ماہر طبیعیات
انجینئر محمود اقبال
’’قومی سائنس دن‘‘ (National Science Day)،ہر سال 28 فروری کوہندوستان بھر میں منایا جاتا ہے۔ مایۂ ناز ہندوستانی ماہرِ طبیعیات ڈاکٹر سر سی وی رمن (Dr. C. V. Raman)نے28 فروری 1928میں’’رمن اثر‘‘(Raman Effect) دریافت کیاتھا۔ اس تحقیق اور دریافت پر وہ 1930 کے فزکس کے نوبل انعام سے نوازے گئے تھے۔ہندوستانی حکومت نے1986 میں فیصلہ لیا تھا کہ ہر سال ملک بھر میں 28فروری کو’’قومی سائنس دن‘‘کے طور پر منایاجائیگا۔اس کا پہلاجشن1987 میں منایاگیا تھا۔ رمن اثر کیا ہے؟ڈاکٹر سی وی رمن (Dr. C. V. Raman)کی دریافت’’ر من اثر‘‘ سے مراد 28 فروری 1928 کا دن ہے، جب ڈاکٹر رمن نے دریافت کیا کہ’’روشنی جب سالمات (molecules) یا شفاف مادے سے منتشر ہوتی ہے تو اس کی’’طولِ موج‘‘ (wavelength) تبدیل ہو جاتی ہے۔‘‘۔اس مظہر کو’’ر من اثر‘‘ (Raman Effect) کہا جاتا ہے۔سادہ الفاظ میںجب ایک رنگی روشنی مثلاّ،لیزر،کسی شفاف مادّے پر پڑتی ہے تو بکھرنے والی روشنی کی اکثر شعائیں وہی طول موج رکھتی ہیں،لیکن کچھ شعاعوں کی طولِ موج(Wave Length)بدل جاتی ہے۔اسی تبدیلی کو’’رمن اثر‘‘ کہتے ہیں۔’’طولِ موج‘‘میں تبدیلی کیسے ہوتی ہے؟روشنی کا فوٹون کسی مادے کے سالمات سے ٹکرائے تو دو مظہر وقوع پذیر ہوتےہیں۔اگر فوٹون سالمے کو توانائی دے تو فوٹون کی توانائی کم ہوجاتی ہے، اگر فوٹون سالمے سے توانائی لے لے توفوٹون کی توانائی بڑھ جاتی ہے۔آج کے ترقی یافتہ زمانہ میں اس کا استعمال زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیابی سے ہورہاہے۔کیمیائی تجزیہ (Chemical Analysis)،طبی تشخیص(Mdical Diagnostic) ،مادی سائنس ((MaterialScienceاورخلائی تحقیق (Space Research) ۔ یہی اہم دریافت قومی یوم سائنس کی یادگار بنیاد ہے۔ڈاکٹر رمن کوسائنس کے میدان میں نوبل انعام حاصل کرنے والے پہلے ایشیائی ہونے کا اعزا ز بھی حاصل ہے۔ہندوستان میں’’قومی سائنس دن‘‘ہر سال 28فبروری کو اسکولوں، کالجوں، جامعات، تحقیقی اداروں اور سرکاری تنظیموں میں منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر مختلف پروگرامز منعقد کیے جاتے ہیں۔ مثلاًسائنس نمائش،سیمینار اور لیکچرزوغیرہ۔ طلباء میں مسابقتی مقابلے اور سائنسی آگاہی کی مہمات چلائی جاتی ہیں۔یہ یادگاردن ہندوستان بھر میں سائنس اور سائنسی مزاج کو فروغ دینے کا باعث بن رہا ہے۔ طلبہ کو تحریک دیتا ہے اور قومی ترقی میں سائنس کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ مسابقتی امتحانات کے لیے اہم عمومی معلومات بھی فراہم کرتاہے۔ اس کا مقصد سائنسی سوچ کو فروغ دینا اور نوجوان ذہنوں کو سائنس کی طرف راغب کرنا ہے۔ یہ موقع ہندوستان کی سائنسی کامیابیوں اور معاشرے پر ان کے اثرات کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والوں کے لیے یہ دن حالاتِ حاضرہ اور معلومات کا ایک اہم موضوع ہے۔ہر سال قومی یومِ سائنس ایک مخصوص موضوع (Theme)کے تحت منایا جاتا ہے۔اس سال کاموضوع ہے،’’سائینس میں خواتین:ترقی کے سفر کا ایک فعال کردار‘‘ (Women in Science:Catalysing Viksit Bharat)۔
یہ موضوع سائنس، ٹیکنالوجی یا جدّت کے اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔قومی یومِ سائنس ہندوستان کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ نئی نسل کو سائنس کے شعبے میں پیشہ اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ دن سائنسی مزاج کو فروغ دیتا ہے، منطقی سوچ اور شواہد پر مبنی فیصلوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس سے شہریوں کو سائنس اور توہم پرستی میں فرق سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔’’قومی یومِ سائنس 2026‘‘کا انعقاد ایک ترقی یافتہ قوم کے وژن کی حمایت کرتا ہے۔ سائنسی خلائی مشنز، دفا ع اور صحت کے شعبوں کو تقویت دیتا ہے۔ اس دن کے اہم مقاصد میں آگاہی، ترغیب، اعتراف، جدّت اور مؤثر ابلاغ شامل ہیں۔اسکول، کالج اور کوچنگ ادارے قومی یومِ سائنس کو بھرپور طریقے سے مناتے ہیں۔ سرگرمیوں میں سائنسی نمائشیں، ماڈل کی نمائش اور پوسٹر مقابلے شامل ہوتے ہیں۔ کوئز مقابلوں کے ذریعے سائنس دانوں اور ایجادات سے متعلق معلومات کو پرکھا اور سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے خطابات اور سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں، جبکہ مباحثوں میں مصنوعی ذہانت (AI) اور اس کے اثرات جیسے موضوعات بھی زیر بحث آتے ہیں۔یہ سرگرمیاں طلبہ کو سائنس کو روزمرہ زندگی سے جوڑنے میں مدد دیتی ہیں۔ کوچنگ مراکز بھارتی سائنس دانوں اور دفاعی ٹیکنالوجی پر جنرل نالج سیشن منعقد کر تے ہیں، جس سے مسابقتی امتحانات کی تیاری میں مدد ملتی ہے۔
ڈاکٹر سی وی رمن کی پیدائش 7 نومبر 1888 کی ہے۔وہ ٹامل ناڈو کے شہر تراچرا پلّی میں پیدا ہوئے تھے۔ انکا پورا نام چندر شیکھر وینکٹ رمن ہے۔ 82سال کی بھرپورعمر پاکر وہ بنگالورو میں 21نومبر،1970میں فوت ہوئے۔وہ ایک درس و تدریس سے جڑے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔انکے والد آر چندرا شیکھر ائیر فزکس اور ریاضی کے لیکچرر تھے۔ رمن جی نے پریسیڈنسی کالج مدراس سے1904 میں بی اے کی ڈگری، بعد ازاں 1907میں ایم اے فزکس آنرس سے پاس کی تھی اور اسی سال ’لوکا سندری امّل‘ سے شادی اور ازدواجی زندگی شروع کی۔1917میں وہ کولکاتا منتقل ہوئے اور کولکاتا یونیورسٹی میں فزکس ڈپارٹمنٹ کے ’’پلت چئیر‘‘ کی ذمہ داری سنبھالی۔ ہندوستان کے نامور سائینسی ادارے آئی آئی ایس بنگالورو کے وہ پہلے ہندوستانی ڈائرکٹر کے طور پر 1933میں ذمہ داری سنبھالی تھی۔انہوں نے اپنے ذاتی ادارہ’’رمن ریسرچ انسٹیٹیوٹ‘‘ بنگالورو کی 1948 میں بنیاد رکھی اور آخری سانس تک اسکی ذمہ داری سنبھالے رکھی۔ڈاکٹر صاحب کے نامورشاگردوں میں ایک اہم نام اسرو کے ڈاکٹر وکرم سارا بھائی کا بھی ہے۔ڈاکٹر صاحب ایک اچھے محب وطن سائنسداں تھے۔انہوں نے امریکہ یا دیگر ترقی یافتہ ملکوں میں ہجرت کے بجائے وطن عزیز ہی میں رہ کر سائنسی خدمات کو ترجیح دی تھی۔1954میں وہ ہندوستان کے پروقار ایوارڈ ’’بھارت رتن‘‘سے بھی نوازے گئے تھے۔یہ بھی انکا اعزاز ہے کہ1958میں وہ’’لینن امن انعام‘‘کے حقدارٹھہرے تھے۔ اس کے علاوہ کئی اور دیگر اعزازات اور ایوارڈز سے بھی وہ نوازے گئے۔ رمن جی کے گھرانے کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انکے بھتیجے سبرامینیم چندرا شیکھر نے بھی آگے چل کر فزکس کا نوبل انعام 1983میں پایا۔ اس سال کے تھیم کے مطابق نوجوان سائنس دانوں اور طالبات کے لئے رمن جی کے علاوہ ہندوستان کی چند نامور خاتون سائنس دانوں میں ریتو کاریدھال،جگن دیپ کانگ،تیسی تھامس اور میری پونم کے نام قابل ذکر ہیں اور وہ طلاب کے لئے مشعل راہ ہیں۔
رابطہ۔ 6309727951
[email protected]