مومن فیاض احمد غلام مصطفی
آج کا دور تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی، گلوبلائزیشن اور بین الاقوامی روابط کا دور ہے۔ فاصلے سمٹ چکے ہیں، سرحدیں محض نقشوں تک محدود ہو گئی ہیں اور دنیا ایک ’’گلوبل ولیج‘‘ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ایسے میں زبان صرف اظہار کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ ترقی، کامیابی اور عالمی سطح پر شناخت حاصل کرنے کا ایک مضبوط وسیلہ بن گئی ہے۔
ایک وقت تھا جب صرف مادری زبان یا انگریزی سیکھ لینا کافی سمجھا جاتا تھا، مگر آج حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ اب وہی افراد آگے بڑھ رہے ہیں جو ایک سے زیادہ زبانوں پر عبور رکھتے ہیں، مختلف ثقافتوں کو سمجھتے ہیں اور دنیا کے مختلف حصوں کے ساتھ مؤثر انداز میں رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فارین لینگویجز (غیر ملکی زبانوں) کا سیکھنا اب ایک شوق نہیں بلکہ ایک بہترین کیریئر آپشن اور ضرورت بن چکا ہے۔
گلوبلائزیشن نے تجارت، تعلیم، سیاحت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بے پناہ ترقی پیدا کی ہے۔ آج ایک ہندوستانی کمپنی جاپان میں بزنس کر رہی ہے، جرمنی کی کمپنی بھارت میں سرمایہ کاری کر رہی ہے اور کوریا کی ٹیکنالوجی پوری دنیا میں استعمال ہو رہی ہے۔ ایسے ماحول میں زبان ایک ’’پل ‘‘کا کام کرتی ہے، جو مختلف قوموں اور ثقافتوں کو آپس میں جوڑتی ہے۔ایک ماہر زبان دان نہ صرف الفاظ کا ترجمہ کرتا ہے بلکہ وہ دو مختلف تہذیبوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتا ہے، غلط فہمیوں کو دور کرتا ہے اور مؤثر رابطے کو ممکن بناتا ہے۔ یہی صلاحیت اسے کارپوریٹ دنیا، سفارتی میدان اور عالمی اداروں میں قیمتی بناتی ہے۔کیوں سیکھیں فارین لینگویج؟عالمی سطح پر ملازمت کے بہتر مواقع،زیادہ تنخواہ اور ترقی کے امکانات۔بیرون ملک تعلیم اور اسکالرشپس کے دروازے، مختلف ثقافتوں کو سمجھنے اور اپنانے کا موقع، اپنی شخصیت میں اعتماد اور کشادگی، آج کی دنیا میں ایک اضافی زبان جاننا ایسا ہی ہے جیسے آپ کے پاس ایک اضافی ہنر ہو جو آپ کو دوسروں سے ممتاز بناتا ہے۔ فارین لینگویج میں کیریئر بنانے کے لیے کوئی پیچیدہ راستہ نہیں، بلکہ ایک واضح اور آسان تعلیمی ڈھانچہ موجود ہے۔
بیچلر ڈگری ۔12ویں جماعت (کسی بھی اسٹریم) کے بعد متعلقہ زبان میں داخلہ لیا جا سکتا ہے۔مدت: 3 سال،ماسٹر ڈگری ۔اسی زبان میں گریجویشن کے بعد ماسٹر کیا جا سکتا ہے۔مدت: 2 سال،ڈپلومہ اور سرٹیفکیٹ کورسز۔مختصر مدت کے کورسز جو 6 ماہ سے 1 سال تک ہوتے ہیں اور جلد مہارت حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
فارین لینگویجز کے اہم شعب شعبے۔یہ میدان نہایت وسیع ہے، جس میں مختلف دلچسپ اور پیشہ ورانہ راستے موجود ہیں۔
(۱) لسانیات (Linguistics):زبانوں کی ساخت، اصول اور ارتقاء کا مطالعہ(۲) ترجمہ نگاری (Translation):تحریری مواد کو ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کرنا(۳) ترجمانی (Interpretation):بولی جانے والی زبان کا فوری ترجمہ، جیسے کانفرنسز اور میٹنگز میں(۴) تدریس (Teaching):اسکول، کالج یا انسٹی ٹیوٹ میں زبان کی تعلیم دینا۔
فارین لینگویج سیکھنے کے بعد آپ کے لیے روزگار کے بے شمار مواقع کھل جاتےہیں۔تعلیمی اداروں میں ٹیچر یا لیکچرر،فری لانس مترجم یا کانٹینٹ رائٹر۔سفارت خانوں میں ملازمت، سیاحت اور ٹریول گائیڈ، میڈیا اور فلم انڈسٹری، جرنلزم اور پبلک ریلیشنز،بین الاقوامی ادارے، اقوام متحدہ، یونیسکو، FAO جیسے عالمی اداروں میں زبان دانوں کی بڑی مانگ ہوتی ہے۔ اسی طرح بھارت میں وزارت خارجہ، ریزرو بینک آف انڈیا اور دیگر اداروں میں بھی مواقع موجود ہیں۔
مترجم اور ترجمان ۔ ایک باوقار پیشہ مترجم (Translator) اور ترجمان (Interpreter) دونوں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔مترجم کتابیں، تحقیقاتی مقالے، قانونی دستاویزات اور بزنس معاہدے ترجمہ کرتے ہیں۔ترجمان عالمی کانفرنسز، سفارتی ملاقاتوں اور بین الاقوامی ایونٹس میں فوری ترجمہ کرتے ہیں۔یہ پیشہ نہ صرف باوقار ہے بلکہ اچھی آمدنی کا ذریعہ بھی ہے۔سیکھنے کے لیے اہم زبانیں:اگر آپ فارین لینگویج میں کیریئر بنانا چاہتے ہیں تو درج ذیل زبانیں بہت مفید ہیں۔فرانسیسی (French)،جرمن(German)،چینی(Mandarin)،جاپانی(Japanese)، ہسپانوی (Spanish)،کوریائی (Korean)،روسی (Russian)،ان زبانوں کی عالمی سطح پر بہت زیادہ مانگ ہے۔
ابتدائی سطح پر تنخواہ 10,000 سے 15,000 روپے ماہانہ ہو سکتی ہے، لیکن تجربہ اور مہارت کے ساتھ یہ تیزی سے بڑھتی ہے۔مترجم 50 سے 100 روپے فی صفحہ۔ترجمان 300 سے 500 روپے فی گھنٹہ۔فری لانسنگ لاکھوں روپے ماہانہ تک ممکن۔اگر آپ بین الاقوامی کلائنٹس کے ساتھ کام کرتے ہیں تو آپ کی آمدنی کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ ہندوستان میں کئی ممتاز ادارے فارین لینگویج کی تعلیم فراہم کرتے ہیں۔جواہر لال نہرو یونیورسٹی (JNU)،دہلی یونیورسٹی، میکس مولر بھون،پونے یونیورسٹی، بنارس ہندو یونیورسٹی،یہ ادارے معیاری تعلیم اور بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں۔ بڑی آئی ٹی اور ملٹی نیشنل کمپنیاں فارین لینگویج ماہرین کو ترجیح دیتی ہیں، جیسے: TCS،Infosys,Wipro,Accenture,Tech Mahindraان کمپنیوں میں زبان دانوں کے لیے خصوصی پروجیکٹس ہوتے ہیں۔
روزانہ زبان کی پریکٹس کریں، سننے، بولنے، پڑھنے اور لکھنے پر توجہ دیں۔فلمیں، پوڈکاسٹ اور ویڈیوز دیکھیں،نیٹو اسپیکرز سے بات چیت کریں،مستقل مزاجی اور صبر کو اپنائیں۔
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی دلچسپی کو سمجھیں اور انہیں نئی زبانیں سیکھنے کی ترغیب دیں۔ اساتذہ طلبہ کی رہنمائی کریں اور جدید کورسز سے روشناس کرائیں۔ سماج کو بھی چاہیے کہ ایسے تعلیمی مواقع فراہم کرے جو نوجوانوں کو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بنائیں۔آج کے یہی بچے کل کے بڑے افسر، سفارت کار اور عالمی سطح کے ماہرین بنیں گے۔فارین لینگویجز کا میدان نہ صرف ایک بہترین کیریئر آپشن ہے بلکہ یہ آپ کو دنیا سے جوڑنے، سوچ کو وسیع کرنے اور کامیابی کی نئی راہیں کھولنے کا ذریعہ بھی ہے۔اگر آپ میں سیکھنے کا جذبہ، محنت کی لگن اور آگے بڑھنے کا حوصلہ ہے تو فارین لینگویج آپ کے لیے کامیابی کا دروازہ ثابت ہو سکتی ہے۔آج کا باشعور طالب علم اگر مستقبل میں نمایاں مقام حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ کسی نہ کسی غیر ملکی زبان کو ضرور سیکھے، کیونکہ یہی مہارت اسے دنیا میں ایک منفرد مقام دلا سکتی ہے۔
(رابطہ۔9890476581)
[email protected]