موجودہ جدید دور میںہمارے کشمیری معاشرے میں باہمی بھائی چارہ اور یکجہتی ختم ہو تی جا رہی ہےاور انسانی رشتےبھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئے ہیں۔ باہمی محبت ،ایثار،اپنائیت ،ہمدردی اورایک دوسرے کے خوشی اور غم میں شرکت کی رونقیں بھی معدوم ہوتی جارہی ہیں۔ خاندان بکھر رہے ہیں ،فاصلے بڑھ رہے ہیں، ہر ایک کومحض اپنی ہی پڑی ہے۔اگرچہ انسان کے لئے رشتوں کے تقاضوں کو بحسن و خوبی پورا کرنا اہم ہوتا ہے،مگر آج ہر سُوا یہی د کھائی دے رہا ہے کہ مادہ پرستی ، جاہ پرستی،اَنّا پرستی اور خودسَری نے انسان کے باہمی رشتوں میں بڑی بڑی دراڑیںڈال دی ہیں۔ خود غرضی اور تکبُر نے پورے معاشرے کو اپنے جال میں پھنسا رکھا ہے اور ہر کوئی نام و نمود اور ترقی کی بھاگم دوڑ میں اپنے خونی رشتوں کو فراموش کرتا جا رہاہے ۔
گویا مادیت نے معاشرے کےاکثریت کی سوچ تک محدود کرکے رکھ دی ہے اورہر فرد یہی سمجھ رہاہے کہ خاندان محض ایک سماجی رواج ہے جو وقتی ضرورتوں کے تحت وجود میں آتا ہے اور جب ضرورت باقی نہیں رہتی تو اِس سے چھٹکارا حاصل کر نااُس کے ارتقا ءکا تقاضا بن چکاہے ۔حالانکہ اسلام میں اس تصور کی کوئی بھی گنجائش نہیں لیکن ہمارا کشمیری مسلما ن معاشرہ اپنی تمام تر خوبیوں کو خیر باد کہہ کے اِس تصور کو بھی گلے لگاچکاہے ،جس کے نتیجے میں اب آئے روز انسانی رشتے پامال ہورہے ہیں،رشتہ دار کے ہاتھوں رشتہ دارکی حق تلفی عام ہوچکی ہے،یہاں تک کہ قتل کا بھی ارتکاب ہورہا ہے۔گویا انسانیت پر درندگی ایسے غالب ہوچکی ہے کہ چاچا بھتیجے ،ماما بھانجے،ساس بہو،بھابی نند کی بات تو کُجا ،یہاں تو باپ کے ہاتھوں بیٹے اوربیٹے کے ہاتھوں باپ کی بھی موت ہوجاتی ہے۔گذشتہ ایک دہائی کے دوران وقفہ وقفہ کے بعد اس طرح کے سینکڑوںوارداتوں کی خبریں اخباروں اور دوسرے الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے عوام الناس تک پہنچیں۔ایسی المناک وارداتیں رونماں ہونے سے یہ بات سامنے آچکی ہے کہ اب ہماری معاشرتی زندگی کا مختصر اور جامع مسئلہ صبر و برداشت کی کمی اور ایک دوسرے کے تئیں دلی محبت اور جذبۂ احترام کا فقدان ہے ۔
یہ وہ خامی یا خرابی ہے ، جس نے اوپر سے نیچے تک ہمارے معاشرے کا احاطہ کررکھا ہے ۔ظاہر ہے کہ صبروتحمل اور جذبۂ احترام کے فقدان سے انسان معاشرتی تقاضوں کا شعور بھول جاتا ہے اور یہ معاملہ ہمارے کشمیری معاشرے میں بڑی تیزی کے ساتھ پنپ رہا ہے۔معاشرتی تقاضوں کو پورا کرنے میں ہم دن بہ دن پست و خست ہورہے ہیںاور ہر میدان میں ہمارا نقصان ہورہا ہے۔یہاں تک کہ ہماری تہذیب و تمدن ،اقدار اور ہماری اسلامی روایات کی عکاسی تک معدوم ہوتی جارہی ہےجبکہ کسی بھی معاملے یا مسئلےمیں صبر وتحمل سے کام لینے کی اخلاقی صفت بھی ختم ہوچکی ہے۔ افسوس ناک امر یہ بھی ہے کہ ہمارا معاشرہ اس صورت حال پر سنجیدہ غور وفکر کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا۔ہمارے معاشرے کے زیادہ تر افراد اُن راستوں پر چل پڑے ہیں،جو کسی صورت میں ہمارے معاشرتی اقدار کے حق میں نہیں جاتے بلکہ معاشرے کو زوال پذیر بنانے میں خطرناک ثابت ہورہے ہیںجبکہ اس سلسلے میںہماری مسلسل کوتاہی ہمارے لئے عبرت ناک ثابت ہوسکتی ہے۔
کیونکہ جس معاشرہ میں صبر وبرداشت کی کمی اور ایک دوسرے کے تئیں احترام کی صفت نہ ہو،وہ معاشرہ کسی دُوررس اور صائب فیصلے تک کبھی نہیں پہنچ پاتا۔خاندان اور رشتوں کاجو نظام انسان کو حاصل ہے ،وہ صرف انسانوں کا ہی امتیاز ہے اور انسانی شرف کی ایک علامت ہے ۔ رشتوں کا یہ نظام حالات و ضروریات کے تحت انسانوں کی اپنی اختراع نہیں ہے بلکہ زندگی کے دیگر امتیازی انتظامات کی طرح یہ انسانی زندگی کی ضرورتوں کو پورا کر نے والا امتیازی نظام ہے جو انسانوں کو خصوصی طور پر عطا کیا گیا ہے ۔ انسانی ضرورتوں کی تکمیل غول اور جھُنڈ سے پوری نہیں ہو سکتی ہے ، اسے قدم قدم پر رشتوں کی ضرورت ہو تی ہے ۔غرض خرابی انسانوں کے اندر تو ہو سکتی ہے لیکن خود رشتوں میں کوئی ایسی خرابی نہیں پا ئی جا تی کہ کسی رشتے کو نفرت کا رشتہ قرار دیا جا ئے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے دانشور حضرات ، ہمارے اکابرین،ہمارے علمائے کرام اس تبدیلی کو کا سنجیدہ نوٹس لیںاور معاشرے کو انفرادیت کے نقصانات اور اجتماعیت کے فوائد کا احسا س دلانے کے لئے یک جُٹ ہوجائیں تاکہ معاشرے کے افراد رشتوں سے دوری بنانے یا نفرت کرنے کے بجائے زندگی گذارنے کے لئے رشتوں کی اہمیت اور افادیت کو سمجھیں۔
����������������