معراج وانی، کنگن
رمضان المبارک وہ بابرکت مہینہ ہے جس کے آتے ہی فضا بدل جاتی ہے، دلوں میں نرمی اتر آتی ہے اور روح کو ایک نئی زندگی ملتی ہے۔ یہ محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ یہ دلوں کی اصلاح، نگاہوں کی حفاظت اور کردار کی تعمیر کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں بندہ اپنے رب کے سب سے قریب ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔‘‘ (سورۃ البقرہ ۔ 183)یہ آیت واضح کرتی ہے کہ رمضان کا اصل مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے۔ تقویٰ یعنی دل میں اللہ کا خوف، ہر لمحہ یہ احساس کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ اگر روزہ ہمیں گناہوں سے نہیں روکتا، ہماری زبان کو جھوٹ، غیبت اور بدکلامی سے نہیں بچاتا، تو ہمیں اپنے روزے پر غور کرنا چاہیے۔رمضان دراصل قرآن کا مہینہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ ۔ 185)یہ مہینہ ہمیں قرآن سے جوڑنے آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس مہینے میں قرآن کو اپنا ساتھی بنایا؟ کیا ہم نے اس کے پیغام کو سمجھا؟نبی کریمؐ نے فرمایا:’’جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔‘‘(صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ یہ مہینہ رحمتوں کا دروازہ ہے۔ اگر اس کے باوجود بھی ہم اپنے آپ کو نہ بدل سکیں تو اس سے بڑی محرومی کیا ہو سکتی ہے؟
امتِ مسلمہ کی ذمہ داریاں : رمضان ہمیں صرف عبادت گزار نہیں بلکہ ذمہ دار انسان بناتا ہے۔ امتِ مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ قرآن کو سمجھ کر پڑھیں اور اس پر عمل کریں۔
اپنے کردار کو بہتر بنائیں۔غریبوں اور محتاجوں کا سہارا بنیں۔مساجد کو آباد کریں۔معاشرے میں خیر اور بھلائی کو فروغ دیں۔یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم ایک امت ہیں۔ ایک کے دکھ میں سب شریک ہوں۔ اگر ہمارا پڑوسی بھوکا ہے اور ہم پیٹ بھر کر سو جائیں تو ہمارا روزہ ادھورا ہے۔
رمضان سخاوت کا مہینہ ہے۔حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہؐ رمضان میں سب سے زیادہ سخی ہو جاتے تھے اور جب جبرائیل علیہ السلام قرآن سننے آتے تو آپ کی سخاوت تیز ہوا سے بھی زیادہ ہو جاتی۔(صحیح بخاری)نبی کریمؐ نے فرمایا:’’جو شخص کسی روزہ دار کو افطار کرائے گا اسے بھی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا روزہ دار کو، بغیر اس کے اجر میں کمی کے۔‘‘(ترمذی)۔صدقہ صرف مال دینے کا نام نہیں؛ کسی کو مسکرا کر ملنا، کسی کی مدد کرنا، کسی کے آنسو پونچھ دینا بھی صدقہ ہے۔ رمضان میں ایک نیکی کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ یہ سودا خسارے کا نہیں، فائدے کا ہے۔
نبی کریمؐ نے فرمایا:’’ہلاک ہو وہ شخص جس نے رمضان پایا اور پھر بھی اپنی مغفرت نہ کرا سکا۔‘‘(ترمذی)سوچیے! یہ کیسی محرومی ہے کہ مغفرت کا مہینہ آیا، رحمتوں کی بارش ہوئی، مگر ہم غفلت میں پڑے رہے۔ اگر ہم نے اس مہینے کو صرف سحری و افطاری اور بازاروں کی رونق تک محدود کر دیا تو ہم نے اس کی روح کو کھو دیا۔
رمضان چند دنوں کا مہمان ہے۔ نہ معلوم اگلا رمضان ہمیں نصیب ہو یا نہ ہو۔ کتنے لوگ پچھلے سال ہمارے ساتھ تھے، آج قبروں میں سو رہے ہیں۔ شاید اگلی باری ہماری ہو۔
آئیے! اس رمضان کو اپنی زندگی کا موڑ بنا لیں۔اپنی آنکھوں کو آنسوؤں سے تر کریں، سجدوں کو لمبا کریں، قرآن سے تعلق جوڑیں، غریبوں کے چہرے پر مسکراہٹ لائیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی قدر کرنے، اس کے پیغام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
[email protected]
��