ماجد مجید
فتح مکہ میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج دیکھتے ہیں جو اپنے مخالفوں سے ذاتی انتقام نہیں لیتے اکیس سال کی مسلسل مخالفتوں اور مزاحمتوں کے بعد جب اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح سے نوازا اور نصرت عطا فرمائی تو انہیں معاف فرما دیا، ان کی آزادی بر قرار رکھی اور ان کے ساتھ بھائی کا سلوک کیا ۔اس طرح کی مثال پوری تاریخ انسانی میں نہیں ملتی ،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رحیمانہ برتاؤ کیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا مقصد غلبہ و اقتدار نہ تھا،بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ہادی و مرشد اور عقل و ذہن کو فتح کرنے والے بنا کر بھیجے گئے تھے۔
اس لئے جب مکہ میں داخل ہوئے تو خشوع وخضوع سے گردن جھکی ہوئی تھی ،اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے، فخر و غرور کا نام تک نہ تھا ۔ اہل مکہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو معاملہ کیا، اس میں ایک زبردست حکمت تھی ،اللہ کو معلوم تھا کہ عرب سارے عالم پر اسلام کا پرچم لہرائیں گے، اس لئے اہل مکہ جو پوری قوم کے رہنما تھے ،کو زندہ رکھا تاکہ وہ اسلام میں داخل ہوجائیں اور اس کے بعد ہدایت و روشنی کے اس پیغام کو تمام قوموں تک لے جائیں۔ اس راہ میں اپنی جان و مال قربان کریں، جس سے قومیں اندھی تقلید سے نکل سکیں اور تاریکیوں سے نکل کر روشنی میں آسکیں۔ ایک اور اہم پہلو قابل غور یہ ہے کہ ناقابل تصور قلیل ترین مدت میں اللہ نے اس دعوت کو غلبہ عطا کیا ۔یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی صداقت کی ایک دلیل ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اللہ کی وہ دعوت ہے جس کی حفاظت اس پر ایمان لانے والوں اور اس کا پرچم بلند کرنے والوں کی مدد اور نصرت کی اس نے ضمانت لےلی ہے ۔اللہ تعالیٰ اپنی دعوت کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑ سکتا جبکہ یہ دعوت برحق ہے، رحمت اور روشنی کی پیامبر ہے اور اللہ بھی بر حق ،رحمان ہے رحیم ہے اس کی رحمت ہر چیز پر ہاوی ہے ،وہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے ،پھر بھلا اللہ کی روشنی کو کون بجھا سکتا ہے، وہ کیسے پسند کرسکتا ہے کہ باطل کو حق پر آخری فتح نصیب ہو اور درندگی حیوانیت اور فساد کو رحمت و اصلاح اور امن و آشتی پر قبضہ حاصل ہوجائے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہما کو احد و حنین کی جنگوں میں لاتعداد زخم آئے، یہ دعوت اسلامی کی راہ میں ناگزیر ہے ۔اللہ کا ارشاد ہے( ولینصرن اللہ من ینصر۔ان اللہ لقوی عزیز )( سورہ الحج آیت۔ 40) ترجمہ:’’ اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے اللہ بڑا طاقتور اور زبردست ہے۔‘‘
(ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی سرینگر)