عبد المجید
زراعت کی حیثیت ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی رہی ہے، جس طرح ریڑھ کی ہڈی کو جسم کی تمام ہڈیوں پر فوقیت حاصل ہے ،اسی طرح زراعت کے شعبہ کو دیگر شعبوں پر برتری حاصل ہے۔تمام شعبوں کی ترقی کا دارومدار زراعت کے شعبہ پر ہے،زراعت کا پیشہ کوئی نیا پیشہ نہیں ہے بلکہ دنیا کا سب سے پہلا انسان ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام نے اس پیشہ کو اختیار فرماکر اس کو اہمیت کا حامل بنایا. ان کے علاوہ کئی ایک انبیائے کرام علیہم السلام نے کاشت کاری کا عمل اختیار فرمایا۔کیوں کہ یہ ایسا پیشہ ہے اگر اس پیشہ کو احکام خداوندی کی بجاآوری کے ساتھ کیا جائے تو تقرب الہی کا ذریعہ بھی ہے۔خلق خدا کی خدمت بھی اس حرفت میں مضمر ہے،کیوں کہ ایک کسان دن رات محنت مشقت کرکے دھوپ میں جل بھن کر جو فصل اگاتا ہے وہ خود اس سے کم فیضیاب ہوتا ہے البتہ معاشرہ زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے۔یہی طبقہ انسان کو بھوک وپیاس کا سامان فراہم کرتا ہے۔روٹی، چاول،اجناس اور پھل فروٹ کی شکل میں ہمہ وقت انسانیت کی حیات وبقاکی خاطر اپنے آپ کو تج دیتے ہیں۔نہ انھیں سردی کی کوئی پرواہ ہوتی ہے نہ گرمی کا کوئی اندیشہ، نہ آندھی طوفان ان کی راہ کےروڑے ثابت ہوتے ہیں۔
؎
جہاں تک تحصیل لنگیٹ کے ملحق علاقے کی بات ہے جس میں لنگیٹ ،شانو،تلواری،خان تلواری،چک لنگیٹ،شاٹھ پورہ لنگیٹ،کہرو وغیرہ شامل ہیں۔ان گاؤں کے بیچ میں نالہ ماور بہتا ہے جو بارش کے موم میں تیز بہاؤ کی وجہ سے نقصان پہنچانے میں اپنی شہرت آپ رکھتا ہے۔اس نالے کے اطراف میں زرعی زمین اور ہزاروں افراد پر مشتمل افراد خانہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔نالہ چوں کہ قدرتی وسائل سے آباد ہے جس پر بے شمار لوگ ریت باجری نکال کر اپنے غریب کنبوں کو سہارا دے رہے ہیں۔مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ اسی نالے کے اطراف میں واقع زرعی زمین کو بھی نہیں بخشا گیا ہے ۔جس کی وجہ سے پورے علاقے پر کئی سارے منفی اثرات پڑے ہیں۔ذیل میں ان کا مختصر تذکرہ کرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ صاحبان بھی اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہوجائیں اور ازالے کو لے کر کاروائی عمل میں لائیں۔
(۱) زرعی زمین میں ریت باجری نکال کر علاقہ قحط جیسی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔(۲) نالہ ماور کے اطراف میں واقع بستیوں کو بھی شدید خطرہ لاحق ہے جس میں لنگیٹ کی بیشتر آبادی،خان تلواری کی پوری بستی، یہاں تک کہ کہرو کی بستی بھی سیلاب کی زد میں آجائے گی۔(۳) بے ہنگم طریقے سے زرعی زمین میں ریت باجری نکالنے سے علاقہ کی خغرافیائی حیثیت بھی متاثر ہوئی ہے اور محفوظ زرعی زمین تک پانی پہنچانا اب مشکل ہوچکا ہے۔(۴) لنگیٹ پل جس کو داند کدل کے نام جانا جاتا ہے،سے لے کر خان تلواری تک کی سڑک اس کی زد میں آچکی ہے اور دن دور نہیں جب وہ بھی ڈھ جائے گی۔جس کی وجہ سے لنگیٹ کے عوام کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کیوں ان کی زراعتی زمین پل کے پار اسی راستے پر واقع ہے۔
مذکورہ بالا چیزوں کا مشاہدہ آپ صاحبان کہرو پل اور لنگیٹ پل کے درمیان بخوبی کر سکتے ہیں ۔یہی صورتحال داند کدل سے شاٹھ گنڈ تک دیکھنے کو ملتی ہے۔ اگر بر وقت کاروائی عمل میں نہ لا کر اس پر پابندی عاید نہ کی گئ تو وہ دن دور نہیں جب یہ علاقہ ریگستان نظر آئے گا اور سارا علاقہ سیلاب کی زد میں آجائے گا۔لہٰذا امید ہے کہ متعلقہ حکام و دیگر محکمہ جات حرکت میں آکر عوام دوست قدم اٹھا کر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔