شوکت علی تانترے
ماہِ رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں کا مہینہ ہے۔ یہ صبر، تقویٰ اور عبادت کا درس دیتا ہے۔ اس مبارک مہینے میں ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال کو بہتر بنائے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ خاص طور پر خواتین کا کردار اس مہینے میں بہت اہم ہوتا ہے، کیونکہ عورت گھر کی زینت اور خاندان کی بنیاد ہوتی ہے۔
عورت کو اسلام میں نہایت عزت اور وقار عطا کیا گیا ہے۔ قرآنِ کریم میں عورت کی پاکیزگی، حیا اور وقار پر زور دیا گیا ہے۔ عورت اگر اپنے گھر کی ذمہ داریوں کو سمجھ کر ادا کرے تو وہ نہ صرف اپنے گھر کو جنت کا نمونہ بنا سکتی ہے بلکہ پورے معاشرے کی اصلاح میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل رمضان کے بابرکت مہینے میں بھی بعض خواتین کا زیادہ وقت بازاروں میں گزرتا ہے۔ خریداری کی ضرورت اپنی جگہ درست ہے، مگر حد سے زیادہ بازاروں کی رونق بن جانا اس مہینے کی روح کے خلاف ہے۔ رمضان کا مقصد عبادت، قرآن کی تلاوت، ذکر و اذکار اور صبر و برداشت کو فروغ دینا ہے، نہ کہ غیر ضروری مصروفیات میں وقت ضائع کرنا۔
اسلام عورت کو حیا اور پردے کی تعلیم دیتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت کی بہترین جگہ اس کا گھر ہے جہاں وہ سکون اور وقار کے ساتھ اپنی زندگی گزارتی ہے اور اپنے خاندان کی تربیت کرتی ہے۔ اگر خواتین رمضان کے مہینے میں عبادت، دعا اور نیکی کے کاموں میں زیادہ وقت لگائیں تو اس کا اثر پورے گھر اور معاشرے پر مثبت پڑتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ خواتین اس مقدس مہینے کی قدر کریں، غیر ضروری بازاروں کی چہل پہل سے بچیں اور اپنے گھروں کو عبادت، محبت اور سکون کا گہوارہ بنائیں۔ جب عورت اپنے مقام اور ذمہ داری کو سمجھتی ہے تو وہ نہ صرف اپنے گھر بلکہ پورے معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو رمضان المبارک کی صحیح قدر کرنے اور اس کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
رابطہ۔9797434349
[email protected]