موت منظور ہے نہ مات ہمیں
چاہئے پھر بھی کائنات ہمیں
ایک ہی صف کے ہم نمازی ہیں
بانٹتی کیوں ہے ذات،پات ہمیں
کیا تسلسل کے ساتھ ماضی کے
یاد آتے ہیں واقعات ہمیں
لگ رہی ہے تری زبانی کیوں
بات امن و اماں کی گھات ہمیں
بادشاہت نصیب کرتی ہے
آپ کی چشمِ التفات ہمیں
دن کے دامن میں منہ چھپائے ہوئے
گنگناتی ہے کالی رات ہمیں
اپنے بارے میں کر دیا اس نے
بے اثر اور بے ثبات ہمیں
جب تھے ہم شہسوارِ حق مصداقؔ
راہ دیتی رہی فرات ہمیں
مصداقؔ اعظمی
جوماں،مجواں، پھولپور، اعظم گڑھ یوپی
موبائل نمبر؛9451431700
گزرے ہوئے لمحے وہ زمانے نہیں آتے
“ہونٹوں پہ محبت کے فسانے نہیں آتے”
لگتا ہے مرے اپنے مجھے بھول گئے ہیں
اب لوگ مجھے گاؤں بلانے نہیں آتے
اُس باغِ محبت میں کروں کیا میں جہاں پر
موسم تری یادوں کے سہانے نہیں آتے
اس بار جو بچھڑا تو وہ کہہ کر یہ گیا ہے
رشتے تجھے چاہت کے نبھانے نہیں آتے
اس طرح مرے یار سبھی ہو گئے بے حس
اب روٹھ بھی جاؤں تو منانے نہیں آتے
عالم ؔ ترے بس کا نہیں الفت کو نبھانا
لوہے کے چنے تجھ کو چبانے نہیں آتے
آفتاب عالم ؔ شاہ نوری
کروشی بلگام کرناٹک
موبائل نمبر؛8105493349
لمحے اُدھار دے دے
بس دو یا چار دے دے
اپنی وفا کے سائے
سب مجھ پہ وار دے دے
تیرے ہزاروں سپنے
رب بار بار دے دے
مجھ میں نہیں ہنر ہے
غزلیں سنوار دے دے
لکھتا ہوں نام تیرا
کچھ اعتبار دےدے
طلحہؔ! تجھ پر ہے واجب
دعائیں ہزار دے دے
جنید طلحہ ؔ
آونورہ شوپیان، کشمیر
رہبر بھی مری قوم کے قاتل بھی یہی ہیں
ظالم کے مددگار بھی عادل بھی یہی ہیں
چہروں سے ہماری بڑی پہچان ہے مشکل
ٹوٹے جو کبھی یار تھے وہ دل بھی یہی ہیں
ہیں خون گلابوں کا زمیں میں کہیں خاموش
حسرت بھی اس کی تھی سو حاصل بھی یہی ہیں
اس دشت سے گزرا ہے مرا ابن علی بھی
ہے موت اسی راہ میں منزل بھی یہی ہیں
ساقیؔ یہ مرا عشق مرا عشق مرا عشق
دریا بھی یہی موج بھی ساحل بھی یہی ہیں
ساقی اعجاز
ڈوگری پورہ اونتی پورہ ، پلوامہ، کشمیر
موبائل نمبر؛6005500468
وعدۂ وفا کیا تو نبھانے کو کیا بچے گا
تم ہی بتاؤ پھر بہانے کو کیا بچے گا
بولوں گا سچ تو پھر فسانے کو کیا بچے گا
اس آئینے میں پھر چھپانے کو کیا بچے گا
تم بھی خوشی سے سن رہے ہو جھوٹ کی صدائیں
سچ کہہ دیا تو پھر سنانے کو کیا بچے گا
تم پر وفا کی راہ میں سب کچھ لُٹا دیا ہے
دل بھی دیا ہے پھر گنوانے کو کیا بچے گا
ناراض ہم سے ہے منیؔ، گر بات مان لیتا
پھر روٹھنے کو اور منانے کو کیا بچے گا
ہرہیش کمار منی
بھدرواہ، جموں
وہ جو رب نے لکھا ہے مقدر تو شکایت کیسی
دردِ دل سوزِ جاں اب یہ رسم و روایت کیسی
تیری محفل میں ہر اک شخص تھا چہرہ اوڑھے
ہم نے سچ بول دیا اِس پہ ندامت کیسی
عشق جو اِک فریبِ جاں ہے دِل کی راہ میں
پھر زمانے کی بھلا کوئی حسرت کیسی
جو تماشائی بنے بیٹھے ہیں طوفانِ بلا میں
اُن سے اب شرحِ غم اور رسمِ عیادت کیسی
وہ جو ہر بار مرے زخم ہرا کرتا ہے
اُس کے لہجے میں بھلا آج مروّت کیسی
ہم تو ہنس کے پی گئے تلخیِ دوراں کا ساغر
تو پھر اِس دیدہِ نم پر یہ ملامت کیسی
صائمہؔ عمر گزری ہے چراغوں کی حفاظت کرتے
اب اندھیروں سے بھلا اپنی عداوت کیسی
صائمہ مقبول
ٹیکی پورہ لولاب، کپوارہ کشمیر