انجینئر محمود اقبال
محبت میں ایک ایسا وقت بھی دل پر گزرتا ہے
کہ آنسو خشک ہوجاتے ہیں طغیانی نہیں جاتی
پتہ نہیں جگرمرادآبادی نے یہ لافانی شعر کس موڈ میں اور کس کو مد نظر رکھ کر کہا تھا۔ لیکن یہ شعر محبتوں اور خوشبوؤں کی شاعرہ پروین شاکر پر پوری طرح سے صادق و مصدوق ہے۔پروین شاکر کی شاعری میں ’’طغیانی ہی طغیانی‘‘ ہے۔ نسوانی جذبات کی وہ بے مثال ترجمانی ہے کہ اس سے پہلے اردو ادب محرو م دست و قلم تھا۔ پروین نے اپنے کلام میں وہ باتیں بھی اُگل دیں جو عموما مستورات کہنے سے شرماتی، ہچکچاتی ہیں ،نہیں تو گھٹ گھٹ کر مرجاتی ہیں۔ محبتوں کی شاعرہ نے صنف نازک کے نازک احساسات اور جذبات کو صفحاتٰ قرطاس پر قوس قزح کے رنگوں کی طرح بکھرادیا ا ور خوشبوئوں سے معطر کرکے اردو ادب میں چار چاند لگادیئے ہیں۔مگرپروین شاکر کا وہ نا مراد’’چاند‘‘ کون ہے؟ جسکی وجہ سے پروین شاکر کی طغیانیوں نے اردو ادب میں نئی لہروں اورموجوں کا طلاطم برپا کردیا تھا؟24نومبر پروین شاکر کا یوم پیدائش ہے،انہوں نے 1952 میں کراچی کے ایک مہاجر گھرانے میں آنکھیں کھولی تھیں، پیدائشی نام سیدہ پروین بانو ہے۔ ان کے والد شاکر حسین ثاقب نے تقسیم ہند کے وقت پاکستان ہجرت کی تھی، بہار کے علاقہ دربھنگہ سے تعلق رکھتے تھےاور وہ بذات خود بھی ایک شاعر تھے۔ پروین شاکر نے 26 دسمبر 1994کو داعیٔ اجل کو لبیک کہا اور دنیا بھر کے اردو والوں کوسوگوار کردیا تھا، 42 سال کی عمر میں وہ ایک سڑک حادثہ میں جاں بحق ہوگئیں اور اسلام آباد ہی میں سپرد خاک ہوئیں۔ ہم پروین شاکر کا ’’یوم پیدا ئش‘‘ منائیں یا’’یوم ماتم‘‘؟اتنے برس گزرگئے ہیں لیکن اب بھی یقین نہیں آتا ہے کہ وہ ہم میں نہیں ہیں۔ پروین شاکر کی شادی اپنے خالہ زاد بھائی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی تھی ،جو نامعلوم وجوہات کے تحت چند سال بعد ہی طلاق تک جا پہنچی۔ جبکہ اکلوتی اولاد عدالت کے حکم کے تحت باپ کے حوالے کرنے پر مجبور ہوگئی تھیں۔
پروین شاکر نہ صرف محبتوں کی شاعرہ تھیں بلکہ ایک اعلی تعلیم یافتہ خوبصورت اور با وقار خاتون بھی تھیں۔ ابتدائی تعلیم سے ہی ادبی مزاج رکھتی تھیں،شاید یہ خوبیاں انہیں اپنے باپ سے ورثہ میں ملی تھیں۔وہ مسابقتی تحریری اور تقریری مقابلوں میں حصہ لیتی رہی تھیں۔25سال کی عمر میں وہ پاکستان میں ایک جانا پہچانانا م بن گئی تھیں۔ انہوں نےانگریزی ادب اور لسانیات میں گریجویشن کی دوڈگریاں حاصل کی تھیں۔ بعد ازاں کراچی یونیورسٹی سے انہیں دو میدانوں میں ماسٹر ڈگریاں (ایم اے) حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اسکے علاوہ ہارڈورڈ یونیورسٹی امریکہ سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر ڈگری حاصل کرنے کی بھی توفیق نصیب ہوئی ،امریکہ کی ایک یونیورسٹی سے وہ پی ایچ ڈی کے لئے کوشش کر رہی تھیں لیکن زندگی نے وفا نہ کی اور وہ مقالہ پیش کرنے سے قاصر رہیں۔کراچی یونیورسٹی کے عبداللہ کالج میں انہوں نے قریب 9 سال تک درس و تدریس کے فرائض انجام دیئے، جہاں وہ طلباء کو انگریزی ادب پڑھاتی تھیں۔ پاکستان سیول سپیرئیر سروِسس (سی ایس ایس) کے امتحان ہال میں اُردو کا ایک پیپر لکھتے وقت ایک ایسا سوال بھی آیا، جس پر شاید وہ خود بھی دم بخود ہوگئی ہونگی۔ کیونکہ سوال پروین شاکر کی شاعری ہی کو لیکر تھا!امتحان میں پاس ہوکر وہ پاکستان کے ایک اہم محکمہ سے وابستہ ہوگئیں او ر اسلام آباد میں ایک اعلیٰ عہدہ پر سکریٹری کے فرائض زندگی کے آخری دم ں تک انجام دیتی رہیں۔ اُنہیں پاکستان کے مشہور ادیب و شاعر ندیم احمد قاسمی کی مربیانہ سرپرستی حاصل رہی تھی۔ پروین کی زیادہ ترغزلیں او ر آزاد نظمیں ندیم صاحب کے رسالہ’’فنون‘‘ میں چھپتی رہیں۔ وہ پروین کے اچھے و بُرے وقت کے ایک شفیق رہنما بنے رہے تھے۔ندیم احمد قاسمی کی رحلت کے بعد سہ ماہی رسالہ’’فنون‘‘ آج بھی ندیم صاحب کی بیٹی کی ادارت میں لاہور سے شائع ہورہا ہے۔پروین کا پہلا شعری مجموعہ کلام ’’خوشبو‘‘ ہے۔جو 1977 میں منظر عام پر آیا تھا اور اردو ادب پہلی مرتبہ لا فانی نسوانی کلام کی چاشنی و روشنی سے روشناس وفیضیاب ہوا تھا۔پروین کا پہلاشکوہ تھا!
وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائےگا
مسئلہ پھول کا ہے، وہ کدھر جائے گا
پتہ ہے آپ کو’’خوشبو‘‘ کے دیباچہ میں پروین نے کیا لکھا تھا؟’’جب ہولے سے چلتی ہوئی ہوا نے پھول کو چوما تھا تو خوشبو پیدا ہوئی تھی‘‘ شاید یہ ایک نوجوان الہڑ دوشیزہ کے شوخ و شنگ جذبات کا اظہار جرأ ت ہے اور یہ پر و ین ہی کا کمال ہے کہ اتنے خوبصورت پیرایئے میں بیان کیا ہے۔ابتداء میں وہ’’بینا‘‘ کے نام سے لکھا کرتی تھیں اور بعد میں پروین شاکر کے نام سے مشہور ہوئیں۔خوشبو کے بعد’’صد برگ‘‘اور’’خود کلامی‘‘ شعری مجموعے سامنے آئے۔پروین کی زندگی ہی میں انکی چوتھی کتاب’’انکار‘‘ 1990 میں آئی۔ بعد از مرگ 1996میں ’’کف آئینہ‘‘ شائع ہوئی جو نثری اور انکی ڈایئریس کے اقتباسات پر مشتمل ہے۔اسکے علاوہ پروین جی اخبارات میں کالمس بھی لکھا کرتی تھیں جو ’’گوشہ چشم‘‘کے نام سے نامور ہے۔’’ماہ تمام‘‘ (1994)،انکی چارشعری مجموعوں کی کتابوں کی تالیفات پر مشتمل ہے۔ محبتوں کی شاعرہ کی شاعری انسانیت، نسائیت، حساسیت،جذباتیت اور تنہائی، کرب وملال،حسن و رعنائی کے گرد گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ پروین شاکر کی کچھ ایسی دکھ بھر ی غزلیں اور نظمیں بھی ہیں کہ جب وہ انہیں مشاعروں میں پڑھتی تھیں تو بے ساختہ داد کے بجائے سامعین کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے تھے۔اپنے ہم عصر خاتون شاعرات جیسے کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض وغیرہ میں انہوں نے ایک منفرد مقام بنالیا تھا۔لیکن یہ بھی انکا بڑا پن رہا کہ انہوں نے اپنے عصروں کے کلاموں کی بھی تعریف کی اورکہتی تھیں کہ میں اپنی ساتھی خواتین شعراء کو بھی پڑھتی ہوں۔پاکستان کے پروقار’’آدم جی ایوارڈ‘‘سے وہ 1978میں نوازی گئیں اور 1991میں’’پرایئڈ آف پرفارمنس‘‘ کے علاوہ دیگر انعامات اوردیگر کئی ایوارڈزانہوں نے حاصل کئےتھے۔ پروین کی کتابوں کے ترجمے انگریزی، جاپانی اور ہندی زبانوں میں انکی زندگی ہی میں ہونا شروع ہو گئے تھے۔ پروین شاکر کی شاعری الفاظ اور جذبات کا ایک انوکھا جوڑ ہے اور انسانی انا، خواہش اور انکار کا ایک حسین امتزاج اور چہار رنگ و روپ کا گلدستہ لئے ہوئے ہے۔
1988 میں نئی دلی میں عالمی اردو کانفرنس میں شرکت فرماکر پروین شاکر نے نہ صرف اس کانفرنس کی شان بڑھائی تھی بلکہ بڑی بڑی ہستیوں سے ملاقتوں کے ذریعہ اس کانفرنس کو یادگار بنادیا تھا۔اس نادر موقعہ پرانکی ملاقتیں خوشونت سنگھ،قرۃ العین حیدر، نامور مصور ایم ایف حسین، کامنا پرشاد ور دیگر نامور ہستیوں سے ہوئیں اور وہ لمحات و رونقیں اردو والوں کے ذہنوں میں ا نمٹ نقوش چھوڑ گئے ہیں۔ انکی ایک ساتھی اور سہیلی رفاقت جاوید نے پروین کی ایک کہانی بیان کی ہے کہ پروین نے انکے پاس سے مستعار لئے ہوئے کچھ زرو زیورات یہ کہہ کر واپس کئےتھے کہ ’’زندگی کا کیا بھروسہ،کیا خبر، رفاقت‘‘ کیا پروین کو احساس ہو گیا تھا کہ ان کا وقت قریب آرہا ہے؟اللہ جانے!پروین نے یہ بھی کہا تھاکہ!
کبھی عرش پر کبھی فرش پر کبھی ان کے در کبھی در بدر
غم عاشقی ترا شکریہ میں کہاں کہاں سے گزر گیا
ایک خبر ایک ہندوستانی صحافی جناب رضوان احمد کے حوالہ سے بھی ہے کہ جب 1977میں پروین شاکر شنکر شاد مشاعرہ میں شرکت کے لئےدلی تشریف لائیں تو انہیں دربھنگہ میں اپنے آبائی مکان کو دیکھنے کا بھی موقع ملا تھا۔یہ مشاعرہ دلی کے پرگتی میدان میں ہوا تھا۔ اس کا افتتاح آنجہانی وزیراعظم ہند اٹل بہاری واجپائی نے کیا تھا جو اس وقت وزیر خارجہ ہوا کرتے تھے۔جن کے احکام کے تحت اُنہیں پٹنہ جانے کا موقع نصیب ہوا۔رضوان صاحب سے انٹرویو میں پروین نے کہا تھا کہ’’محبت کا فلسفہ میری شاعری کی بنیاد ہےاور اس کے حوالہ سے بھی اس ازلی مثلث یعنی انسان، خدا اور کائنات کو دیکھتی اور سمجھتی ہوں‘‘ رضوان صاحب نے یہ یادگار انٹرویو دربھنگہ میں انکی پھوپی ڈاکٹر فاطمی کے گھر ہی پر لیا تھا۔پروین شاکر کے کلام اور انکے بارے میں کچھ جاننے کے بعد ہمیں دو باتوں کا شدید احساس ہوا کہ وہ نہ صرف ایک بہت بڑی شاعرہ تھیں بلکہ اس سے بڑھ کرایک اچھی انسان بھی تھیں۔ انہوں نے کبھی بھی شرافت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور انکا پورا کلام اس بات کا گواہ ہے کہ انہوں نے اپنے محبوب کو جب بھی یاد کیا تو عزت و احترام کے ساتھ اور اس کے لئے دعائیں ہی دعائیں۔دوسرا احساس اس بات کا ہوا کہ پروین نے کام و روزگار کے ساتھ ساتھ پڑھائی اپنی آخری سانسوں تک جاری رکھی اور کبھی بھی زندگی سے ہار نہیں مانی۔انگریزی کا ایک محاورہ ہے کہ’’Learn and Earn, Earn and Learn‘‘پروین شاکر نے اس انگریزی محاورہ کی عملی مثال بھی پیش کردی ہے۔ پروین کی شاعری کا محور محبت اور عورت رہی۔ایسا پاکیزہ اور اچھوتا کلام شاید ہی کسی اور زبان میں بیان کیا گیا ہو۔ایک اور انفرادیت متکلم یعنی ضمیر کے استعمال کا ہے جو اس سے پہلے اردو شاعری میں شاذ ونادر ہی دیکھنے کو ملتی تھی۔ بعض نقاد پروین شاکر کے کلام کا موازنہ مشہور ایرانی شاعر ہ فروغ فرخزادہ سے بھی کرتے ہیں۔ اردو دنیا پروین شاکر کو کبھی نہیں بھولے گی اور ہم ہرسال انہیں یاد کرتے رہیںگے اور خراج عقیدت پیش کرتے رہیںگے۔محبتو ں اور خوشبوؤں کا دیا بجھ تو گیا ہے لیکن ہم انکی یاد میں ہرسال دیئے اور دیپ بھی جلاتے رہیںگے۔
رابطہ۔6309727951