شہزاد احمد کھٹانہ
انسان جذبات میں آکر نہ جانے کتنے وعدے کر دیتا ہے۔ کچھ وعدے انسان جلد بازی میں تو کچھ وعدے بغیر سوچے سمجھے کر دیتا ہے، پر یہ وعدے جس سے کیے ہوں، وہ انہی وعدوں کے سہارے زندگی گزار دیتا ہے۔ وہ انسان ان وعدوں کا وہم اپنے دل و دماغ میں لے کر عمر بھر وہی وہم پالتا رہتا ہے۔ کچھ ایسا ہی وہم میں بھی برسوں سے اپنی آغوش میں لئے بیٹھا ہوں۔
وہ دن، وہ تاریخ آج بھی یاد ہے جس دن اس شخص نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔ وہ وعدہ میرے لئے بہت اہم تھا۔ “یار! میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تمہارے ساتھ رہوں گی، میں تمہارا ساتھ کبھی نہ چھوڑوں گی، یہ میرا تم سے وعدہ ہے، تم میری آخری خواہش ہو۔” یہ وعدہ اس کے لئے شاید خوشی میں کہی ہوئی ایک بات تھی، پر میرے لئے وہ بہت اہم تھا۔ میں اس وعدے کو لے کر سوچ میں مبتلا تھا کہ وہ بول اٹھی: “تم کہاں کھوئے ہوئے ہو؟” میں نے جواب دیا: “کچھ نہیں، کچھ نہیں، بس سوچ رہا تھا کہ تمہارے وعدے جھوٹے تو نہیں؟” اس نے کہا: “ارے ایسا نہیں، میں نے دل سے یہ وعدہ کیا ہے اور قسم کھائی ہے، میں اس پر قائم رہوں گی۔”
میں یہ بات سن کر بہت خوش ہوا کہ ہمارا رشتہ اب ہمیشہ رہے گا، پر اللہ کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ اس نے کہا: “تم بھی مجھ سے وعدہ کرو کہ تم ہمیشہ میرے ساتھ رہو گے، میرے بغیر کسی کے نہ ہو گے اور نہ خود کو ہونے دو گے۔” یہ سن کر میں فوراً بولا: “یہ میرا وعدہ ہے کہ صرف تم ہو اور تم ہی رہو گی نہ کوئی اور میری زندگی میں آئے گا نہ آنے دوں گا۔” میں یہ عہد کرتے ہوئے بہت خوش تھا اور سوچا کہ اس کا مان عمر بھر رکھوں گا۔ وہ بھی میرا وعدہ سن کر بہت خوش ہوئی۔وہ ہماری زندگی کا خاص دن تھا، ہم نے ایک دوسرے کو زبان دی تھی کہ ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔ اس دن صرف وعدے ہی نہیں ہوئے بلکہ قسمیں بھی کھائی گئیں کہ ہر حال میں، چاہے غم ہو یا خوشی، ساتھ نبھائیں گے۔
برسوں یہ وعدہ نبھاتے گزر گئے، پر ایک دن ایسا آیا جب اس نے مجھ سے کہا: “میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، اب میں تم سے دور ہونا چاہتی ہوں۔” میں یہ سن کر اس دن کے بارے میں سوچنے لگا جب ہم نے قسمیں کھائی تھیں۔ میں نے اس سے پوچھا: “کیوں؟ ایسا کیا ہوا ہے؟ جواب دو۔ آخر وہ قسمیں اور وعدے کہاں گئے؟”اس نے کہا: “کچھ نہیں، بس میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔” میں مزید کچھ نہ کہہ سکا کیونکہ اس نے پہلے ہی دور جانے کا ارادہ کر لیا تھا۔ بس جاتے جاتے میں نے اتنا کہا: “وہ قسمیں یاد تو ہوں گی نا؟” یہ سن کر وہ ہنس کر بولی: “کون سے وعدے؟ ارے! تم ان وعدوں کو لے کر بیٹھے ہو؟ وہ تو صرف خوشی میں کہی ہوئی باتیں تھیں، کوئی وعدہ یا قسم نہیں تھی۔ تم ان باتوں کو لے کر کوئی وہم نہ پال لینا۔” وہ یہ کہہ کر ہنستے ہنستے چلی گئی اور پھر مڑ کر نہ آئی۔
پر میں کہیں نہ کہیں ان وعدوں کے مان میں تھا کہ میں اپنا عہد نبھاؤں گا۔ شاید اس کے وعدے کھوکھلے تھے، پر میں اپنے وعدوں کو کھوکھلا نہیں ہونے دوں گا۔ میں اپنے وعدے کا مان آج بھی رکھ رہا ہوں اور رکھتا رہوں گا کیونکہ میں نے وہ وعدہ دل سے کیا تھا۔
���
مست پورہ شوپیان، کشمیر
[email protected]