انجینئر تعظیم کشمیری
اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ هِيَ اَقْوَمُ’’بے شک یہ قرآن اس (منزل) کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سب سے درست ہے ۔‘‘جب ہم اس کائنات میں غورو فکر کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اس کائنات میں بڑی مرکزی اہمیت حاصل ہے اور اس کائنات کی ہر چیز اس کے لئے مسخر ہے اور یہ انسان اپنی عقل کی بناء پر ہر شے کو اپنے تصرف میں لارہا ہے۔ یوں انسان اس کائنات کا بادشاہ اور شہنشاہ دکھائی دیتا ہے۔ اتنی زیادہ قوت و طاقت کی بناء پر اس کے پھسلنے کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ ان سے بچانے کے لئے انسان کو باری تعالیٰ نے اپنا کلام قرآن عطا کیا ہے اور بلاشبہ انسان اور قرآن اس کائنات کی دو مسلمہ حقیقتیں ہیں اور ان دونوں میں سے قرآن نے انسان کے بارے میں بتادیا ہے کہ وہ انسان کیا ہے، اب انسان کے لئے سب زیادہ ضروری ہے کہ قرآن کو پڑھے، سمجھے اور بار بار اس میں غوروفکر کرے تاکہ وہ اپنی انسانیت کی حقیقت کو پاجائے اور قرآن کے نزول سے لے کر اور ہدایت کی فراہمی اور رسانی تک سارے امور قرآن کو بخوبی جان لے اور دوسروں کو اس قرآن کی آفاقی تعلیمات سے صحیح معنوں میں آگاہ کرے۔ انسان کو بندہ رحمٰن بننے کے لئے قرآن سے بہتر کوئی چیز راہنمائی نہیں دے سکتی۔ اب ہم قرآن ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ یہ کب نازل ہوا اور اس کے نازل کرنے کا مقصد رب کے نزدیک کیا ہے اور انسان نے اس قرآن کے بارے میں کیا نقطہ نظر اپنایا ہوا ہے؟ سورہ بقرہ میں ارشاد فرمایا،قرآن ِ کریم انسانیت کی ہدایت وراہ نمائی کے لیے نازل ہوا، اس میں دین ودنیا کی سعادت، بنی نوع انسان کی ہدایت اور اخروی نجات کی ضمانت ہے۔ اس کی شان اعلیٰ وارفع ہے۔ یقیناًیہ قرآن کریم کا اعجاز اور نبی پاکؐ کو عطا کردہ وہ معجزہ ربانی ہے جو اس کے پڑھنے، سننے او راس کے معانی مفاہیم کے سمجھنے والے کے دلوں پر اثر کرتا ہے۔کیوں کہ الله تعالیٰ نے قرآن کریم کے اندر ایسی حلاوت، مٹھاس اور مقناطیسی صفات رکھی ہیں کہ اس کی آواز جن کے کانوں میں پڑی، اسے اپنانے پر مجبور ہو گئے۔ قرآن کریم کے اثر آفرینی کا پختہ یقین اہل ِ مکہ کو بھی تھا۔ یہی وجہ ہے انہیں ایسا لگتا تھا کہ اگر محمد صلی الله علیہ وسلم کی باتیں اوران کے اس کلام کی آواز جسے لے کر وہ آئے ہیں، ہمارے کانوں کے ساتھ ٹکرائی تو بچ نہیں پائیں گے، جس کی وجہ سے وہ لوگ قرآن کی آواز کو سننا ہی پسند نہیں کرتے تھے اور اس سے بچنے کے لیے ہر ممکن کوششوں میں لگے رہتے، بلکہ اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیا کرتے تھے کہ حق کی آواز سے بچ جائیں، مگر اس سب کے باوجود جب ان کے کانوں سے قرآن کی آواز ٹکرائی تو ان کے دل کی اجڑی ہوئی دنیا یک لخت بد ل گئی اور ان کا دل نورِ ایمان سے جگمگا اُٹھا۔ ان کی کیفیت یہ ہو گئی کہ جس چیز سے جان بچا کر بھاگتے تھے اسی کے عاشق ہو گئے او رجس نبی ؐسے جان چھڑانے کے درپے تھے، اُن پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کو زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ اور سرمایہ سمجھا او رنبی پاکؐ پر ایمان لائے بغیر نہ رہ سکے۔الله تعالیٰ نے اس کے ایک ایک حرف کے پڑھنے پر ثواب رکھا ہے اور اس کا پڑھنا، لکھنا، سمجھنا، دیکھنا، چُھونا، عبادت اور کارثواب ہے۔ اس لیے ہمیں سمجھ میں آئے یا نہ آئے، تب بھی اس کی تلاوت ضروری کرنی چاہیے او راگر اس کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اس میں تفکر اور تدبر اور پور ے انہماک سے کام لیں تو یہ ربّ ِدو جہاں پر ایمان وعقیدہ کو اور بھی مضبوط اور ٹھوس کرتا ہے۔مندرجہ تفصیلات سے واضح ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت باعث برکت اور اجر و ثواب کا موجب ہے اور تلاوت کا حق یہ ہے کہ اس کی نہ صرف صحیح ادائیگی کے ساتھ تلاوت ہو، بلکہ قاری کو غور و خوض کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کے لئے کیا احکام نازل فرمائے؟ نزول قرآن کا مقصد کیا ہے؟ جن آیات ربانی کی اس نے تلاوت کی ہے، اس کا پیغام کیا ہے؟ ان کو کس حد تک اس نے سمجھا ہے؟ ان کے اندر کس قدر حقائق و معارف اور اسرار و رموز ہیں؟ اور وہ کس حد تک اس پر پیرا ہے؟ محض تلاوت ضرور اجر و ثواب کا باعث، درجات کی بلندی اور گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے، لیکن حقیقی مقصود اس کے پیغام کو دل میں سموکر اس کے مطابق عمل کرنا ہے۔ اسی کے ذریعہ تلاوت کا حق ادا ہوتا ہے اور یہی نزولِ قرآن کا مقصد ہے۔اﷲ تعالیٰ ہمیں قران مجید کی تلاوت کرنے کی تو فیق عطا فرمائے ۔ آمین