ساریہ سکینہ
یوں تو میں نے کئی بار سوچا تھا کہ میں ان کے بارے میں نہیں لکھوں گی۔ لیکن ہر روز آتے جاتے ان سے سامنا ہوتا رہتا تھا۔ میں ان کو سوچنا نہیں چاہتی تھی۔ ان کے ساتھ نہ لینا ہے نہ دینا ۔ نہ وہ میرے دوست، نہ ہمسائے اور نہ رشتے دار۔ پھر کیوں میں ان کے بارے میں لکھوں؟ میں ایک غبارے والے کے بارے میں کیوں لکھوں؟
وہ ہم سے بہت مختلف ہیں۔ ان کا رہن سہن، ان کا لباس، یہاں تک کہ ان کی زبان بھی ہماری زبان سے مختلف ہے۔ وہ موسموں کی طرح آتے اور جاتے ہیں۔ پچھلی دفعہ وہ بہار کے موسم میں آئے تھے۔ اور تقریباََ مہینہ بھر رہ کر کسی اور شہر چلے گئے تھے۔ اب کی بار وہ پھر کب آئیں گے، آئیں گے بھی یا نہیں اس کا کوئی بھروسہ نہیں۔
میں جب بھی گھر سے باہر نکلتی ہوں تو پہلی نظر اس جگہ پر پڑتی ہے جہاں وہ اکثر ڈھیرا ڈھال کر بیٹھ جاتے ہیں. اور دوسری نظر آسمان کی اور چلی جاتی ہے کہ کہیں کوئی آوارہ غبارہ پھر سے آسمان میں بے لگام تو نہیں چھوٹ گیا ہے، جو اپنا سفر خود اکیلے طے کرنا چاہتا ہے۔ ایک دن ایک غبارے کا میری نظروں نے بہت دیر تک تعا قب کیا۔ وہ غبارہ آسمان کی طرف ایسے چلا جا رہا تھا جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ مجھے بے سہارا نہ چھوڑو۔ میری ڈوری کو تھام لو، بالکل ویسے ہی جیسے ان لوگوں کی یاد مجھے اکثر کہتی ہے کہ ہمیں ہمیشہ اپنی یادوں میں شامل رکھو۔ وہ غبارہ جب تھوڑا اور آسمان کی اور چلا جا رہا تھا تو وہ اپنی آزادی کو محسوس کرنے لگا۔ پھر تھوڑی اور دوری کا سفر طے کرنے کے بعد اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور وہ وہی اسی آسمان میں کہیں غائب ہو گیا۔ وہ لوگ بھی ایسے ہیں کہ جب وہ کسی جگہ پر ڈھیرا ڈھال کر بیٹھ جاتے ہیں، تو وہ جگہ ان کی ہو جاتی ہے۔ وہ شہر، وہ سڑک اور وہاں سے آنے جانے والے لوگ، سب انہیں اپنے معلوم ہوتے ہیں۔ اور پھر جب کسی اور جگہ جانے کا وقت آ جاتا ہے تو وہ جگہ، وہ شہر، وہ سڑک اور وہ آنے جانے والے لوگ ایک دم سے پرائے ہو جاتے ہیں اور دوسری جگہ کی محبت ان کے دلوں میں جگہ بنانے لگتی ہے۔
میں اکثر خود سے بار بار کہتی رہتی ہوں کہ میں ان کے بارے میں کیوں لکھوں یا سوچوں؟ لیکن سچ یہ بھی ہے کہ ہماری نظروں میں بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ہماری زندگی کو براہ راست یا بالواسطہ متاثر کرتے ہیں۔ لیکن ان میں ایسا کیا تھا جو انہوں نے مجھے متاثر کیا؟ اب سوال یہ تھا کہ انہوں نے مجھے کیسے اور کیوں متاثر کیا؟
ہمارے گھر کے باہر سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر غبارے والے تقریباََ ہر سال آ کر بیٹھ جایا کرتے ہیں۔ پہلے پہلے جب وہ آئے تھے تو میں ان کو نظر انداز کر کے اس راستے سے آگے چلی جاتی تھی۔ لیکن پھر چاہتے ہوئے اور نہ چاہتے ہوئے بھی میری بے لگام نظر ان کی طرف چلی جاتی تھی۔ ان کے پاس ہوتا ہی کیا تھا؟ میری نظریں پہلے وہی تو تلاش کرتی تھی۔ چند برتن، ایک بچھونے کی چادر اور کچھ کمبلیں جو لحاف کا کام دیتی ہوںگی اور ایک بڑی سی گھٹری جس میں شاید ان کے پہننے کے کپڑے ہوتے ہوںگے۔ ایک عدد گیس کا سلنڈر اور وہی گیس وہ ان غباروں میں بھرتے تھے جو وہ بیچنے کے لئے لاتے تھے۔
وہ کل ملا کر چھ افراد تھے۔ ہاں! پچھلے سال آکاش، اس کے ماں باپ، اس کی بیوی اور دو بچے تھے۔ تو کل ملاکے وہ چھ افراد ہی ہوئے۔ لیکن ان کے استعمال کا سامان بہت مختصر تھا۔ چند برتن، ایک بچھونے کی چادر، کچھ کمبلیں اور ایک گھٹری کپڑوں کی۔ کیا یہ کافی ہوتا ہوگا ان کے لئے؟ ہر بار یہی سوال ان کو دیکھ کر مجھے تنگ کرتا تھا۔
ایک دفعہ ہم، میں اور میرا بچہ، ان کے پاس گئے تھے۔ ایک غبارہ خریدنے کے لئے۔ اس وقت آکاش کا والد وہاں پر تھا۔
یہ غبارہ کتنے میں ہے۔۔۔۔؟
میں نے لال غبارے کی طرف اشارہ کیا جو دل کی شکل میں تھا۔
20 روپے۔۔۔۔۔۔۔
15 میں نہیں دے سکتے۔۔۔۔۔؟
نہیں۔۔۔۔!
اس کا سیاہ سرخ چہرہ اور اس پر اس کی آنکھیں۔۔۔۔ رعب دار۔ میں اور کچھ کہہ نہ پائی۔
ٹھیک ہے۔۔۔ دے دو۔۔۔
اس نے غباروں کے گچھے میں سے وہی غبارہ توڑ کر دیا جس کی طرف میں نے اشارہ کیا تھا۔ میں نے 20 روپے نکال کر دے دئے۔ میں نے وہ غبارہ اپنے بچے کے ہاتھ میں دیدیا اور بازار کی طرف چل پڑے۔ آدھے راستے پر ہی بچے کے ہاتھ سے وہ غبارہ چھوٹ گیا اور وہ آسمان کی طرف چلا گیا۔ بچے نے رونا شروع کیا کہ مجھے نیا غبارہ چاہئے۔
اب شام ہو چکی تھی اور ہم واپسی پر اسی راستے سے آئے جہاں پر غبارے والے تھے۔ اس وقت انہوں نے چولہا جلایا تھا اور اس پر کڑھائی رکھ کر کچھ پکا رہے تھے۔ وہ سارے افراد اس چولہے کے اِرد گِرد بیٹھے تھے۔ ان کے چہرے پر ایک سکون بھری مسکراہٹ تھی۔ میری نظر ان کی مسکراہٹ سے نہیں ہٹ رہی تھی۔ ہم جیسے ہی ان کے قریب پہنچے تو میں نے کہا،
مجھے ایک غبارہ چاہئے۔۔۔۔۔
آکاش کے والد نے آکاش کو غبارہ بیچنے کے لئے کہا۔ آکاش نے غبارہ دیا اور میں نے 20 روپے نکال کر اس کے ہاتھ میں دے دیئے۔ میں نے کئی دفعہ سوچا تھا کہ میں ان سے ان کے شہر کے بارے میں پوچھوں لیکن کبھی موقع نہیں ملا۔ اب موقع تھا تو میں نے پوچھ ڈالا،
آپ لوگ کہاں رہتے ہیں۔۔۔۔؟
ہم۔۔۔۔؟
جی۔۔۔!
ہم راجستھان سے ہیں۔۔۔۔
میں اس سے اب اس کا نام پوچھنے والی تھی کہ اسی وقت اس کی ماں نے اس کا نام پکارا،
آکاس۔۔۔۔۔۔!
اس نے اور بھی کچھ کہا۔ مجھے ان کی زبان سمجھ نہیں آئی، مگر یہ اندازہ ہو گیا کہ وہ اس کو کھانے کے لئے بلا رہی تھی۔ انہوں نے ایک تھالی میں سارا کھانا ڈال دیا تھا اور سب لوگ ایک ساتھ اسی تھالی سے کھا رہے تھے۔ ان کے پاس راشن رکھنے کا سامان نہیں تھا۔ غرض وہ اتنا ہی لاتے تھے جتنا خرچ ہوتا۔ میں نے دیکھا تھا انہوں نے دوسری طرف اپنے لئے سونے کا انتظام کر رکھا تھا۔ یعنی وہ کھانا کھاتے اور پھر سو جاتے۔
سڑکوں پر لگے کھمبوں سے آرہی روشنی میں وہ رات کا کھانا کھا رہے تھے۔ مجھے گھر کی طرف چلتے ہوئے بار بار ان کی سکون بھری مسکراہٹ یاد آرہی تھی اور یہ خیال پھر ستانے لگا کہ وہ لمبی پھیلی سڑک جس پر کُتّوں کا ہجوم ہے اور کھلے آسمان کے تلے کیسے سوئیں گے؟ وہ پہلی دفعہ نہیں تھا جب وہ سڑک پر سونے والے تھے بلکہ وہ کئی سالوں سے ایسا ہی کرتے آ رہے تھے۔ تو پھر مجھے ان میں الگ کیا لگ رہا تھا؟ یہ کیا تھا جو مجھے ان کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر رہا تھا۔
میں گھر کے مین گیٹ کے اندر داخل ہوئی تو خیال آیا کہ کبھی ہم گھر کے اندر رہ کر بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے اور وہ کھلے آسمان کے تلے چین کی نیند سو جاتے ہیں۔ ہم مہینوں کے لئے راشن جمع کر کے رکھتے ہیں اور وہ غبارے والے، ضرورت کے مطابق صرف ایک وقت کے لیے راشن لاتے ہیں۔ ان کو یقین ہے کہ جس نے آج راشن دیا وہ کل بھی دے گا۔ گویا ان کی زندگی توکل پر گزرتی ہے اور یہی توکل ان کو سکون دیتا ہے۔
شام کو یہی سوچتے سوچتے مجھے نیند بھی آگئی تھی۔ اگلے دن جب میں باہر نکلی تو وہ جگہ خالی پڑی تھی۔ وہ پہلے ہی سامان سمیٹ کر نکل گئے تھے۔ وہ جگہ جیسے ویران ہو گئی تھی۔ میں نے پھر آسمان کی طرف دیکھا۔ تو چھ آوارہ غبارے آسمانوں کی طرف جا رہے تھے. اپنا ایک نیا سفر طے کرنے کے لئے۔
���
حضرتبل سرینگر، کشمیر