بسنل نے موبائل وینٹی نمبرات کی ای آکشن کیلئے بولیاں طلب کیں
جموں//بی ایس این نے موبائل سروس وینیٹی نمبرات بذریعہ ای آکشن کیلئے بولی 9اپریل تا15 اپریل 2018 تک لانچ کرنے کااعلان کیاہے۔بولی سے متعلق جانکاری www.jandk.bsnl.co.in کے نیوز/آفرسیکشن سے حاصل کرسکتے ہیں۔ بولی کو56666 پرایس ایم ایس کرکے بھی بھیجاجاسکتاہے۔براہ راست بولی انٹرنیٹ سہولیت کے ذریعے دینے کیلئے www.eauction.bsnl.co.in. کاوزٹ کریں ،یانزدیکی کسٹمرکیئرسروس سنٹریا ٹول فری نمبر 1503پررابطہ قائم کیاجاسکتاہے۔
جگٹی کاوفدڈویژنل کمشنرسے ملاقی
IIMکی تعمیرکیلئے منتخب کی گئی اراضی کی نشاندہی پراعتراضات ظاہرکئے
محمدیٰسین
جمّوں// نگروٹہ تحصیل کے جگٹی علاقہ میں 1600کنال آراضی پر مشتمل مختص رقبہ جنگلات کمپارٹمنٹ نمبر (5N) کلوزرٹانڈہ میں تعمیر ہونے والے انڈین انسٹی چیوٹ آف منیجمنٹ (IIM)کی تعمیر کے لئے سرکاری عملہ کی جانب سے کی گئی فرضی ،خیالی وسرسری نشاندہی نے صدیوںپرانی مفید عام سڑکوںقبرستانوں اور چراگاہوں کو اپنی آغوش میںلے لیا ہے جس سے علاقہ کے عوام سکتے میں آگئے ہیں اور ریاستی سرکارو ضلع انتظامیہ سے نالاں ہیں۔اس ضمن میںجگٹی علاقہ کا ایک مشترکہ وفدگرامین وکاس منچ کی صدر نسیم اختر ،چھیل سنگھ سابقہ جوڈیشل چیئرمین پنچائت جگٹی و پورن سنگھ نمبر دارکی صدارت میں ڈویژنل کمشنر جموں سے ملاقی ہوا۔وفد نے نمائندہ سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ علاقہ کے عوام جگٹی سے سمبل لہیڑھ سڑک کو صدیوں سے استعمال کرتے آرہے ہیںلیکن حال ہی میں انڈین انسٹی چیوٹ آف منیجمنٹ کی تعمیر کے لئے درکار 1600 کنال رقبہ جنگلات کمپارٹمنٹ نمبر 5N) (کلوزر ٹانڈہ کی جو نا تجربہ کار سرکاری عملہ کی جانب سے فرضی ،خیالی وسرسری نشاندہی کی گئی ہے اس میں علاقہ کے عوام کے مفید عام راستوں قبرستانوں وصدیوں پرانی چراگاہوں کو بھی اپنے لپیٹ میں لے لیا ہے انہوں نے اپنی تحریری شکائت میں خصوصی طور پر سرکاری انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ نشاندہی کرنے والے سرکاری عملہ نے نشاندہی کرتے وقت علاقہ کے عوام کو نظراندازکرتے ہوئے مطابق نقشہ عین وقت متذکرہ بالا سڑک کی دونوں اطراف سے چاردیواری کے لئے دیدہ دانستہ طور پر درمیانی نشاندہی نہیںکی ہے اور محکمہ جنگلات کی طرف سے انڈین انسٹی چیوٹ کو رقبہ حوالے کرنے کی نیت سے نشانات مکمل کرلئے گئے ہیںجبکہ متذکرہ بالا سڑک پر آمد و رفت جاری رکھنے کے لئے کوئی نشان نہیں لگایا گیا ہے اور انڈین انسٹی چیوٹ آف منیجمنٹ(IIM)انتظامیہ متذکرہ بالاسڑک مفید عام کو اپنے ماتحت اپنی تحویل میں لیکر سر بمہر کرنے پر بضد ہوگیا ہے جس کی وجہ سے علاقہ کے عوام میں بے چینی اور غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی ہے اور اس سلسلہ میں علاقہ کے عوام سڑکوں پر نکلنے کے لئے مجبور ہوگئے ہیںجس کی تمام تر ذمہ داری ضلع انتظامیہ پر عائید ہوگی اور اس نسبت میں علاقہ کے عوام ریاستی سرکار وضلع انتظامیہ سے نالاں ہیںسرکاری تاناشاہی سے لاچارعلاقہ کے مشترکہ وفد نے ریاستی و ضلع انتظامیہ سے پرزور الفاظ میں مطالبہ کیا ہے کہ مندرجہ بالا سڑک مفید عام پر آمد ورفت جاری رکھنے کے لئے وضاحتی احکامات بحق عوام دیہہ خصوصی طور پر اجراء فرمائے جاویں۔بصورت دیگر علاقہ کے عوام سڑکوں پر نکلنے سے گریز نہیں کریں گے۔
ریاست کی تقسیم کی سازشوں کرنے والوںکیخلاف سختی سے نمٹاجائے:پیپلزپارٹی یونائٹیڈ
جموں// پیوپیلز پارٹی یوناٹینڈ نے ریاستی و مرکزی سرکار سے مانگ کرتے ہوے کہا ہے کہ ریاست کی تقسیم کامنصوبہ بنانے والے مفاد پرستوں کے ساتھ سختی سے نمٹاجائے۔یہاں جاری ایک پریس بیان میں پیوپلزپارٹی یونائٹیڈنے کہاکہ ایسے سیمیناروں ودیگرتقریبات پرپابندی عائدکرنے کی ضرورت ہے جن کے ذریعے ریاست جموں وکشمیر کی عوام میں دراڑیں پیداکرنے کی کوششیں کی جائیں ۔پارٹی نے مزیدکہاہے کہ مہاجرین کو نشانہ بنانے والے فرقہ پرستی کے بیچ بونے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیںاورریاستی حکومت کوایسے عناصرپرکڑی نگاہ رکھنی چاہیئے۔پیوپیلز پارٹی یوناٹینڈ نے مزید کہا کہ ہمارا ملک ایک جمہوری ملک ہے۔ یہاں پر امن کے متوالے بھی اتحاد و اتفاق کی بات کرتے ہیں ۔ ہمارا ملک واحد ایک ایسا ملک ہے جہاں پر غیر ملکی کی مہمان نوازی کی جاتی ہے نہ کہ بے عزتی چند مفاد پرست ہمارے ملک کی غلط تصویر پیش کرنے پر تلے ہوے ہیں جو کہ انتہائی تشویش کن مسئلہ ہے۔ ریاست جموں وکشمیر کے اندر امن وبھائی چارے کی مثال صدیوں سے قایم و دایم ہے۔ نہ جانے کیوں کچھ لوگوں کو یہاں کے امن و امان نہیں بھاتا۔ پارٹی نے مانگ کرتے ہوے کہا کہ عوام اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کرے اور تقسیم ریاست ریاست کی بات کرنے والوں کو کڑا جواب دے کہ ریاستی عوام امن و سکوں سے رہنا چاہتی ہے۔ ریاستی عوام تقسیم ریاست کے ایجنڈا کو ہر گز قبول نہیں کرے گی۔ ریاست جموں وکشمیر کے اندر بھائی چارہ صدیوں سے قایم ہے اور اس کو قایم رکھنے کے لے ہماری کوشش جاری و ساری رہے گی۔
جموں کشمیرمیں حکومت نام کی کوئی چیزنہیں:پروفیسربھیم سنگھ
صدرہند سے ریاست میں گورنر راج نافذکرنے کامطالبہ
جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی اور اسٹیٹ لیگل ایڈ کمیٹی کے ایگزیکٹو چیئرمین پروفیسر بھیم سنگھ نے ہندستان کے صدر رام ناتھ کووند سے درخواست کی کہ وہ جموں و کشمیر کی وزیر اعلی کو فوری طور پر برطرف کرکے جموں و کشمیر کے گورنر کو وہاں فوری طورپر گور راج نافذ کرنے کا مشورہ دیں۔ جموں وکشمیر کی وزیر اعلی نے گزشتہ روز ہی ایک بیان میں خود اعتراف کیا ہے کہ کشمیری نوجوان کا قتل ریاستی پولیس کی ناکامی کی وجہ سے ہوا تھا۔ وزیراعلی کے اس بیان کو ہندستان کے صدر کونظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ خیال ر ہے کہ وزیر اعلی خود ہی جموں و کشمیر میں امن و قانون اور پولیس کی سربراہ ہیں اور پولیس کی کارروائی کے لئے ذمہ دار ہیں اور انہوں نے دو روز قبل وادی کشمیر میں نوجوان کے قتل کو جموں وکشمیر پولیس کی غلطی کا نتیجہ بتایا ہے۔سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پروفیسر بھیم سنگھ نے ہندستان کے صدر سے جموں و کشمیر کی موجودہ پی ڈی پی-بی جے پی حکومت کو برخاست کرکے جموں و کشمیر کے گورنر کو گورنر راج نافذ کرنے کا مشورہ دینے کی درخواست کی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ قانون کے ماہر ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ جموں وکشمیر میں صدر راج نافذ نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ جموں وکشمیر کا آئین الگ ہے اور وہاں گورنر راج لگانے کے چھ مہینہ بعد ہی صدرکی اجازت سے صدر راج لگایا جاسکتا ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں افراتفری کا ماحول اور وہاں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ریاست میں آفس بند ہیں، تعلیمی ادارے بند ہیں، یہاں تک کہ جموں وکشمیر میں پولیس معاملات کی انچارج وزیراعلی خود پویس پر الزام لگا رہی ہیں اور جموں و کشمیر میں نوجوان اور طلبا خاص طور پر وادی کشمیر میں سڑکوں پر احتجاج کرنے کے لئے مجبور ہیں۔ پروفیسر بھیم سنگھ نے نوجوانوں، طلبا، کسانوں اور محنت کش طبقے سے خاص طور پر وادی کشمیر کی موجودہ حالت کو سمجھنے کی اپیل کی۔پروفیسر بھیم سنگھ نے کہا کہ متاثر ہ لوگوں اعتماد بحال کرنے کے لئے گورنر راج ہی واحد راستہ ہے ۔ انہوں نے نوجوانوں سے پرزور اپیل کی کہ وہ تشدد چھوڑ کر جمہوری راستہ ااختیار کریں۔ نہ تو پتھر او انصاف حاصل کرنے کا طریقہ ہے اور نہ ہی گولی راستہ ہے لوگوں پر کنٹرول کرنے کا۔
ریاستی حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام:غلام حیدرملک
حافظ قریشی
بنی // نیشنل کانفرنس پارٹی کاایک اجلاس بنی میں منعقد ہوا جس کی صدارت سابق ڈپٹی سپیکرغلام حیدرملک نے کی۔اس دوران غلام حیدر ملک نے کہاکہ پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط سرکاراقتدارکے نشے میں چورہے اورعوام کے مسائل کاازالہ کرنے میں مکمل طورپرناکام ہوچکی ہے۔انہوں نے کہاکہ لوگوں کے اچھے دن تونہیں آئے اورپی ڈی پی اوربی جے پی کے تمام تروعدے کھوکھلے اورجھوٹ کاپلندہ ہی ثابت ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ جب سے بھاجپا اور پی ڈی پی کی ریاست میں حکومت آئی ہے تب سے ریاست کے حالات دن بہ دن خراب ہی ہوتے چلے آرہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مودی حکومت نے توکہاتھاکہ ہم ایک کے بدلے دس سرلائیں گے ،البتہ سرتولائے نہیں گئے لیکن سرحدوں پرتاحال جاری ہے اوروزیراعظم غیرملکی دوروں کے لطف اندوزہونے میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہاکہ افسوس کی بات ہے کہ کشمیرمیں قتل عام ہورہاہے اوروزیراعظم غیرملکی دورے کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مہنگائی آسمان کوچھورہی ہے اورریاست جموں وکشمیرخون میں ڈوبی ہوئی ہے ،توکیایہ ہیں مودی کے اچھے دن ۔انہوںنے وزیراعظم کی پالیسیوں پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے مسئلہ کشمیرکے پرامن حل کامطالبہ کیا۔
ایف اے سی کی 105ویں میٹنگ میںمتعدد منصوبے منظور
جموں/ چیف سیکرٹری بی بی ویاس کی سربراہی والی فارسٹ ایڈوائزری کمیٹی کی 105ویں میٹنگ جموں میںمنعقد ہوئی جس میں اہم ترقیاتی اور عوامی نوعیت کے کئی منصوبوں کو مخصوص شرائط کی بنا پر منظور ی دی گئی۔فائنانشل کمشنر مال لوکیش دت جہا ، پرنسپل سیکرٹری فائنانس ، جنگلات و ماحولیات کے انتظامی سیکرٹری اور متعلقہ محکموںکے کئی دیگر اعلیٰ افسران بھی میٹنگ میںموجود تھے۔اس موقعہ پر جو منصوبے منظور کئے گئے ان میں پی ایم جی ایس وائی سڑک پروجیکٹوں کے لئے جنگلاتی اراضی کو استعمال میںلانا ، ٹنگمرگ کے درنگ علاقے میں واٹر سپلائی سکیم تعمیر کرنا اور یو ایس بی آر ایل پروجیکٹ کے تحت ٹنل کی تعمیر جیسے پروجیکٹ شامل ہیں۔چیف سیکرٹری نے متعلقین کو ہدایت دی کہ پروجیکٹوں کو عملاتے وقت کم سے کم سے پودے کاٹے جانے چاہئیں اور جنگلات اراضی کو استعمال میں لانے کے لئے متبادل کے طور پر نئے پودے لگانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوںنے جنگلی علاقوں میں منظور شدہ کاموں پر صحیح نظر گزر رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ کاموں کا منصوبہ تیار کرتے وقت ہی اس بات خاص خیال رکھا جاناچاہئیے کہ کم سے کم پیڑ کاٹنا پڑے۔
محکمہ تعلیم کے ملازمین کیلئے
بلااجازت انتظامی دفاتر میں نہ آنے کی ہدایت
جموں/ حکومت نے محکمہ تعلیم کے افسروں اور اہلکاروں کی طرف سے آئے دِن انتظامی محکموں میں آنے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے ان اہلکاروں سے کہا ہے کہ وہ متعلقہ ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن کی باضابطہ اجاز ت کے بغیر سول سیکرٹریٹ آنے سے احتراز کریں۔اس حوالے سے محکمہ سکولی تعلیم کے سیکرٹری نے ایک سرکیولر جاری کیا ہے ۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ جو شخص ان ہدایات کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل لائی جائے گی۔سیکرٹری تعلیم نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم کے اہلکاروں کی طرف سے انتظامی محکموں میں بار بار آنے پر روک لگانے کا فیصلہ طلاب برداری کے مفادات میں لیا گیا ہے۔اُنہوںنے کہا ہے کہ سکولی تعلیم محکمہ کے ذیلی دفتروں اور تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے افسروں اور اہلکاروں کو انتظامی محکموں کا متواتر چکر کاٹنے کے بجائے اُنہیں معیاری تعلیم کی فراہمی کی طرف توجہ مرکوز کرنی چاہئیں کیونکہ یہ ان کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔
صدر جمہوریہ کامجوزہ دورہ ریاست
نائب وزیراعلیٰ نے انتظامات کا جائزہ
جموں/نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نر مل سنگھ نے مبارک منڈی ہیرٹیج کمپلیکس کا دورہ کر کے وہاں اس مہینے کے وسط میں صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کے دورے کے سلسلے میں انتظامات کا جائزہ لیا۔نائب وزیر اعلیٰ کے ہمراہ ڈویژنل کمشنر جموں ہمنت کمار شرما اور کئی دیگر اعلیٰ افسران بھی تھے۔اُنہوںنے وہاں صدر کے استقبالیہ کے لئے کئے جارہے کاموں کا جائز ہ لیا۔نائب وزیراعلیٰ نے تمام متعلقہ افسروں پر زور دیا کہ وہ ہر طرح کے انتظامات کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں۔
چیف سیکرٹری نے گرام سوراج ابھیان کی تیاریوں کا جائزہ لیا
دیہی علاقوں کے غریب کنبوں کیلئے سات پروگراموں پر مشتمل خصوصی قدم کی عمل آوری 14 اپریل سے
جموں/ چیف سیکرٹری بی بی وِیاس نے ملک بھر کے 21058 دیہات کے غریب کنبوں تک پہنچنے کے ایک کثیر سیکٹورل اقدا م گرام سوراج ابھیان کے حوالے سے مختلف محکموںکی تیاریوں کا جائز ہ لیا۔یہ مشن 14؍ اپریل سے 5؍ مئی 2018ء تک شروع کیا جائے گاتاکہ سات پروگراموں کے دائرے کار کو وسیع کیا جاسکے ۔ان میں پردھان منتری اجوالا یوجنا ، پردھان منتری سہج بجلی ہر گھر یوجنا ، اُجالا سکیم ، پردھان منتری جندھن یوجنا ، پردھان منتری جیون جوتی بیمہ یوجنا، پردھان منتری سرکھشا بیمہ یوجنا اور مشن اندردھنش شامل ہیں ۔اس مشن کے دوران جو سرگرمیاں شیڈول کی گئی ہے ان میں 14؍ اپریل کو سماجک نیائے دیوس شامل ہے ۔ اس دن ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کا جنم دن منایا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ 18؍ اپریل کو سوچھ بھارت دیوس، 20؍ اپریل کو اجوالا دیوس ، 24؍ اپریل کو راشٹریہ پنچایت راج دیوس ، 28اپریل کو گرام سوراج دیوس ، 30اپریل کو ایوشمان بھارت دیوس ، 2؍ مئی کو کسان کلیان دیوس اور 5 ؍ مئی 2018ء آجیو کادیوس شیڈ و ل کیا گیا ہے ۔گرام سوراج ابھیان کے دوران ریاست بھر میں خصوصی دنوں کے پروگرام منعقد کئے جائیں گے جس میں ریاستی اور مرکزی سرکاری محکموں اور مقامی طبقوں کی شراکت داری شامل کی جائے گی۔چیف سیکرٹری نے متعلقہ انتظامی سیکرٹریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ سرگرمیوںپر مشتمل ایک کیلنڈر تیار کریں جس میں اہداف کا خاص طور سے ذکر ہوگا۔ انہوںن ے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیئے کہ مشن کو کامیابی سے ہمکنار کرانے کے لئے گرام پنچایت ، بلاک اور ضلع سطحوں پر ٹیمیں تعینات کئے جائیں ۔چیف سیکرٹری نے دیہی ترقی اور پنچایت راج کے انتظامی سیکرٹری سے کہا کہ وہ 9؍ اپریل کو ضلع ترقیاتی کمشنروں کے ساتھ ایک ویڈیو کانفرنس کا انعقاد کریں تاکہ ضلع انتظامیہ کے ساتھ بہتر رابطہ قائم کی جاسکے ۔
اشوک کھجوریہ کی صدارت میں سب آڈنیٹ لیجسلیشن میٹنگ
جموں/ جموں وکشمیر قانون ساز کونسل کی سب آڈنیٹ لیجسلیشن کمیٹی کی ایک میٹنگ ایم ایل سی اشوک کھجوریہ کی صدارت میںمنعقد ہوئی۔ارکان قانون سازیہ نریش کمار گپتا، ایس چرنجیت سنگھ ور کرما رندھا وا میٹنگ میں شرکت کر کے کمیٹی کو مزید فعال اور نتیجہ خیز بنانے کے حوالے سے اپنی تجاویز سامنے رکھیں۔کمیٹی نے جموں وکشمیر پبلک سروس کمیشن کے قوانین اور ایکٹس پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔سیکرٹری لأ عبدالمجید بٹ نے کمیٹی کو ان قوانین کے بارے میں جانکاری دی۔دیگر لوگوں کے علاوہ سپیشل سیکرٹری کونسل محمد اشرف وانی اور متعلقہ محکموں کے کئی دیگر افسران بھی میٹنگ میں موجود تھے۔
سپیکر کا نروال پائیں ستواری کا دورہ
جموں/ قانون ساز اسمبلی کے سپیکر کویندر گپتا نے جواہر نگر ، نروال پین ستواری کا دورہ کر کے وہاں لوگوں کے مسائل کے بارے میں جانکاری حاصل کی ۔ اس دوران سپیکر موصوف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گاندھی نگر حلقے میں لوگوں کو مختلف قسم کی سہولیات دستیاب کرانے کیلئے کئی سکیمیں شروع کی گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر نئے مقامات پر ٹرانسفارمر نصب کئے جا رہے ہیں ۔ لوگوں کے مطالبات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سپیکر نے کئی ایک مسائل موقعہ پر ہی حل کرنے کی ہدایات دیں ۔ لوگوں نے کہا کہ جیون نگر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں صفائی ستھرائی کا کام ہاتھ میں لیا جانا چاہئیے ۔ کویندر گپتا نے کہا کہ گاندھی نگر حلقے میں بجلی کی صورتحال میں بہتری لانے کیلئے 250 نئے ٹرانسفارمر اور 14 ہزار بجلی کھمبے نصب کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایم بی ایس کالج بغلیانہ کے متصل 5.5 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک پارک قایم کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نئی بستی سے ڈگیانہ تک نالے کی تعمیر پر 5.5 کروڑ روپے صرف کئے جا چکے ہیں ۔ اس دوران سپیکر نے لوگوں کو یقین دلایا کہ اُن کی طرف سے اجاگر کئے گئے تمام معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا ۔
بشارت بخاری اورخورشیداندرابی گورنر سے ملاقی
جموں/جموں/باغبانی کے وزیر سید بشارت بخاری نے آج یہاں راج بھون میں گورنر این این ووہرا کے ساتھ ملاقات کی ۔ اس دوران وزیر موصوف نے گورنر کو ریاست میں باغبانی شعبے کی تیز تر ترقی کو یقینی بنانے کیلئے شروع کئے گئے اقدامات کے بارے میں جانکاری دی ۔ گورنر نے ہارٹیکلچر شعبے کو معیار کی بلندیوں تک لے جانے کیلئے متعلقین کی طرف سے بروقت منصوبہ بندی کرنے پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ میوؤں کی پیداوار بڑھانے کیلئے اعلیٰ پیداوار دینے والے میوہ پودے لگائے جانے چاہئیں ۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں کسانوں کو بہتر میوہ اگانے کیلئے ہر طرح کی سہولیات بہم پہنچائی جانی چاہئیں ۔ گورنر نے ریاست کی دو زرعی یونیورسٹیوں کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ زیادہ سے زیادہ رقبے کو باغبانی کے دائرے میں بہتر منصوبہ بندی عملائی جانی چاہیئے۔علاوہ ازیں یونیورسٹی آف کشمیر کے وائس چانسلر ڈاکٹر خورشید اندرابی نے آج گورنر این این ووہرا جو یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں ، کے ساتھ ملاقات کی اور یونیورسٹی کے کام کاج سے جڑے امور کے بارے میں جانکاری دی ۔ گورنر نے یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیمی ماحول برقرار رکھے جانے کی ضرورت پر زور دیا کہ ہر ایک شعبے میں فیکلٹی ممبران کو کونسلر مینٹروں کے طور پر تعینات کیا جانا چاہئیے تا کہ وہ طلاب کے ساتھ باہمی رابطہ بنا کر اُن کی بروقت رہنمائی کر سکیں ۔ گورنر نے کہا کہ وقت پر امتحانات منعقد کئے جانے چاہئیں اور نتایج میں بھی کوئی تاخیر نہیں ہونی چاہئیے ۔ گورنر نے وی سی ، فیکلٹی اور طلاب کو ملک کی 100 یونیورسٹیوں میں 47 واں مقام حاصل کرنے کیلئے مبارکباد دی ۔ گورنر نے کہا کہ کورسوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جانا چاہئیے تا کہ یہ یونیورسٹی آگے چل کر ایک اعلیٰ تعلیمی مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ۔
حکومت مساوی ترقی کے ایجنڈے پر عمل پیرا: پریا
جموں/ تعلیم اور سیاحت کی وزیر مملکت پریا سیٹھی نے کہا ہے کہ حکومت سماج کے ہر ایک طبقے کی مساوی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے کام کر رہی ہے ۔ وزیر موصوفہ رانی پارک میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کر رہی تھی ۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ریاستی اور مرکزی حکومت کی طرف سے شروع کی گئی فلاحی سکیموں سے بھر پور استفادہ کریں ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ریاست کی بہبودی کیلئے کئی بڑے ترقیاتی پروجیکٹ شروع کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے شروع کی گئی سکیموں کے نتایج سامنے آ رہے ہیں ۔ پریا سیٹھی نے کہا کہ مودی حکومت غریب لوگوں کی بہبودی کیلئے وعدہ بند ہے اور نوجوانوں کو روز گار دلانے کے ساتھ ساتھ کسانوں اور صنعتکاروں کیلئے بھی موافق اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت تمام خطوں بالخصوص دیہی اور سرحدی علاقوں کی طرف خصوصی توجہ دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نوعیت کے بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں تا کہ کوئی بھی شہری بنیادی سہولیات سے محروم نہ رہے ۔
پی ڈی ڈی کے ملازم کے لواحقین کو ایکس گریشیا واگذار
جموں/نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ نے پی ڈی ڈی کے ایک ملازم موہن لال شرما کے لواحقین کو 50 ہزار روپے کا ایکس گریشیا ریلیف فراہم کیا ۔ یہ ملازم طویل علالت کے بعد وفات پا گیا تھا ۔