر ممالک تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یورپ اور نیوزی لینڈ جیسے ترقی یافتہ خطوں میں بھی توانائی کی فراہمی پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور یہ دبائو اب تیل اور گیس تک محدود نہیں رہا بلکہ پانی جیسے زندگی بخش وسائل تک پہنچ گیا ہے۔ خلیجی ممالک کو قدرتی میٹھے پانی کی قلت ہے اور وہ سمندری پانی کو صاف کرنے کے لیے ڈی سیلینیشن پلانٹس پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر اِن پلانٹس پر حملہ کیا گیا تو صورتحال تباہ کن ہو سکتی ہے۔ سعودی عرب اپنی پینے کے پانی کی تقریباً 70فیصد ضروریات کو اِنہی پلانٹس سے پورا کرتا ہے، کویت 90فیصداور عمان 86 فیصد پانی کا انحصار انہی پلانٹس پر کرتا ہے۔
اگر توانائی کی سپلائی میں خلل پڑتا ہے یا پلانٹس تباہ ہو جاتے ہیں توان ممالک میں پانی کا شدیدبحران پیدا ہو سکتا ہے۔ تاحال دکھائی تو یہی دے رہاہے کہ مغربی ایشیا میںایران ۔اسرائیل امریکہ کے درمیان جاری جنگ میں اب شہری بنیادی ڈھانچوں یعنی بجلی، پانی اور توانائی پر حملہ کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے،جبکہ ایران کی جانب سے اس دھمکی کے جواب میں خلیجی خطے میں توانائی اور پانی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کاواضح اشارہ دیا ہے جس کے نتیجے میں خلیجی ممالک میں پانی اور توانائی کے کلیدی پلانٹس کو نشانہ بنانے کا خطرہ بڑھتا چلا جارہا ہے۔ بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور اردن جیسے ممالک میں اس کی زد میں آسکتے ہیں۔گویا انسانی زندگی کے بنیادی ڈھانچے پر منڈلا رہے اس عالمی بحران سے عام شہریوں طرزِ زندگی میں زبردست تبدیلیاںرونماں ہوسکتی ہیں،جس کا زیادہ تر خمیازہ غریب لوگوں کو ہی اٹھانا پڑے گا ۔کھانا پکانے والی گیس، ٹرانسپورٹیشن، بجلی اور پانی کی قلت اورعدم دستیابی سے سماجی بدامنی اور معاشی عدم استحکام بڑھنے کا خطرہ بھی ہے۔
کساد بازاری کے خدشات اور توانائی کے بحران کا براہ راست اثر عالمی معیشت پر پڑرہا ہے۔ تیل اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہورہاہے، جس سے افراط زر اور صارفین کے اخراجات میں کمی واقع ہوتی ہے۔ یہ صورت حال خاص طور پر ہندوستان جیسے ممالک کے لئے مشکل ہے، جس کے لوگوں کی ایک خاصی تعدادخلیجی ممالک میں کام کرتی ہے، جنگ سے لاکھوں ہندوستانیوں کے روزگار کو خطرہ ہے جبکہ ہزاروں پہلے ہی واپس وطن لوٹ چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مغربی ایشیا کا بحران مستقبل میں ’’آبی جنگ ‘‘ کی شکل بھی اختیار کرسکتا ہے، جس طرح تیل نے 20ویں صدی میں جغرافیائی سیاست کو متاثر کیا، اُسی طرح پانی 21ویں صدی کا سب سے اہم وسیلہ بن سکتا ہے۔ اگر آبی ذرائع اور پانی کی فراہمی کے نظام پر حملے بڑھے تو اس سے انسانی وجود کے لئے شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ پانی کی کمی نہ صرف صحت کا بحران پیدا کرے گی بلکہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی، سماجی بدامنی اور سیاسی عدم استحکام کا باعث بھی بن سکتی ہے۔نیز عالمی سپلائی کی لائف لائن پر ایک مسئلہ آبنائے ہرمز کااہم ترین سمندری راستہ بھی ہے، جو کہ عالمی تیل کی سپلائی کی ایک بڑی گذر گاہ ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حملوں نےاس میں نقل و حرکت پر خلل ڈالا ہے۔ بھارت سمیت کئی ایشیائی معیشتیں، جو توانائی کی درآمد پر انحصار کرتی ہیں، اس بحران سے براہ راست متاثر ہو رہی ہیں۔ ہندوستان میں اس کا اثر ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، افراط زر اور معاشی دباؤ کی صورت میں واضح طور پر نظر آرہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایران۔ اسرائیل امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگ اب محض ایک فوجی تصادم نہیں رہا بلکہ توانائی، پانی اور انسانی بقا کی جنگ بن چکا ہے۔ اس جنگ نے واضح کر دیا ہے کہ جدید جنگوں میں بھی سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو ہی اٹھانا ہوگا، جبکہ بجلی، پانی اور خوراک جیسی بنیادی ضروریات جنگ کے اہم ہتھیار بن جائیں گے،جو کہ انسانیت کے لئے سب سے بڑا نقصان ثابت ہوگا۔