پرے ممتاز
بلا شبہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس کے لغوی معنی حفاظت کرنا،امن وسکون پانا یا باقی لوگوں کو امن وسکون کا پیغام دینے کے ہیں۔ اسلام پوری دُنیا میں سلامتی پھیلانے کے ساتھ ساتھ انسان کو انسانیت کا درس دے کر ایک طرف سے امن و بھائی چارے کو قائم کرتا ہے اور دوسری طرف انسانیت کو دُنیا کی تاریکیوں سے نکال کراُنہیں روشنی کا زیور پہناتاہے۔ اسلام کو اگرواقعی قرآن وسنت کے عین مطابق لوگوں کے سامنے پیش کر کے انہیں اس کی تعلیمات پر عمل کروانے کی تدبیر سوچی جائے ، اسے خود کی نمائش کیلئے استعمال نہ کیا جائے اوراس میں کسی بھی قسم کے بخل کو جگہ نہ دی جائے تو دنیا میں یقینی طور پر فسادات و خرافات کا خاتمہ ہو جائے گا یعنی امن وبھائی چارہ،پیارومحبت اور ہمدردی و ایثار قائم ہوجائے گا۔ اسلام بغیر مذہب و ملت اور رنگ و نسل دُنیا میںرہنے والے تمام لوگوں، چھوٹا ہو یا بڑا ،امیر ہو یا غریب ،ہر کسی کو پیار و محبت کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی تعلیم دیتا ہے ۔اسلام ایک ایسا وسیع و گہرا مذہب ہے کہ جو ہمیں زندگی کے ہر موڑ پرایسی رہبری و رہنمائی کرتا ہے کہ خود انسان کی عقل بھی اس کی تعلیمات کے سامنے اپنا سر خم کرتی ہے۔اسلام ہمیں زبان کو میٹھا بنانا ،گالی گلوچ سے پرہیز کرنا ،دیانت وامانتداری سے کام لینا ،جھوٹ بولنے سے پرہیز کرنا ،عدل و انصاف سے کام لینا ، تہمت نہ لگانا ،جیسی خرابیوں سے محفوظ رہنے کا حکم دیا ہے کہ جیسے ایک باپ اپنی کنواری بیٹی کی حفاظت کرتا ہے۔ اسلام دُنیا و آخرت میں کامیابی کا وہ واحد راستہ ہے ،جس پر چلنے سے زندگیوں میں بہار،گھروں میں سکون ،سرکاری و غیر سرکاری دفاتر میں انصاف اور بازاروں میں دیانت و امانتداری کی فضا قائم ہوگی ۔یعنی ہر جگہ ایسا ماحول قائم ہوجائے گاکہ جیسا کہ صحابہ ؓ نے مدینہ و مکہ منورہ میں قائم کیا تھا ۔ اسلام خالص کتابوں سے جاننے کا نام نہیں ہے بلکہ اﷲ کے ہر ایک حکم کی پیروی کرنا اور حضورؐ کی بتائی ہوئی باتوں پرعمل کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو اس پرچلانے کی فکر کرنا ہے تاکہ دُنیا میں کھوئی ہوئی بہارواپس لوٹ آئے۔ حدیث میں آیا ہے۔
حضرت ابو درداءؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲؐ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تم کو روزہ،نماز اور صدقہ خیرات سے افضل درجہ والی چیز نہ بتائوں ؟صحابہ ؓ نے عرض کیا: ضرور ارشاد فرمائیے۔آپؐ نے ارشاد فرمایا : باہمی اتفاق سب سے افضل ہے کیونکہ آپس کی نااتفاقی (دین) کو مونڈنے والی ہے یعنی جیسے استرے سے سر کے بال ایک دم صاف ہو جاتے ہیں ایسے ہی آپس کی لڑائی سے دین ختم ہوجاتا ہے ۔(ترمذی)
بدقسمتی سے موجودہ دور میں اسلام کے نام پر ہم نے شعوری اور غیر شعوری طور پر فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دے رہے ہیں۔ اس آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں اس وقت ہم ایسے پھنس چکے ہیں کہ اب ایک دوسرے کو سلام کرنا ،بات کرنا حتیٰ کہ ایک دوسرے کا جنازہ پڑھنا بھی دشوار ہوگیا ہے۔ فرقہ واریت نے غیر محسوس طریقے سے ہماری ذات کو ہی نہیں بلکہ بذات خود دین اسلام کواتنا نقصان پہنچایا ہے کہ جتنا نقصان دشمنان اسلام بھی نہیں پہنچاسکتےہیں۔ موجودہ حالات میں جہاں لوگوںمیں پیار و محبت ،اخلاق وغیرہ کی تعلیمات کو عام کر نے کی اشد ضرورت ہے وہاں ہر مسلک کے لوگ اپنے اپنے مسلک پر اتنی شدت اختیار کئے ہوئے ہیں کہ دوسروں کے لئے کوئی گنجائش ہی باقی نہیں ۔منبروںپر بیٹھ کر فرقہ واریت کو بیان کرنا گویا کہ اُمت کو جوڑنے کے بجائے توڑنے کے برابر ہیں ۔فرقہ واریت کے زہر نے لوگوں کو اسلام کی بتائی ہوئی تعلیمات سے اتنا دور کردیا کہ اب واپس لانا محال بن گیا ہے۔ فرقہ واریت نے لوگوں کے اندر منافرت اس قدر بڑھادی ہے کہ ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں نہ پڑھنے،مسجدوں کو علحٰیدہ کرنے،ایک دوسرے کے مقابل میں آگے بڑھنے کی دوڑ میںتو اب ہماری آخرت بھی دائو پر لگ چکی ہے۔ فرقہ واریت نے ہماری مسجدوں کو بھی تقسیم کردیاہے ۔ نوبت یہاں تک آپہنچی ہےکہ تبلیغی مسجد،بریلوی مسجد،اہلحدیث مسجدوغیرہ نام رکھ رکھ کر اُمت کا شیرازہ بکھیر دیا گیا ہے۔اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ ظاہر ہے کہ موجودہ کورونا وائرس سے بھی زیادہ خطرناک اور تباہ کن فرقہ واریت کا وائرس ہے، جس نے نہ صرف انسان کے ظاہری اعمال کو نقصان پہنچا دیا بلکہ باطنی طور پر بھی انسان کو کھوکھلاکر کے اس کو تباہ و برباد کردیا ہے ۔مسجدیں ہدایت کے گھر ہیں لیکن آجکل کچھ خطیبوں نےمنبررسولؐ سے لیکر اب سوشل میڈیا خصوصاً فیس بُک پر ایک دوسرے کے لئے ایسی منافرت پھیلائی ہوئی ہے کہ اپنے تو اپنے بلکہ غیر بھی اب اسلام سے دور ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔حالانکہ اسلام ایک ایسا باغ ہے کہ جس میں ہر قسم کے پھول کھل جاتے ہیں ۔لیکن کیا ہوگا ان عقل کے اندھوں کا جو دو چار احادیث کو یاد کر کے سوشل میڈیا پر چڑھ کرفرقہ واریت کو ہوا دے رہے ہیںاور انہیںیہ تک پتہ نہیں چلتا کہ اُن کے اس غلط طرز عمل سے اب ایک عام انسان کے لئے یہ طے کرنا بہت ہی مشکل بن گیا کہ اصل اسلام کیا ہے کیونکہ یہ لوگ اسلام کو نہیں بلکہ اپنے آپکو پیش کرتے ہیںاور کھلم کھلا ایک دوسرے کو چلینج دیا کرتے ہیںکہ میں صحیح ہوں ، آپ غلط ہیں۔ میں یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ سارے لوگ ایسے نہیں بلکہ اس وقت بھی پوری دُنیا میں بہت سارے اعلیٰ معیار کے خطیب و علمائے کرام موجود ہیں جو لوگوں کو صحیح تعلیم و تربیت فراہم کرتے ہیں۔جو ہر وقت ہر لمحہ لوگوں کو فرقہ واریت کی دلدل سے نکالنے کی کوشش میں رات دن اس میں منہمک و مصروف رہتےہیں۔
ان سطور کو قلم بند کرنے کا میر مقصد یہی ہے کہ اس وقت تمام اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ہمیں ایک ہوکر اُمت مسلمہ کو ٹوٹنے سے بچا لینے کی ضرورت ہے۔ اُمت کو اخلاق ، دیانتداری ، امانتداری،عدل و انصاف کے راستے پر لانے کی کوشش کرنی چاہئےکیونکہ جس قوم میں یہ سب چیزیں جنم لیتی ہے ،وہ قوم عروج نہیں پا سکتی اور بالآخر اُس قوم کا بیڑا غرق ہوجاتا ہے۔ اس لئے ہم پر لازم ہے کہ منبر پر بیٹھنے سے پہلے اسلام کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے اورپھر اپنے دل صاف و شفاف بناکرہر ایک کو پیار و محبت،ہمدردی کے ساتھ اخلاقیات کی تعلیمات سے ہمکنار کیا جائے ۔لوگوں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی گھریلو مصروفیات کے علاوہ مسجدوں کو اعمال صالحہ سے آباد رکھنے کی فکر پیدا کریں کیونکہ مسجدیں ہدایت کے گھر ہیں اور ہمیں اپنے خطابات کے ذریعے لوگوں کو سے تمام فتنوں سے نکال کر انہیں ہدایت کے راستے پر ڈالنے کی فکر کریں۔ لوگوں کو بُرائیوں اور خرافات جیسی تباہ کُن گناہوں سے باز لانے کی کوشش کی جائے۔ وقت کی اشدضرورت ہے کہ لوگوں کوفرقہ واریت کی دلدل سے نکال کر اعمال صالحہ کے ساتھ ساتھ اﷲ کے دین کی دعوت پر کھڑا کیا جائے۔
[email protected]