کچھ دن قبل الیکشن کمیشن آف انڈیا کا ایک بہت دلچسپ وضاحتی بیان نظر سے گزرا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ 2019کے پارلیمانی انتخابات میں جتنے ووٹ پڑے ہیں سب انسانوں نے ڈالے ہیں بھوتوں نے نہیں۔ بات معقول ہے کیونکہ بھوتوں کی نہ تو کوئی پارلیمنٹ یا اسمبلی ہوتی ہے، نہ ہی ان کے یہاں ووٹ ڈالے جاتے ہیں۔ نہ کوئی امیدوار کھڑا ہوتا ہے اور نہ ہی ان کے یہاں سے پولنگ میں بے ایمانی کی کوئی خبر آتی ہے۔ پولنگ میں بے ایمانی تو انسان کرتے ہیں۔ خواہ بیلٹ پیپر سے ووٹ ڈالے جائیں خواہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے۔ بیلٹ پیپر میں پھر بھی بد عنوانی کی اتنی گنجائش نہیں ہوتی جتنی کہ ووٹنگ مشینوں میں ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ ترقیات زمانہ کے طفیل بھوتوں کی دنیا بھی ترقی کر جائے اور وہاں بھی الیکشن ہونے لگیں۔ ذرا سوچئے کہ اگر وہاں بھی الیکشن ہونے لگیں اور کسی فرد واحد کو بھوتوں بھوت نگری کے الیکشن کمیشن کا چیف بنا دیا جائے تو کیا ہوگا؟ ۔ شایداس چیف صاحب کو بھی ایک وضاحتی بیان جاری کرنا پڑے گا اور یہ کہنا پڑے گا کہ جتنے ووٹ پڑے ہیں سب بھوتوں نے ڈالے ہیں انسانوں نے نہیں۔ تم لوگ خواہ مخواہ ہم پر شک کرتے ہو۔ ہم تو اپنا کام کر رہے ہیں۔ اور ہمارا کام اپنے آقا کا حکم بجا لانا ہے۔ گویا بھوت نگری میں کوئی جن الہ دین کے چراغ سے نکل آئے اور کہے کہ بولو میرے آقا کیا حکم ہے۔ آقا کہہ دے کہ تمھیں الیکشن میں مجھے جتانا ہے تو کیا وہ جن اس حکم کی خلاف ورزی کر سکے گا؟ ہرگز نہیں۔ وہ اپنے آقا کے حکم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دے دگا لیکن اس سے قطع نظر یہ خیال ذہن میں آرہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے کرناٹک کے لوکل باڈیز یعنی بلدیاتی اداروں کے الیکشن کے بارے میں ایسا کوئی وضاحتی بیان جاری نہیں کیا۔ حالانکہ وہاں بھی ایسے بیان کی پوری پوری گنجائش موجود ہے، جس طرح پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کی شاندار کامیابی ہوئی ہے اسی طرح ان بلدیاتی اداروں میں کانگریس کو شاندار کامیابی ملی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے جو کہ حیرت انگیز بھی ہے کہ بلدیاتی اداروں کا یہ الیکشن پارلیمانی الیکشن کے ایک ہفتے کے اندر ہوا ہے۔جو نتائج سامنے آئے ہیں ان کے مطابق 1300سیٹوں میں سے کانگریس کو 509 پر، جنتا دل ایس کو 174 پر، بی جے پی کو 336 پر اور دیگر کو 160 پر کامیابی ملی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کرناٹک کے عوام نے اتنی جلد اپنا من بدل دیا اور انھوں نے لوک سبھا میں تو بی جے پی کو غیر معمولی کامیابی عطا فرما دی اور اب لوکل باڈیز کے الیکشن میں کانگریس کو خوش کر دیا؟ یہ نتیجہ بہت سے سوالات کھڑے کرتا ہے۔ یہ سوالات سوشل میڈیا پر پوسٹ بھی کیے جا رہے ہیں لیکن امید ہے کہ الیکشن کمیشن ان سوالوں کو بھی شربت سمجھ کر اسی طرح پی جائے گا جس طرح وہ پارلیمانی الیکشن کے دوران ضابطہ اخلاق کی کئی خلاف ورزی کی شکایتوں کو پی جایا کرتا تھا۔
الیکشن کمیشن کو مذکورہ بیان اس لیے جاری کرنا پڑا کہ پورے ملک میں پارلیمانی نتائج پر اظہار تشویش کیا جا رہا ہے۔ اظہار تشویش کی ایک معقول وجہ ہے۔ یہ تشویش محض الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے خلاف شکایت کی بنیاد پر ظاہر نہیں کی جا رہی ہے بلکہ اس لیے کی جا رہی ہے کہ بے شمار حلقوں میں مشینوں میں پڑے ووٹوں اور گنے جانے والے ووٹوں میں کافی فرق پایا گیا ہے، یعنی پڑے کچھ اور ہیں اور گنے کچھ اور گئے ہیں۔ ایک میڈیا ادارے The Quint نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ فرق 373 لوک سبھا حلقوں میں دیکھا گیا ہے۔ اس کی رپورٹ کے مطابق یہ فرق تمل ناڈو کے کانچی پورم سیٹ پر 18331 ووٹوں سے لے کر تری پورہ ویسٹ کی سیٹ پر 19776 ووٹوں تک پایا گیا ہے۔ اس پر کمیشن کا کہنا ہے کہ اس کی ویب سائٹ پر جو اعداد و شمار دیے گئے ہیں وہ پراویژنل یعنی عارضی ہیں اور ان میں تبدیلی آسکتی ہے۔ وہ حتمی اعداد و شمار نہیں ہیں۔
اگر یہ بات درست ہے تو پھر اس کی ویب سائٹ پر کیسے اعتبار کیا جا سکتا ہے؟ اس کا مطلب تو یہ بھی ہوا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق جو اُمیدوار جیتا ہوا ہے وہ ہار بھی سکتا ہے اور جو ہارا ہوا ہے وہ جیت بھی سکتا ہے۔ اگر الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر غلط اعداد و شمار پوسٹ کیے جا سکتے ہیں تو پھر صحیح اعداد و شمار اور کہاں مل سکتے ہیں؟ کمیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ 2014 کے الیکشن میں حقیقی اعداد و شمار حاصل کرنے میں دو تین ماہ لگ گئے تھے لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ پول ہوئے ووٹوں اور گنے جانے والے ووٹوں میں اتنا فرق کیسے ہو سکتا ہے؟ یا تو پول ہوئے ووٹوں کی تعداد غلط ہو سکتی ہے یا پھر گنے ہوئے ووٹوں کی، لیکن ووٹوں کی گنتی تو اسی مشین سے ہوتی ہے جس پر ووٹ ڈالے جاتے ہیں۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ دونوں میں فرق آجائے؟ اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ کچھ نہ کچھ تو ہے۔ بیس لاکھ ووٹنگ مشینوں کے غائب ہونے کی جو خبر آئی تھی ،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ دُرست تھی۔ حالانکہ کمیشن نے اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔ تو پھر فرق کیوں نظر آرہا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ووٹ دوسری مشینوں میں ڈالے گئے اور گنتی دوسری مشینوں سے کی گئی۔ پولنگ اسٹیشنوں پر جو کاغذی ریکارڈ تیار ہوئے وہ تو نہیں بدلے جا سکتے لیکن مشینوں کے بارے میں یہ ضمانت نہیں دی جاسکتی ہے۔
اس سے قطع نظر ہم بھی الیکشن کمیشن کی یہ بات مان لیتے ہیں کہ سارے ووٹ انسانوں نے دیے ہیں بھوتوں نے نہیں کیونکہ ظاہر ہے کہ یہ کمال انسانی ہاتھوں ہی کا ہے۔ انھوں نے ہی کچھ کا کچھ کیا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ انسانی ہاتھوں کا کمال تو وجے مالیہ سے لے کرنیرو مودی تک دے بھی چکے ہیں۔ یا یو ںبھی کہہ سکتے ہیں دست غیب اپنا کوئی بھی کمال دکھاسکتا ہے۔
آج سوشل میڈیا پر لوگ اپنے اپنے علاقوں کی تفصیلات پوسٹ کر رہے ہیں جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مبینہ طور گڑبڑ تو ہوئی ہے۔ اس گڑبڑ کے خلاف بلکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے الیکشن کرائے جانے کے خلاف ملک میں کہیں کہیں احتجاج بھی ہو رہا ہے۔ جس روز نریندر مودی اپنی کابینہ کے ساتھ حلف لے رہے تھے اسی روز دہلی اور ممبئی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور ووٹنگ مشینوں کے بجائے بیلٹ پیپر سے پولنگ کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس احتجاجی تحریک میں کئی نامی گرامی شخصیات شامل ہیں جن میں ممبئی ہائی کورٹ کے سابق جج کولسے پاٹل بھی ہیں۔ ان کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ اگر قانون کے مطابق لڑائی لڑی جائے یعنی اس الیکشن کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا جائے تو یہ بقول ان کے کالعدم ہو سکتا ہے۔ بہر حال ابھی اپوزیشن جماعتیں اس تحریک میں کھل کر شامل نہیں ہوئی ہیں۔ ان کی کیا مجبوری ہے یہ وہی جانتی ہوں گی لیکن رفتہ رفتہ بیانات آنے لگے ہیں۔ اس سلسلے میں شرد پوار کا بیان کافی اہمیت کا حامل ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں بھی اس تحریک میں شامل ہوں گی اور اس مبینہ گھپلے بازی کا پردہ فاش ہوگا۔ اگر تحریک جاری رہی تو وہ بھوت ایک دن ضرور پکڑا جائے گا جس نے مبینہ طور پر تمام مشینوں میں گھس کر حقائق تبدیل کر دئے۔