اجنبی دعاؤں کی نظم
دعا کرتے رہو
کہ وہ اجنبی آج پھر کسے رستے میں ملے
جو اکثر ملتا رہتا ہے
خوابوں کی طرح
یادوں کی طرح
اس بار بھگا کے لے جاؤں گا
دور کہیں ستاروں کی وادیوں میں
آسمان کی نیلی لاحدود وسعتوں میں
بادلوں کی کشتیوں پہ سیر کراؤں گا
بارشوں کے تھرکتے جھرنے
اس کے مرمریں بدن پہ انڈیل دوں
ادائیں تر بہ تر ہوجائیں۔۔۔۔۔۔۔۔
دعا کرتے رہو
کہ ٹہلتے ٹہلتے
ہمارے روح و بدن تھک جائیں
فضاؤں میں تحلیل ہوجائیں
دبارہ لوٹ آئیں، ایسا ممکن نہ ہو
وہیں کہیں محبت کی سنہری دھند میں کھو جائیں
امر ہوجائیں۔۔۔۔۔۔۔
دعا کرتے رہو
کہ صدیوں بعد
موسم کے پھولوں کی طرح
ہم زمین سے پھوٹ پڑیں
ہمارے انگ انگ سے تتلیوں کے شگوفے نکل آئیں
خوشبؤں کی لہکتی ہوائیں راستہ سجھائیں
جزیروں سے آرزؤں کی چہچہاہٹ اٹھے
سمندر کی تنہائیوں کی بے بسی چومیں
ہماری سانسوں کی بھیڑ میں سے راہ نکالیں
اگلے وقتوں کو دھڑکتے کینواس پہ اتاریں
کچی مٹی کے چاک پہ گھمائیں
دشت کی گرم اٹھانوں پہ سکھائیں
خود کو دبارہ تخلیق کریں
محبت کے چراغوں کی طرح کھڑکیوں پہ جلتے رہیں، بجھتے رہیں
دیر تلک۔۔۔۔۔
دعا کرتے رہو
کہ کوئی سورج نہ اگے
نہ کوئی رات ڈھلے
شبستانوں کے جنگل میں
کوئی مرغ اذاں نہ دے
کوئی پرندہ پر نہ پھڑ پھڑائے
کسی زندگی کی صدا نہ ہو
کسی موت کی آہٹ نہ ہو
کہیں کچھ بھی نہ ہو
فقط زخم رسیدہ رکی ہواؤں کے مزار پہ
آہوں سے تراشا اک کتبہ ہو
آنسؤں کی تحریر ہو
خودکلامی سے سرشار
سرگوشیاں ہوں
دو اجنبیوں کا ٹھکانہ ہے
جو کبھی ملے نہیں
بس ایک دوسرے میں تحلیل ہوئے
دعا کرتے رہو۔۔۔۔۔۔
دعا کرتے رہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!
علی شیداؔ
نجدون نیپورہ اننت ناگ، کشمیر
موبائل نمبر؛9419045087
یلغارِ علالت
مرض کوئی اچانک جب نوائے جان ہوجائے
قریب المرگ دہشت سے جری انسان ہوجائے
متعلقین کو بھی اکثر یہ تہہ گرداب رکھتا ہے
نہیں اس کا پتہ کوئی یہ کب طوفان ہوجائے
فضائے حشر سامانی یہ اکثر گھر میں لاتا ہے
نپٹنا اِس کی آفت سے کیسے آسان ہوجائے
کبھی سوچوں میں آتا ہے کوئی خیرات کرلیں ہم
یا مریضِ فرش کے حق میں کوئی قُربان ہوجائے
شکارِ مرض ہوجانا دوامی اِک حقیقت ہے
کبھی لقوہ کبھی مرگی کبھی یرقانؔ ہوجائے
جہانِ زیست میں آذرؔ حوادث ہوتے رہتے ہیں
نپٹ لے اِن سے جو خاکی وہی بلوان ہوجائے
حیات و موت کا عُشاقؔ مقرر وقت ہے اپنا
کوئی کب درجہاں آئے یا نذر شمشان ہوجائے
عُشاقؔ کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اردو (ہند)شاخ چناب ویلی کشتواڑ،جموں
موبائل نمبر؛96975244690
گرمی کی چھٹی
گرمی کی چھٹی ہے آئی
ڈھیر سا خزانہ ہے لائی
نانی نے دی ہے ملائی
عائشہ نے مزے سے کھائی
گرمی کی چھٹی ہے آئی
نیم پر نبو ری ہے آئی
آم آڑو لیچی خوبانی
دھوم مچاتی ہے نا شپا تی
آم مدیحہ ہے توڑ لائی
گرمی کی چھٹی ہے آئی
نانی نے بنائی ہے رس ملائی
مریم کہتی ہے پیاری نانی
ہمیں سننا ہے نیاری کہانی
بھارتی نے ہے خوشی منائی
گرمی کی چھٹی ہے آئی
ٹی این بھارتی
نئی دہلی، انڈیا
سبکدوشی
سبکدوشی تمہاری رہو تم کوسلامت
پڑھوں چندمیں اشعار اگر ہو اجازت
رہو شاد و خرم، تم عمر ساری
نہ تم کوکبھی ہو کسی سے شکایت
نہ دیکھو گھڑی تم ، غم کی کبھی بھی
نہ دیکھو دورِ ہجراں ، کبھی بھی
خدمتِ خلق ، جو تم نے کی ہے
تم پر خدا کی ہو نظرِ عنایت
زندگی تمہاری جو اَب بیتے آگے
کبھی کوئی تکلف، نہ تم کو لاگے
مشغول تھے تم، در عہدِ جوانی
اب جی بھرکر کے کر لو رب کی عبادت
اعانت جو کر لو تم مفلس، غریباں
اقامتِدین، او ر تکریمِ انساں
ذریعہ یہ بن جائے بخشش تمہارا
کرو گے جو رب کی تم ایسی اطاعت
بستی میںاپنا وقت تم گذارو
سماجی برائیوں کو ڈٹ کر سدھارو
رب کی طرف، تم ہو جاؤ مائل
حج کی بھی کرلو تم، حاصل سعادت
ریاضؔ ملک بدھلوی
بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی،راجوری
موبائل نمبر؛8803530035