بلال فرقانی
سرینگر//شہر کے قلب میں واقع تاریخی پولو ویو پارک کو پرانے ٹائروں، ناکارہ مشینری، لکڑی کے فضلے اور دیگر مستعمل اشیاء سے تیار کردہ ونڈر گارڈن میں تبدیل کرنے کے فلوریکلچر محکمہ کے منصوبے پر ماہرین ماحولیات، شہری منصوبہ سازوں اور ماحولیاتی کارکنوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اس پالیسی پر فوری نظرثانی پر زور دیا ہے۔ محکمہ پھولبانی و پارک کے مطابق پولو ویو پارک کو ایک منفرد تھیم گارڈن کی شکل دی جا رہی ہے، جہاں باغی فضلہ، دفتر کے ناکارہ سامان اور دیگر استعمال شدہ اشیاکو آرائشی ڈھانچوں میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ محکمہ کا دعوی ہے کہ اس منصوبے پر مارکیٹ سے کوئی نیا سامان نہیں خریدا جارہا ہے اور تمام کام ری سائیکل شدہ مواد سے تیار کیا جارہا ہے۔ڈائریکٹر فلوریکلچر کشمیر مطہرہ معصوم کے مطابق پارک میں گرے ہوئے درختوں کی لکڑی سے تیار کردہ ٹرین، پرانے ٹائروں سے بنائے گئے گملے، ناکارہ الیکٹرک کیتلیوں سے تیار شدہ پھول دان، مکڑی کی شکلیں، پرانے کھمبے، استعمال سے باہر ہو چکی وہیل باروز اور ایک پرانا ٹریکٹر نصب کیا گیا ہے تاکہ بچوں اور سیاحوں کے لیے کشش پیدا کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کا بنیادی مقصد لوگوں کو کچھ نیا فراہم کرنا اور یہ پیغام دینا ہے کہ کچرے کو ضائع کرنے کے بجائے دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق پارک کو جولائی یا اگست کے اوائل میں عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔تاہم ماہرین ماحولیات اس منصوبے کو سرینگر کے ماحولیاتی توازن اور شہری ماحول کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں۔ سینئر سائنسدان اور جموں و کشمیر پولیوشن کنٹرول بورڈ کی سابق نوڈل افسر مظہرہ دیوا نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سرینگر کے مصروف ترین تجارتی مرکز میں اس نوعیت کے منصوبے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر اپنی قدرتی خوبصورتی، درئویاں، جھیلوں، پہاڑوں، باغات اور قدرتی مناظر کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے، نہ کہ صنعتی شہروں کی طرز کے تھیم پارکس کی وجہ سے،جوپہلے ہی ماحولیاتی دبائو کا شکار ہے۔ مطہرہ دیوا نے کہاکے سرینگر کے مرکزی علاقوں میں ٹریفک کا بے پناہ رش ہے، گاڑیوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، ایئرکنڈیشنروں کا استعمال بڑھ چکا ہے اور کاربن اخراج میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ ایسے حالات میں شہر کے عین مرکز میں پرانے ٹائروں، لوہے کے ڈھانچوں اور دیگر نا قابل استعمال چیزوں کو مستقل بنیادوں پر جمع کرنا مزید ماحولیاتی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ شہری علاقوں میں گرمی کے جزیرے کا اثر پہلے ہی محسوس کیا جا رہا ہے اور اس طرح کے منصوبے صورتحال کو مید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔مظہرہ دیوا کے مطابق حکومت کو اس منصوبے پر عملدرآمد سے قبل ماحولیاتی اثرات کا باقاعدہ جائزہ لینا چاہیے تھا اور ماہرین ماحولیات سے مشاورت کرنی چاہیے تھی۔انہوں نے کہا کہ میں بطور ماحولیاتی ماہر اس منصوبے کی حمایت نہیں کر سکتی کیونکہ سرینگر کو تھیم گارڈنوں کی نہیں بلکہ زیادہ سبزہ، زیادہ درختوں اور قدرتی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کی ضرورت ہے۔معروف ماحولیاتی کارکن ڈاکٹر راجہ مظفر بٹ نے بھی منصوبے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے تاریخی مغل باغات دنیا بھر کے لیے ایک نمونہ ہیں اور کئی ممالک نے انہی باغات کے طرز پر اپنے باغات تعمیر کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ مغل باغات کا تصور مغل دور میں آیا لیکن ان کی تعمیر، ڈیزائننگ اور باغبانی کی مہارت مقامی کاریگروں اور فنکاروں کی مرہون منت تھی۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا آج بھی کشمیر کے باغات سے سیکھ رہی ہے جبکہ ہم خود اپنی شناخت سے دور جا رہے ہیں۔ ہمیں اپنی ثقافتی، تاریخی اور ماحولیاتی وراثت کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، نہ کہ بیرونی ماڈلز کی اندھی تقلید کرنے کی۔ڈاکٹر راجہ مظفر نے کہا کہ اس نوعیت کے منصوبوں میں ماہرین ماحولیات، ہیریٹیج ماہرین، شہری منصوبہ سازوں اور ماحولیاتی سائنسدانوں کو شامل کیا جانا چاہیے تھا، لیکن بدقسمتی سے اکثر فیصلے تکنیکی مشاورت کے بغیر کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر اس منصوبے کے دوران درختوں کی کٹائی کی گئی یا بڑی مقدار میں پرانا دھاتی اور ربڑ کا سامان مستقل طور پر پارک میں رکھا گیا تو اس کے طویل مدتی ماحولیاتی اثرات سامنے آسکتے ہیں۔ دوسری جانب فلوریکلچر محکمہ اپنے منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے اسے ماحول دوست اقدام قرار دے رہا ہے۔ محکمہ کا موقف ہے کہ دنیا بھر میں ری سائیکلنگ اور ویسٹ مینجمنٹ کے جدید تصورات کو فروغ دیا جا رہا ہے اور پولو ویو پارک کا مقصد بھی یہی پیغام دینا ہے کہ فضلہ کو کارآمد اور خوبصورت اشیامیں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ری سائیکلنگ اپنی جگہ ایک مثبت تصور ہے لیکن کشمیر جیسے قدرتی حسن سے مالا مال خطے میں کسی بھی منصوبے کو مقامی ماحول، تاریخی شناخت اور شہری ماحولیاتی حساسیت کے تناظر میں دیکھنا ناگزیر ہے۔