محمد عرفات وانی
مطالعہ انسان کی زندگی میں وہ چراغ ہے جو نہ صرف راستہ دکھاتا ہے بلکہ اندھیروں میں حوصلہ بھی دیتا ہے۔ کتاب انسان کی خاموش استاد ہوتی ہے جو بولے بغیر سکھاتی ہے، شور کیے بغیر سوچ دیتی ہے اور دکھائے بغیر راستہ بتا دیتی ہے۔ صدیوں تک کتاب انسان کی بہترین دوست رہی ہے۔ بچوں کی تربیت ہو یا قوموں کی تعمیر، علم کا ہر سفر کتاب سے ہو کر گزرا ہے مگر آج کا دور ایک افسوسناک حقیقت سامنے لا رہا ہے۔ مطالعے کا رجحان تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے، نوجوان نسل اسکرین کی اسیر بنتی جا رہی ہے، کتاب تنہا الماریوں میں پڑی ہے اور قاری خود کو مصروف کہہ کر علم سے دور ہوتا چلا جا رہا ہے۔آج ہم جس زمانے میں زندہ ہیں اسے ٹیکنالوجی کا دور کہا جاتا ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے زندگی کو آسان بھی بنایا ہے اور مشکل بھی۔ ایک طرف معلومات چند لمحوں میں حاصل ہو جاتی ہیں دوسری طرف انسان کی توجہ بکھر چکی ہے۔ نوجوان نسل کا زیادہ تر وقت موبائل اسکرین کے سامنے گزرتا ہے۔ وہ دن میں سینکڑوں پیغامات پڑھتی ہے، درجنوں ویڈیوز دیکھتی ہے مگر ایک کتاب کے چند صفحات پڑھنے کا حوصلہ نہیں رکھتی۔ آج کے 15 فیصد نوجوان ہی روزانہ آدھا گھنٹہ کتاب پڑھتے ہیں جبکہ 80 فیصد اپنا زیادہ وقت موبائل اور سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نوجوان سیکھنا نہیں چاہتے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انہیں گہرائی کے بجائے آسان اور فوری معلومات کی عادت پڑ گئی ہے۔
کتاب پڑھنا ایک عمل ہے جو وقت، صبر اور توجہ مانگتا ہے۔ کتاب انسان کو آہستہ آہستہ سوچنا سکھاتی ہے، بات کی تہہ تک پہنچنے کی عادت ڈالتی ہے اور فیصلے کرنے میں سنجیدگی پیدا کرتی ہے۔ اس کے برعکس اسکرین پر موجود مواد زیادہ تر فوری نوعیت کا ہوتا ہے۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو مختصر تحریر اور تیز رفتار خبریں ذہن کو وقتی مصروفیت تو دیتی ہیں مگر مستقل فائدہ نہیں پہنچاتیں یہی وجہ ہے کہ آج کا نوجوان بہت کچھ جانتا ہے مگر کم سمجھتا ہے، بہت بولتا ہے مگر کم سوچتا ہے۔
یہ کہنا درست نہیں کہ نوجوان نسل کے پاس وقت نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وقت کہاں خرچ ہو رہا ہے۔ اگر کوئی نوجوان روزانہ کئی گھنٹے سوشل میڈیا پر گزار سکتا ہے تو وہ آدھا گھنٹہ کتاب کے لیے بھی نکال سکتا ہے مگر چونکہ مطالعے کی عادت ختم ہوتی جا رہی ہے، اس لیے کتاب بوجھ محسوس ہوتی ہے یوں کتاب تنہا رہ جاتی ہے اور قاری خود کو مصروف سمجھتا رہتا ہے حالانکہ یہ مصروفیت اکثر ذہنی تھکن کے سوا کچھ نہیں دیتی۔
مطالعے کے ختم ہونے کی ایک بڑی وجہ ہمارا تعلیمی نظام بھی ہے۔ آج تعلیم کا مقصد سیکھنا نہیں بلکہ نمبر حاصل کرنا بن چکا ہے۔ طلبہ کتاب کو علم کا ذریعہ نہیں بلکہ امتحان پاس کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ نصابی کتابیں رٹنے پر زور دیا جاتا ہے جبکہ غیر نصابی مطالعے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ طالب علم ڈگری تو حاصل کر لیتا ہے مگر سوچنے کی صلاحیت کمزور رہ جاتی ہے۔ اگر تعلیمی ادارے طلبہ کو صرف نصاب تک محدود رکھنے کے بجائے کتاب سے محبت کرنا سکھائیں تو صورتحال بدل سکتی ہے۔
گھریلو ماحول بھی مطالعے کے رجحان پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ بچہ وہی سیکھتا ہے جو وہ اپنے اردگرد دیکھتا ہے۔ اگر گھر میں والدین ہر وقت موبائل استعمال کریں گے تو بچہ بھی یہی کرے گا۔ اگر گھر میں کتابوں کی الماری ہوگی، والدین مطالعہ کریں گے تو بچہ بھی کتاب کی طرف مائل ہوگا مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ آج اکثر گھروں میں مہنگے موبائل تو موجود ہیں مگر کتابیں نہیں۔ ہم بچوں کو بہترین اسکول تو دلاتے ہیں مگر کتاب سے دوستی نہیں کرواتے۔ ایک بچہ جو رات کے وقت چراغ کی روشنی میں قصہ یا افسانہ پڑھ کر سیکھا کرتا تھا، آج وہی بچہ موبائل گیمز میں دن بھر مصروف رہتا ہے اور اپنی تخلیقی سوچ کھو بیٹھتا ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا واقعہ ہے مگر ہر گھر میں اسی طرح کے سینکڑوں بچے موجود ہیں۔
مطالعے کے ختم ہوتے رجحان کے اثرات اب ہمارے معاشرے میں واضح نظر آ رہے ہیں۔ گفتگو میں تلخی بڑھ گئی ہے، برداشت کم ہو گئی ہے اور اختلاف کو دشمنی سمجھ لیا گیا ہے۔ کتاب انسان کو سکھاتی ہے کہ ہر بات ایک زاویے سے نہیں دیکھی جاتی جبکہ اسکرین ہمیں صرف وہی دکھاتی ہے جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں۔ مطالعہ انسان کو تحمل سکھاتا ہے جبکہ اسکرین جلد بازی یہی وجہ ہے کہ آج فیصلے جلدی میں ہوتے ہیں اور نتائج پر کم غور کیا جاتا ہے۔
تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ عظیم انسان مطالعے کے بغیر پیدا نہیں ہوتے۔ دنیا کے بڑے مفکر، سائنس دان، قائد اور مصلح سب کتاب سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔ علامہ اقبال نے نوجوانوں کو صرف نظم و شاعری کے ذریعے نہیں بلکہ کتاب و مطالعے کی ترغیب دے کر فکری بیداری دی۔ نیلسن مینڈیلا نے اپنی جیل کی زندگی میں کتابوں کے مطالعے سے اپنے حوصلے کو برقرار رکھا اور جنوبی افریقہ میں آزادی کی قیادت کی۔ ابن خلدون نے تاریخ و معاشرت کے اصول کتابوں کے ذریعے بیان کیے۔ ماڈرن دور میں اسٹیو جابز نے اپنے فکری سفر میں فلسفیانہ اور سائنسی کتابوں سے رہنمائی لی جس نے ان کی سوچ کو منفرد بنایا یہی مثالیں ہمیں سکھاتی ہیں کہ مطالعہ صرف معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ عظمت اور قیادت کا سرچشمہ ہے۔
یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر چھوڑنا ممکن نہیں اور نہ ہی ضروری ہے۔ اصل ضرورت توازن کی ہے۔ اسکرین کو معلومات کے لیے استعمال کیا جائے مگر کتاب کو شعور کے لیے اپنایا جائے۔ اسکرین انسان کو تیز بناتی ہے، کتاب انسان کو گہرا بناتی ہے۔ تیز انسان وقتی فائدہ اٹھاتا ہے، گہرا انسان دیرپا اثر چھوڑتا ہے۔ قوموں کو آگے بڑھنے کے لیے گہرے انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ صرف تیز ردِعمل دکھانے والوں کی۔ جو قوم کتاب کو نظر انداز کرتی ہے وہ تاریخ میں کبھی عظمت نہیں پا سکتی۔
آج کے دور میں یہ حقیقت واضح ہے کہ کتاب صرف اسکول یا یونیورسٹی کے لیے نہیں ہے۔ یہ زندگی جینے، فیصلے کرنے اور صحیح راستہ اختیار کرنے کی رہنما ہے۔ نوجوان نسل اگر مطالعے کی عادت اپنائے تو وہ نہ صرف علم حاصل کرے گی بلکہ اپنے کردار میں نکھار لائے گی، سوچ میں وسعت لائے گی اور مستقبل کی قیادت کرنے کے قابل بنے گی۔ ایک ایسے نوجوان کی مثال لیں جو دن میں موبائل پر گھنٹے گزارنے کے بجائے آدھا گھنٹہ کتاب پڑھتا ہے وہ نہ صرف امتحانات میں بہتر کارکردگی دکھائے گا بلکہ زندگی کے چیلنجز کا مقابلہ بھی کامیابی سے کرے گا۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں بہتر سوچ رکھیں، اچھے فیصلے کریں اور مضبوط کردار کی حامل ہوں تو ہمیں مطالعے کو دوبارہ زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ گھروں میں روزانہ مطالعے کا وقت مقرر کیا جائے، اسکولوں میں لائبریریوں کو فعال بنایا جائے، اساتذہ طلبہ کو کتابوں کے فوائد بتائیں اور میڈیا علم و مطالعے کو فروغ دے۔ نوجوانوں کے لیے آسان اور دلچسپ کتابیں متعارف کرائی جائیں تاکہ وہ کتاب کو بوجھ نہیں بلکہ دوست سمجھیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے قدم آئندہ نسلوں کے لیے روشنی بن سکتے ہیں۔
کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ صرف علم نہیں دیتی بلکہ انسان کو اخلاق، برداشت، سنجیدگی اور قیادت کا سبق بھی دیتی ہے۔ جو قوم کتاب سے رشتہ توڑ دیتی ہے وہ نہ صرف علم سے دور ہوتی ہے بلکہ اپنی قیادت اور مستقبل سے بھی دور ہو جاتی ہے۔ آج کے نوجوان اگر کتاب کو اپنا دوست بنائیں تو وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ پوری قوم کے لیے روشنی کا مینار بن جائیں گے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کتاب آج بھی ہماری منتظر ہے۔ وہ خاموش ہے مگر زندہ ہے۔ وہ جانتی ہے کہ ایک دن انسان شور، اسکرین اور بے مقصد مصروفیت سے تھک کر سکون کی تلاش میں اس کے پاس لوٹے گا۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اس دن سے پہلے سنبھل جائیں گے؟ کیونکہ جو قومیں کتاب سے رشتہ مضبوط رکھتی ہیں، وہ صرف زندہ نہیں رہتیں بلکہ دنیا کی رہنمائی بھی کرتی ہیں اور جو قومیں کتاب کو تنہا چھوڑ دیتی ہیں، وہ خود بھی تنہائی اور فکری اندھیرے کا شکار ہو جاتی ہیں۔ آؤ آج سے ہم اپنی زندگی میں کم از کم آدھا گھنٹہ روزانہ کتاب کے لیے نکالیں تاکہ ہم نہ صرف اپنی زندگی میں روشنی لائیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک مثال قائم کریں۔ یہی عادت ہمیں فرد اور قوم دونوں کی زندگی میں حقیقی تبدیلی دلا سکتی ہے۔
رابطہ ۔9622881110
[email protected]
���������������������