محمد کفیل
دورِ معاصر میں نسلِ نو کو درپیش بحران ا گر ایک جملے میں سمیٹا جائے تو وہ’ معنویت کی گمشدگی ‘ہے۔ یہ بحران محض مذہبی کمزوری یا اخلاقی زوال کا نہیںبلکہ ایک گہرے نفسیاتی، فکری اور تہذیبی عدمِ توازن کا اظہاربھی ہے۔ نسلِ نو اپنی زندگی کے مقصد، سمت اور داخلی سکون سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔اس کی زندگی معلومات سے لبریز ہے مگر معنویت سے خالی، روابط سے سر شارہے مگر تعلق سے محروم اور مصروفیت سے مملوء ہے مگر سکون سے ناآشنا ۔یہی وجہ ہے کہ سہولیات، مواقع اور معلومات کی فراوانی کے باوجود ذہنی دباؤ اس نسل کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں نماز محض ایک مذہبی عبادت،دینی حکم اور شرعی فریضہ نہیںبلکہ نسلِ نو کی اِضطرابی کیفیت کا دائمی حل اور داخلی استحکام کا ایک ہمہ گیر نظام ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ نسلِ نو شدید نفسیاتی اضطراب سے گزر رہی ہے۔ عالمی سطح پر سائیکالوجکل اسٹڈیز اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ نوجوانو ں میں ڈپریشن اور انزائیٹی کی بنیادی وجہ کسی ایک حادثے یا ناکامی کے بجائے Existential Vacuumہے،یعنی زندگی کو بامعنی محسوس نہ کر پانا۔ آج نوجوان ایک ایسی برق رفتار دنیا میں ہے جہاں مقابلہ شدید ہے، توقعات بے انتہا ہیں اور شناخت مسلسل موازنہ کا شکار ہے۔ ایسے ماحول میں نماز محض ایک مذہبی فریضہ نہیں رہتی بلکہ ایک معنوی اور روحانی سہارا بن جاتی ہے، کیونکہ یہ انسان کو دن میں بار بار اس کے اصل مرکز سے جوڑتی ہے اور یاد دلاتی ہے کہ اس کی قدر و قیمت محض مادی کامیابی یا ناکامی سے متعین نہیں ہوتی۔
قرآنِ مجید نماز کو محض عبادتی ثواب پر منتج اور آخرت کی نجات سے جوڑ کر پیش نہیں کرتا،بلکہ انسانی اخلاق اور نفسیات پر اس کے اثرات کو بھی واضح کرتا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے،’’بیشک نماز بے حیائی اور بری بات سے روکتی ہے۔‘‘(سورۃ العنکبوت: 45)۔یہ آیت ا نسانی رویّے کا ایک گہرا نفسیاتی اصول بیان کرتی ہے۔ نماز انسان کے اندر ایک ایسا اخلاقی شعور پیدا کرتی ہے جو اسے فوری خواہش، وقتی لذت اور جذباتی ردِعمل کے بجائے ضبط، توقف اور خود احتسابی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو ماڈرن سائیکالوجی کے مطابق ذہنی صحت کی بنیاد بنتے ہیں۔ نوجوان جب دن میں پانچ مرتبہ خود کو ایک اعلیٰ اخلاقی مرکز کے سامنے حاضر محسوس کرتا ہے تو اس کے لیے بے سمتی، خودسپردگی اور ذہنی انتشار میں بہہ جانا آسان نہیں رہتا۔
ا لمیہ یہ ہے کہ ہم مسجد سے صرف جسمانی طور پر ہی نہیںبلکہ فکری طور پر بھی دور ہو چکے ہیں۔ مسجد اب ہمارے اذہان میں ا یک ایسی جگہ بن گئی ہے جو بزرگوں یا روایت پسند مذہبی طبقے کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس دوری کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ نماز کونسلِ نوکے سامنے عموماً محض ایک مذہبی فریضہ، اُخروی ثوب و عذاب کے بیانیے میں پیش کیا گیا، جبکہ نوجوان کے اصل سوالات شناخت، ذہنی اِضطراب اورمقصد سے متعلق تھے۔ نتیجتاً نماز اس کے لیے ایک عبادتی علامت بن گئی، سہارا نہیں۔ حالانکہ عہدِ نبوی اور اسلامی تاریخ میں مسجد محض عبادت گاہ نہیں بلکہ شخصیت سازی، نظم وضبط، عملی مساوات،فکری رہنمائی اور اخلاقی تربیت کا مرکز رہی ہے،وہ جگہ جہاں فرد خود کو تنہا نہیںبلکہ ایک ہم کلمہ جماعت کا حصہ محسوس کرتا ہے۔
نماز کی ایک عظیم عصری معنویت اس کا ڈسپلن ہے۔ پانچ وقت کی نماز، وقت کی پابندی، جسمانی نظم، ذہنی یکسوئی اور روحانی توجہ کو ایک مربوط نظام میں ڈھال دیتی ہے۔ جدید نفسیاتی تحقیقات اس امر پر متفق ہیں کہ بے ترتیب معمولات، بِکھر ا ہوا شیڈول اور وقت پر اختیار نہ ہونا اضطراب میں اضافہ کرتا ہے۔ نماز اس بکھراؤ کے مقابل ایک قدرتی نظم فراہم کرتی ہے، جو انسان کو دن میں بار بار رُ ک کر سانس لینے، غور و فکر کرنے ا ور خود کو ترتیب دینے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ وقفہ محض جسمانی نہیں بلکہ ذہنی اور روحانی ہوتا ہےاور یہ و قفہ نوجوان کے منتشر شعور کو سمیٹنے میں معاون ہوتا ہے۔
نماز انسان کو مقصد عطا کرتی ہے،ایسا مقصد جو وقتی کامیابی، سوشل میڈیا کی توثیق یا مادی معیار سے ماورا ہوتا ہے۔ قرآن دل کے سکون کو بیرونی اسباب سے نہیں بلکہ یادِ الٰہی سے جوڑتا ہے،’’سُن لو! اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔‘‘(سورۃ الرعد: 28)یہ سکون کسی وقتی خوشی یا جذباتی سرشاری کا نام نہیں بلکہ ایک گہری داخلی استقامت ہے،وہ کیفیت جو انسان کو ناکامی، تنہائی اور دباؤ کے باوجود ٹوٹنے نہیں دیتی۔ نماز اسی ذکر کی عملی شکل ہے، جو انسان کو یہ یقین عطا کرتی ہے کہ اس کی زندگی محض اتفاقات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک بامقصد سفر ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت میں نماز کا یہی وجودی اور نفسیاتی پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی معاملے میں پریشانی لاحق ہوتی تو آپ ؐنماز کی طرف متوجہ ہوتے۔ حضرت حذیفہؓ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی اہم یا دشوار معاملہ پیش آتا تو آپؐ نماز کی طرف متوجہ ہو تے تھے۔ ( سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: 1319) اسی طرح آپؐ کا یہ ارشاد نماز کے بارے میں ایک انقلابی تصور پیش کرتا ہے،’’ اے بلال! ہمیں نماز کے ذریعے راحت پہنچاؤ۔‘‘(سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: 4985)یہ الفاظ نماز کو سکون اور راحت کے سرچشمے کے طور پر متعارف کراتے ہیں۔ یہ وہ زاویہ ہے جو آج کے اضطراب زدہ نوجوان کے لیے سب سے زیادہ معنویت رکھتا ہے۔
نماز نوجوان کو محض فرد نہیں بلکہ ذمہ دار انسان بناتی ہے، کیونکہ وہ اسے جواب دہی کے احساس سے جوڑتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے،’’ روزِ قیامت بند ہ سے سب سے پہلے جس عمل کا محاسبہ کیا جائے گا، وہ نماز ہوگی۔‘‘(سنن الترمذی، حدیث نمبر: 413)یہ احساسِ جواب دہی انسان کو خود احتسابی سکھاتا ہے اور یہی خود احتسابی اخلاقی پختگی اور ذہنی توازن کی بنیاد ہے۔ یہ حدیث اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ نماز انسان کے پورے طرزِ حیات کا معیار ہے۔ جو شخص نماز کے ذریعے خود کو جواب دہ سمجھتا ہے، اس کے فیصلے محض خواہش یا فائدے کی بنیاد پر نہیں رہتے۔نماز انسان کو یہ یقین دلاتی ہے کہ زندگی محض بقا کی جدوجہد نہیں بلکہ ایک اخلاقی امتحان ہے۔ ہر نماز ایک نئی ابتدا ہے،اپنے نفس کا محاسبہ، اپنی کمزوریوں کا اعتراف اور اپنے ربّ سے از سرِ نو رابطے کا موقع۔ یہی رابطہ انسان کو طاقت دیتاہے، سمت دکھاتاہے اور اس کی زندگی کو ایک اعلیٰ معنویت عطا کرتاہے۔
نماز کو محض ایک شرعی فریضہ کہہ کر محدود کرنا اس کی معنوی وسعت کو کم کرنا ہے۔ نماز نوجوان کے لیے ایک شناخت ہے،ایسی شناخت جو اسے اس کی اصل، اس کے مقصد اور اس کی حدود سے روشناس کراتی ہے۔ اگر آج کا نوجوان مسجد سے دور ہے تو اس کا حل صرف شکایت نہیں بلکہ نماز کو اس کی زبان، اس کے سوالات اور اس کے نفسیاتی حل کے تناظر میں دوبارہ پیش کرنا ہے۔اس عہد میں نماز کی دعوت دراصل نوجوان کو خود اس سے ملانے کی دعوت ہے۔ ایک ایسی ملاقات جہاں وہ شور سے نکل کر سکون، بے سمتی سے نکل کر مقصداور انتشار سے نکل کر نظم کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔ یہی نماز کی اصل روح ہے اور یہی اس دور میں نوجوان کی سب سے بڑی ضرورت۔
8299892440
[email protected]