ڈاکٹر رضوانہ انصاری
باپ کی رہنمائی، شفقت اور محبت کےبغیر ہماری ذات تو ذرۂ بے نشان کی مانند ہوتی ہے۔ باپ کا رشتہ عظیم نعمت خداوندی ہے۔ زندگی کے تپتے صحرا اور نفسانفسی کے دور میں ماں کے بعد باپ ہی وہ ہستی ہے جو اولاد کی معمولی سی تکلیف پر پریشان اور بے چین ہو جاتی ہے۔ بظاہر رعب اور دبدبے والی اس ہستی کے پیچھے ایک شفیق اور مہربان چہرہ ہوتا ہے ،جسے ماں کی طرح اپنے جذبات کا اظہار کرنا نہیں آتا۔ جو زمانے کے سرد و گرم برداشت کرتے ہوئے مسلسل ایک مشین کی طرح کام کئے جاتا ہے تاکہ اس کے جگر گوشوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ شاید اپنے آپ کو بہت مضبوط ثابت کرنے کے لئے اپنے اوپر ایک رعب اور سختی کا خول چڑھائے رہتا ہے۔ جبکہ اپنے اندر پیار، محبت، ایثار، شفقت اور تحفظ چھپائے رکھتا ہے۔ یہی وہ عظیم باپ ہے جو اولاد کے سکھ، خوش حالی، تعلیم، صحت اور روشن مستقبل کی خاطر سخت محنت کرتے زندگی گزار دیتا ہے۔ رزق کی خاطر ہزار صعوبتیں برداشت کرنے کے باوجود بچوں کو دیکھتے ہی اپنی تھکن بھول جانا والد ہی کا خاصہ ہے۔ یہ ہمارے باپ ہی ہیں جو دن بھر تھکے بدن کے ساتھ جب گھر لوٹتے ہیں تو ہماری خوشی کی خاطر کبھی بازوئوں میں لے کر جھولا جھلاتے اور چکر دلاتے تو کبھی کندھے پر بٹھا کر خوب گھماتے، تو کبھی گھوڑا بن کر کمر پر بٹھاتے ہیں۔
، یہی وہ پاپا ہیں جو کبھی ہمارے ساتھ چھپن چھپائی تو کبھی آنکھ مچولی کھیلتے ہیںاور کبھی لیڈو اور کیرم کھیلتے ہوئے جان بوجھ کر ہم سےہارجاتے ہیں، جو راستے میں چلتے ہوئے بڑھ کر اس خیال سے ہمیں گود میں اٹھا لیتے ہیں کہ ہم تھک نہ جائیں۔ پہلی شکست یا ناکامی پر ہمیں بازوئوں میں سمیٹ کر حوصلہ اور بہادری کا درس دینے والا کوئی اور نہیں صرف ہمارے باپ ہوتے ہیں، جن کی موجودگی ایک مضبوط پناہ گاہ، ایک مضبوط فصیل اور سائبان کا احساس دلاتی ہے، سر پر اُن کا سایہ ہو تو دنیا کے سارے خوف، سارے حوادث، ساری آفات سے بچ جانے کا یقین ہی نہیں ایمان ہوتا ہے۔لیکن دل غمگین ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ باپ جس نے بچوں کی آسودہ حال زندگی کی خاطر اپنے جسم کا کندن راکھ کیا ہوتا ہے، جس کے سیاہ بالوں پر گزرے وقت کی ڈھیروں برف جمی ہوتی ہے،اُس کے وہ ننھے بچے ذرا سا اپنے پیروں پر کھڑے ہونے لگتے ہیں اور جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو اپنے بوڑھے باپ کو آئوٹ آف فیشن سمجھتے ہیںاور اُن سے کہتے رہتے ہیں کہ آپ نے ہمارے لئے کیا ہی کیا ہے؟کبھی کہتے ہیں کہ کیا احسان کیا آپ نے، سب ہی اپنی اولادوں کو پالتے ہیں۔اسی طرح اگر آج کے زمانے میں باپ اپنے بچوں کی نگرانی کرتے ہیں یا ان کے معاملات میں اختصار کرتے ہیں تو نوجوانوں کو یہ پوچھ گچھ اپنی آزادی کا قتل محسوس ہوتی ہے۔ اگر والدین کی پسند ان کی اپنی پسند سے مختلف ہو تو وہ اسے رابطے کا فقدان یا جنریشن گیپ کا نام دے ڈالتے ہیں۔
آج کا نوجوان باپ کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اس کے کام میں مداخلت کریں یا اس پر اپنے فیصلے صادر کریں۔ کیونکہ آج وہ اپنی نظر میں اس قابل ہوچکا ہے کہ اس شخص سے جس کی انگلی تھام کر اس نے پہلا قدم پورے اعتماد سے زمین پر رکھنا سیکھا تھا، بہتر فیصلےکرسکتا ہے۔ آج نوجوان یہ چاہتا ہے کہ اسے روک ٹوک کرکے اس کی آزادی سلب کرنے کی کوشش نہ کی جائے، شائداسی وجہ سے آج کل والدین سے بدسلوکی کے واقعات بڑھتے جارہےہیں۔ میڈیا پر اکثر والدین پر تشدد کے شرمناک واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی ضروری ہے کہ آج والدین خصوصاً والد کو اپنی زندگی کی تمام تر مصروفیات اور ذمہ داریوں کے باوجود کوشش کرنا ہوگی کہ وہ اپنے بچوں کو خوشگوار اور خوبصورت بچپن کے ساتھ ساتھ بلوغت میں قدم رکھتے بچوں پر خصوصی دھیان دیں، انہیں وقت دیں، انہیں صحیح اور غلط کا شعور دیں، ان کے ذاتی مسائل معلوم کریں، انہیں ایک ایسا ماحول دیں جس میں وہ الیکٹرانک آلات کے بجائے انسانوں کے قریب رہیں اور اچھی اقدار اور روایات سیکھیں۔
یاد رکھیں والد کی محبت اولاد کے لئے ہمیشہ بے لوث ہوتی ہے۔ وہ اپنی ریاضت اور محبت کے بدلے کچھ پانے کی امید نہیں رکھتا۔ ہاں مگر اس بوڑھے باپ کا دل ہمیشہ اس خواہش کے ساتھ دھڑکتا ہے کہ اس کی ’’مصروف اولاد‘‘ اپنی مصروفیات میں سے کچھ وقت نکال کر اس کے قریب بیٹھے۔ اس وقت اسے کسی اور کام کی جلدی نہ ہو۔ وقت تھم جانے اوہ وہ اس کڑیل جوان کو جی بھر کر دیکھے۔ اس سے باتیں کر ے، جس کے ننھے ہاتھ کبھی اس کے مضبوط ہاتھوں کا سہارا تلاش کرتے تھے، جو اپنی لفظی زبان میں بار بار ایک ہی سوال کرتا تھا۔ جس کے خدوخال میں اس کی محنت کا کندن دمک رہا ہے۔ ہمارا دین بھی ہمیں والدین سے حسن سلوک کا درس دیتا ہے۔ اُن کو اُف تک نہ کہو ،ادب سے بات کرو۔ لہجہ نرم،الفاظ ادب اور احترام والے اور انداز دلنشیں رکھو۔ان کے سامنے شفقت اور انکساری سے جھکے رہو، ان کی سخت بات کا بھی سخت لہجے میں جواب دینا گناہ ہے۔
اور ہاں! والد کے لئے صرف ظاہری ادب کافی نہیںبلکہ دل سے بھی اُن سے محبت کا برتائو کرو کہ اللہ دلوں کے حال جانتا ہے۔ والدین سے اولاد کا رشتہ انمول ترین رشتہ ہے ،خدا اور بندے کا تعلق کے بعد اگر آنکھ بند کرکے کسی رشتے کی حرمت پر ایمان لایا جاسکتا ہے تو وہ یہ ہی رشتہ ہے۔ ماں اور باپ وہ ہستیاں ہیں جن کی اولاد کی خاطر پریشانی میں گزری ایک رات کا حساب کرنا بھی ناممکن ہے، ہم ہر پل ہر لمحہ بھی ان پر اپنی محبت نچھاور کرتے رہیں ان کی خدمت کرتے رہیں پھر بھی یہ قرض نہیں اتر سکتا۔ لیکن اگر کسی ایک خاص دن کو مکمل طور پر ان کے نام کر دیا جائے اور اس دن انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ ہمارے لئے دی جانے والی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں اور ہم ان کی محبتوں کا دل سے اعتراف کرتے ہیں تو کتنا اچھا لگے۔ باپ کی عظمت، محبت اور شفقت کو جان لینا ہی تجدید وفا ہے۔ اس لئے والد محترم کے ساتھ پیار محبت خلوص اور خدمت کا جذبہ اپنانا چاہئے تاکہ ان کی محبت کا کچھ قرض ادا ہوسکے۔