مختار احمد قریشی
کشمیر میں یہ ایک تلخ حقیقت بن چکی ہے کہ جیسے ہی رمضان المبارک کا مہینہ قریب آتا ہے، بازاروں میں اشیائے خوردنی کی قیمتیں یکایک بڑھ جاتی ہیں۔ یہ رویہ کوئی نیا نہیں بلکہ دہائیوں سے جاری ہے۔ آٹا، چاول، دالیں، تیل، سبزیاں، گوشت، میوے اور دیگر ضروری اشیاء عام دنوں کے مقابلے میں مہنگی ہو جاتی ہیں۔ یہ اضافہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور ایمانی سوال بھی ہے جو ہم سب کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔
رمضان وہ مبارک مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ یہ صبر، تقویٰ، ایثار اور ہمدردی کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں ایک مسلمان کا دل نرم ہوتا ہے، وہ بھوکے کی بھوک کو محسوس کرتا ہے اور ضرورت مند کی مدد کی طرف مائل ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر ہم اسی مہینے کو منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کا ذریعہ بنا لیں تو یہ عمل رمضان کی روح کے سراسر خلاف ہے۔کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جہاں بڑی تعداد میں لوگ محدود آمدنی پر زندگی گزار رہے ہیں۔ رمضان کے دوران گھریلو اخراجات خود بخود بڑھ جاتے ہیں کیونکہ سحر و افطار کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اگر اسی وقت قیمتوں میں غیر فطری اضافہ ہو جائے تو سب سے زیادہ متاثر غریب اور متوسط طبقہ ہوتا ہے۔ بہت سے خاندان اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر رہتے ہیں۔ یہ منظر ہمارے اجتماعی ضمیر کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
معاشیات کا ایک سادہ اصول ہے کہ جب کسی چیز کی مانگ بڑھتی ہے تو اس کی فراہمی بہتر کی جائے تاکہ قیمتیں مستحکم رہیں۔ لیکن ہمارے یہاں اس کے برعکس ہوتا ہے۔ مانگ بڑھتے ہی بعض تاجر ذخیرہ اندوزی شروع کر دیتے ہیں اور مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ سماجی ناانصافی کو بھی جنم دیتا ہے۔اسلام میں تجارت کو ایک باعزت پیشہ قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ واضح اخلاقی حدود بھی متعین کی گئی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپ تول میں کمی، دھوکہ دہی اور ذخیرہ اندوزی کی سخت مذمت فرمائی ہے۔ رمضان جیسے مقدس مہینے میں ناجائز منافع کمانا ایمان کے دعوے کو کمزور کر دیتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ تاجر طبقہ اپنے کردار پر سنجیدگی سے غور کرے۔ہمیں بحیثیت تاجر یہ سوچنا ہوگا کہ کم منافع کے ساتھ زیادہ فروخت نہ صرف معاشی طور پر فائدہ مند ہے بلکہ سماجی اعتبار سے بھی قابل قدر ہے۔ جب قیمتیں مناسب ہوں گی تو زیادہ لوگ خریداری کر سکیں گے۔ اس سے اعتماد بڑھے گا اور طویل مدت میں کاروبار مضبوط ہوگا۔ اس کے برعکس وقتی منافع تو حاصل ہو سکتا ہے لیکن اعتماد ختم ہو جاتا ہے جو کسی بھی کاروبار کے لیے نقصان دہ ہے۔
حکومت اور متعلقہ محکموں کی ذمہ داری بھی یہاں نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ رمضان سے قبل بازاروں کی نگرانی، نرخ ناموں کا نفاذ اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے۔ اگر چیکنگ صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہے گی تو مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ عملی اقدامات سے ہی عوام کو ریلیف مل سکتا ہے۔سماج کے دیگر طبقات کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ صارفین کو چاہیے کہ غیر ضروری خریداری اور فضول خرچی سے گریز کریں۔ جب ہم ضرورت سے زیادہ خریدتے ہیں تو مانگ میں غیر فطری اضافہ ہوتا ہے جس کا فائدہ ناجائز عناصر اٹھاتے ہیں۔ سادگی اور اعتدال رمضان کا اصل پیغام ہے۔علماء، اساتذہ اور سماجی کارکنوں کو بھی چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر آواز بلند کریں۔ خطبات، تحریروں اور مکالموں کے ذریعے لوگوں کو یہ باور کرایا جائے کہ رمضان صرف عبادات کا مہینہ نہیں بلکہ کردار سازی کا مہینہ بھی ہے۔ اگر ہمارا کردار درست نہیں تو عبادات کا اثر بھی محدود ہو جاتا ہے۔کشمیر میں اس منفی روایت کو ختم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر تاجر دیانت داری اختیار کریں، حکومت اپنا فرض ادا کرے اور عوام شعور کے ساتھ خریداری کریں تو قیمتوں میں استحکام ممکن ہے۔ رمضان ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے نفس پر قابو پائیں اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں۔
رمضان میں قیمتوں کا بڑھ جانا صرف بازار کا مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے ایمان کا امتحان ہے۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم اس امتحان میں کہاں کھڑے ہیں۔ کیا ہم دوسروں کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا اللہ کی رضا کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے اور اس فیصلے کا اثر صرف ایک مہینے تک نہیں بلکہ ہماری پوری اجتماعی زندگی پر پڑتا ہے۔اس تناظر میں ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ رمضان میں مہنگائی کو اگر ہم معمول سمجھ کر قبول کر لیں تو یہ رویہ ہر سال مزید مضبوط ہوتا چلا جائے گا۔ برائی اسی وقت جڑ پکڑتی ہے جب معاشرہ اس پر سوال اٹھانا چھوڑ دیتا ہے۔ اگر عوام خاموش رہیں اور تاجر ضمیر کی آواز کو دبائے رکھیں تو یہ مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اس غلط روایت کے خلاف کھڑے ہوں۔
کشمیر کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں کے لوگ سادہ، دیانت دار اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے والے رہے ہیں۔ مشکل حالات میں کشمیری عوام نے ہمیشہ صبر اور باہمی تعاون کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایسے میں رمضان جیسے مقدس مہینے میں ناجائز منافع خوری ہماری تہذیبی اور اخلاقی اقدار سے میل نہیں کھاتی۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی اس معاشرتی شناخت کو برقرار رکھ پا رہے ہیں جس پر ہمیں فخر رہا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تمام تاجر ایک جیسے نہیں ہوتے۔ آج بھی کشمیر میں ایسے تاجر موجود ہیں جو رمضان میں قیمتیں کم کر دیتے ہیں یا کم از کم اضافہ نہیں کرتے۔ وہ اس مہینے کو نیکی کمانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں نہ کہ صرف دولت جمع کرنے کا موقع۔ ایسے تاجروں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے تاکہ دوسروں کے لیے بھی وہ مثال بن سکیں۔ عوام کو چاہیے کہ ایسے دکانداروں سے خریداری کو ترجیح دیں۔اس کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر کمیونٹی نگرانی کا نظام بھی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر محلہ کمیٹیاں، پنچایتیں یا مقامی انجمنیں بازاروں پر نظر رکھیں اور ناجائز منافع کی نشاندہی کریں تو دباؤ خود بخود بڑھے گا۔ جب تاجر کو یہ احساس ہوگا کہ سماج اسے دیکھ رہا ہے تو وہ قیمتیں بڑھانے سے پہلے سو بار سوچے گا۔
میڈیا کا کردار بھی اس حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ اخبارات، ریڈیو اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو چاہیے کہ رمضان سے پہلے اور دوران مہنگائی کے مسئلے کو مسلسل اجاگر کریں۔ زمینی حقائق، قیمتوں کا موازنہ اور عوامی مشکلات کو سامنے لانا ضروری ہے۔ جب مسئلہ عوامی بحث کا حصہ بنتا ہے تو حکام بھی حرکت میں آتے ہیں اور اصلاح کی راہیں نکلتی ہیں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ رزق دینے والا اللہ ہے۔ ناجائز طریقوں سے کمائی گئی دولت میں نہ برکت ہوتی ہے نہ سکون۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو بظاہر بہت کماتے ہیں مگر ذہنی بے چینی اور گھریلو مسائل کا شکار رہتے ہیں۔ اس کے برعکس حلال اور کم کمائی بھی اگر دیانت سے ہو تو اس میں اطمینان اور برکت شامل ہوتی ہے۔ رمضان ہمیں اسی حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ مہنگائی صرف پیٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ عبادات پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ جب ایک روزہ دار سارا دن یہ سوچتا رہے کہ افطار کا سامان کیسے پورا ہوگا تو اس کی توجہ عبادت سے ہٹ جاتی ہے۔ اس طرح ہم بالواسطہ طور پر لوگوں کی عبادت میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ کیا ہم اس ذمہ داری کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رمضان کو صرف تقویم کا ایک مہینہ نہ سمجھیں بلکہ اسے عملی تربیت کا ذریعہ بنائیں۔ اگر ہم اس مہینے میں دیانت، ہمدردی اور انصاف کو اپنا لیں تو یہی عادات باقی سال بھی ہمارے ساتھ رہیں گی۔ یہی رمضان کا اصل مقصد ہے اور یہی اس کی اصل کامیابی۔
کشمیر میں اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ ایک سنگین مسئلہ ہے لیکن اس کا حل بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اگر نیت درست ہو تو نظام خود بخود درست ہونے لگتا ہے۔ تاجر کم منافع پر راضی ہوں۔ حکومت مؤثر نگرانی کرے۔ عوام شعور کے ساتھ خریداری کریں۔ علماء اور اہل علم اخلاقی رہنمائی کریں۔ یہ سب مل کر ہی اس مسئلے کا مستقل حل نکال سکتے ہیں۔رمضان ہمیں ہر سال یہ موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے ایمان، اپنے کردار اور اپنی اجتماعی ذمہ داریوں کا جائزہ لیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ ہم اس موقع کو محض رسومات تک محدود رکھیں گے یا واقعی اپنی اصلاح کی کوشش کریں گے۔ اشیائے خوردنی کی قیمتیں بڑھانا یا کم کرنا صرف بازار کا فیصلہ نہیں بلکہ ہمارے ضمیر کا آئینہ ہے۔ یہی آئینہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم ایمان کی اس کسوٹی پر کہاں تک پورا اترتے ہیں۔
(مضمون نگارپیشہ سے ایک استاد ہیں اور ان کا تعلق بونیاربارہمولہ سے ہے)
رابطہ۔8082403001