نذارت حسین شاہ ،پونچھ
اگرچہ زمین پر سطح سے زیادہ پانی ہے، لیکن یہ انسانی استعمال کے قابل نہیں ہے۔ جو پانی پینے اور استعمال کے لیے موزوں ہے ،اس کی مقدار بہت محدود ہے، جبکہ انسانی آبادی اس سے کہیں زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگلی عالمی جنگ اس محدود وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے لڑی جائے گی۔ حالانکہ دنیا بھر میں حکومتیں اس اسکیم پر کام کر رہی ہیں کہ امیر ہو یا غریب، شہری آبادی ہویا دیہی علاقہ کی عوام سب کو یکساں طور پر پینے کاپانی دستیاب ہو۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر سال 22 مارچ کو پانی کا عالمی دن بھی منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر تمام ممالک جن میں ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پذیر ممالک دونوںشامل ہیں،اپنے اپنےملکوں میں پانی کی قلت اور اسے دور کرنے کے طریقوں پر پر غور کرتے ہیں۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے عملی اقدامات پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جہاں دریاؤں پر بڑے بڑے ڈیمز بنا کر زراعت کے لئے پانی مہیا کیا جاتا ہے لیکن دنیا میں کچھ ایسی جگہیں بھی ہیں جہاں پانی کے وسائل کی کمی سے عوام پریشان ہے۔ وطن عزیز کی تاج کہلانے والی ریاست میں آبی ذخائیر کی کوئی کمی نہیں ہے۔ یہاں کے دریاؤں سے پڑوسی ملک بھی فیضیاب ہوتا ہے لیکناس کے باوجود آج بھی اپنے یہاں کے کئی ایسے علاقے ہیں جہاں عوام پینے کےپانی کیلئے ترس رہی ہے۔
جموں کشمیر میں محکمہ صحت عامہ اب جل شکتی بن چکا ہے۔ لیکن عوام کو اسکا نام بدلنے سے کوئی راحت حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ وہ آج بھی پانی کے لئے ترس رہے ہیں۔ حکومت نے عوام کو پانی فراہم کرنے کے لئے قدرتی ذرائع کے علاوہ واٹر سپلائی اسکیمیں بھی چلائیں تاکہ بالائی علاقہ جات میں عوام کو پانی فراہم کیا جا سکے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ان اسکیموں میں خرابیاں پیدا ہونے کے بعد متعلقہ محکمہ نےان پرکوئی توجہ دینے کی زحمت گوارا نہیں کی ہے۔ کئی ایسی واٹر سپلائی اسکیمیں ہیں جو مہینوں اور برسوں سے بے کار پڑی ہیں،جن پر سرکاری خزانےسے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے صَرف کیا جاچکا ہے۔بدستور عدم توجہی کی شکار ہیں۔جموں کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کے سٹی ہیڈ کوار ٹر سے تقریباً 10 کلومیٹر کی مسافت پر سرحدی گاؤں سلوتری آباد ہے۔اسی گاؤں میں ایک واٹر سپلائی اسکیم(ڈھوکی بن سلوتری) کا افتتاح 21 دسمبر 2019 میں محکمہ پی ایچ ای کے سیکریٹری اجیت کمار ساہو نے کیا تھا۔ جس سے مقامی عوام میں اُمید کی ایک نئی کرن جاگی تھی کہ انہیں بھی اب صاف و شفاف پانی میسر ہوجائےگا۔لیکن عوام کی اس اُمید پر بھی پانی پھِر گیا۔ مقامی عوام کے مطابق اُنہیں اس اسکیم سے آج تک عوام کو پانی نہیں مل سکا۔بقول ان کے اس اسکیم سے منسلک پائپیں راستے سے ٹوٹ پھوٹ چکی ہیںجس کے نتیجے میں لوگوں تک پانی نہیں پہنچتا جبکہ اسکیم اس قابل بھی نہیں ہے کہ اس سے منسلک ٹینک تک پانی پہنچ سکے۔
اس سلسلہ میں مقامی افراد سے بات چیت کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ پانی کی عدم دستیابی سے یہاں کے لوگوں کا جینا دشوار بن گیا ہے۔مقامی افرادکے مطابق لفٹ اسکیم سرکار کی طرف سے عوام کی سہولیات کے لئے دی گئی تھی لیکن کچھ ہی دنوں کے بعدعوام کواس کا فائدہ ملنا بند ہو گیا۔حالانکہ کاغذات پر یہ اسکیم آج بھی چل رہی ہے۔مگر زمینی سطح پر عوام کو اس کا پانی بالکل نہیں مل رہا ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ اس اسکیم سے منسلک پائپیں جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہیں ،جبکہ پانی کو ذخیرہ کرنےکا ٹینک بھی مکمل طور پر تعمیر نہیں ہوا ہے۔ اس سلسلے میں ایک مقامی شخص محمد صغیرن بتایا کہ یہاں پر سرکار کی طرف سے ایک کروڑ 95 لاکھ روپے کی لاگت سے لفٹ اسکیم منظور ہوئی تھی اور یہاں کے لوگوں کو پینے کے پانی کے لئے درپیش پریشانیوں کو جلد از جلد دور کرنے کی یقین دھانی بھی کرائی گئی تھی لیکن سرکاری کاغذات میں لوگوں کو پانی مل رہا ہے البتہ حقیقت میںآج تک ہمارے پاس پانی نہیں پہنچا رہاہے۔کیونکہ راستے میں بچھائی گئی پائپیں ٹوٹ پھوٹ ہوچکی ہیں ،پانی کا بیشتر ذخیرہ ضائع ہورہا ہے اور عام صارفین تک پانی کی سپلائی نہیں پہنچتی ہے۔اسی گاؤں کے ایک بزرگ حاجی محمد صادق سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ پانی کیعدم دستیابی سے لوگ بہت زیادہ پریشان ہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ سرکار کی طرف سے لفٹ ا سکیم کی منظوری ہوئی تھی لیکن پھر بھی پانی دستیاب نہیں ہو رہا ہے۔ موصوف نے کہاکہ ہم لوگ دور دراز علاقے سے پانی لاتے ہیں اورزندگی کا گزربسر کررہے ہیں۔انہوں نے متعلقہ محکمہ کے اعلیٰ عہدیداران سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ اس سرحدی علاقے کے لوگوں کی پریشانی کوسمجھنے کی کوشش کی جائے اور جلد از جلد اس لفٹ سکیم کو بحال کریں تاکہ یہاں کی غریب عوام کو پینے کے لئے صاف پانی مہیا ہو سکے۔جب اس سلسلے میں متعلقہ محکمہ کے اے ای ای میکنیکل، امر پریت سنگھ سے بات کی گئی تو انہوں نے کہاکہ ہماری جو مکینیکل شعبہ کی ذمہ داری ہے، اس کے مطابق یہ لفٹ اسکیم فعال ہے اور پانی سپلائی ہو رہا ہے۔ موصوف سے جب سوال کیا گیا کہ اس لفٹ اسکیم سے منسلک پائپیں ٹوٹی ہوئی ہیں تو انہوں کہا کہ اس کی ذمہ داری مکینکل شعبے کی نہیں ہے بلکہ سول شعبے کی ہے۔بہرحال عوامی حلقوں کے مطابق اس لفٹ اسکیم سے عوام کو پانی نہیں مل رہا۔انکا کہنا ہے جہاں لفٹ اسکیم کا بنیادی مرکز(بیس سٹیج) ہے ،وہاں سے پانی کا ٹینک کافی دوری پر ہے۔جس کی وجہ سے لفٹ اسکیم سے پانی ٹینک تک نہیں پہنچ پا رہا ہے لیکن متعلقہ محکمہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ یہ اسکیم فعال ہے۔یہاں سوال یہ ہے کہ عوامی مسائل و مشکلات کا ازالہ کیسے ہوگا؟ کیونکہ عوام کواس لفٹ اسکیم سے پانی نہیں مل رہا ہے اور محکمہ اس لفٹ اسکیم کے بحال ہونے کے دعویدار ہے۔متعلقہ محکمہ کو چاہئے کہ عوامی مسائل و مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس میں درپیش خرابیوں اور مشکلات کو دور کیا جائے اور عوام کو صاف و شفاف پانی فراہم کیا جائے۔
[email protected]>