انسان کی سعادت مندی کی علامت یہ ہے کہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی قدر کرے،اورہر چھوٹی بڑی نعمت کے تئیں دل ہمیشہ جذبہ شکر سے معموررہے اور بدبختی کی پہچان یہ ہے کہ نعمت خداوندی کی ناقدری یا استخفاف کرے،کفران نعمت کی بہت ساری صورتوں میں سے ایک صورت یہ ہے کہ اس نعمت کے بارے میں کبھی دل میں یہ خیال ہی نہ آئے کہ اللہ کی دی ہوئی ایک نعمت ہے اور دوسری یہ کہ اس نعمت کو منعم حقیقی کی معصیت و سرکشی میں یا کم از کم اس نعمت کی غرض و غایت کے خلاف استعمال کی جائے۔ایمان کے بعد سب سے بڑی نعمت قرآن کا علم ہے،اس لئے کہ علم اللہ کی صفت ہے اور علم ہی کے ذریعہ اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے جو اصل مقصد تخلیق ہے اس کی ناقدری یہ ہے کہ اس علم کو دنیاوی مال و متاع سے کم تر گردانے، اور دنیاوی جاہ و منصب کو اس سے بہتر سمجھے ، اور سب سے بڑ ا المیہ یہ ہے کہ اس علم کے بعد بھی معیشت اور روزی روٹی کا مسئلہ اہل علم کو پریشان کئے رکھے اور دنیاوی جاہ و منصب انہیں ترسائے رکھے، علامہ قرطبی نے درمنثور کے درمنثور کے حوالے سے اس سلسلے میں ایک چونکا دینے والی حدیث نقل کی ہے :’’ حضرت انسؓسے منقول ہے کہ نبی پاکؐ نے فرمایا کہ جس کو اللہ نے اسلام کی ہدایت دی اور قرآن کاعلم دیا پھر بھی فقرو فاقہ کا خو ف انہیںدامن گیر رہاتو اللہ تعالیٰ اس کی پیشانی پرقیامت تک کے لئے فقروفاقہ لکھ دیتا ہے،پھر آپؐ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس کا ترجمہ یہ ہے’’ اے محمد ؐآپ کہہ دیجئے کہ لوگوں کو خدا کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہئے وہ اس (دنیا) سے بدرجہا بہتر ہے جس کو جمع کررہے ہیں(کیونکہ دنیا کا نفع قلیل اور فانی ہے اور قرآن کا نفع کثیر اور باقی )۔آپ ؐ نے جس آیت کی تلاوت فرمائی ہے اس میں دو چیزوں کو فرحت و مسرت کا سامان قرار دیاہے، ایک ’فضل‘ دوسرے ’رحمت ‘ ان دونوں سے مراد یہاں کیا ہے ؟ ۔اس بارے میں ایک حدیث حضرت انس ؓکی روایت سے یہ منقول ہے کہ رسول اللہ ؐنے فرمایا کہ اللہ کے فضل سے مراد قرآن ہے اور رحمت سے مراد یہ ہے کہ تم کو قرآن پڑھنے کا اور اس پر عمل کرنے کی توفیق بخشی(روح المعانی) یہی مضمون حضرت براء بن عازب ، ابو سعید خدری اور حضرت ابن عباس ؓسے بھی منقول ہے، پس اس آیت میںاللہ کی طرف سے صاحب قرآن کو نعمت قرآن پر خوش ہونے کا حکم دیاجارہا ہے، کہ تمہارے پاس جو دولت قرآن اور اسلام ہے وہ دنیا و مافیھا سے بہتر ہے اور یہی اصلی خوشی کی چیز ہے، اس حکم خداوندی کے تناظر میں ہر صاحب علم کو اپنی فرحت و مسرت کا معیار طے کرناچاہیے اور یہاں یہ احتساب بھی قابل لحاظ ہوگا کہ کتنے لوگ ہیں جو اپنے دولت علم پر خوش ہے؟ اور کتنے ایسے ہیں جن کی نظر حرص و طمع دنیا کے چند روزہ مال و متاع کی طرف کبھی نہیں اْٹھتی، علم کے بعد غنائی نفسی اور کفایت شعاری جس کو مل گئی اس کو یہ پرسکون زندگی گذارنے کا گر مل گیا۔
اورنعمت الٰہی کے بارے میں ضابطہ خداوندی کو بھی ملحوظ رکھنا چاہئے کہ عطائے نعمت رحمت خداوندی کی بنا پر اور بقائے نعمت نیک اعمال کی وجہ سے ہوتی ہے ۔چنانچہ ارشاد ہے : ’’ اللہ تعالیٰ جو نعمت کسی قوم کو عطا فرماتے ہیں اس کو اس وقت تک بدلتے نہیںجب تک یہ لوگ خودہی اپنے حالات اور اعمال کو نہ بدل دیں‘‘۔(انفال ۳۵) اس آیت سے پتہ چلا کہ حق تعالیٰ کی یہ نعمت و رحمت تو اس کے رب العالمین اور رحمان و رحیم ہونے کے نتیجہ میں خودبخود ہے، ہاں اس نعمت و رحمت کے قائم اور باقی رہنے کا ایک ضابطہ اس آیت میں یہ بیان کیاگیا کہ جس قوم کو اللہ تعالیٰ کوئی نعمت دیتے ہیں، اس سے اس وقت تک واپس نہیں لیتے جب تک کہ وہ اپنے حالات اور اعمال کو بدل کر خود ہی اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دیں۔
قرآن کا وارث اللہ تعالیٰ نے جس امت کو بنایا وہ تین حصوں میں بٹ گئیں، چنانچہ ارشاد ہے :’’ پھر ہم نے یہ کتاب ان لوگوں کے ہاتھ میں بھی پہنچائی جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا پھر ان میں سے بعض تو اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں، اور بعض ان میں سے متوسط ہیں، اور بعض ان میں سے اللہ کی توفیق سے نیکیوںمیںترقی کئے چلے جاتے ہیںیہ بہت ہی بڑا فضل ہے‘‘(فاطر۲۳) ۔اب ہر ایک ذرا اپنے طور پر سوچے کہ کون کس خانے میں جاتے ہیں ، ظالم میں ؟ یا مقتصد میں؟ یا سابق میں؟ اگر سابق میںہے تو وہ قابل مبارک باد ہے اور اگر خدا نخواستہ ظالم میںہے تو مقام افسوس ہے، اس کو ترقی کرکے فوری طور پر مقتصد کے خانے میں اپنی جگہ بنانی چاہئے اور اگر مقتصد کے زمرے میںہے تو یہ نہ تو قابل افسوس اور نہ ہی لائق ستائش بلکہ دونوں کے بیچ میںہے ، مگر اس کو بھی ہمہ وقت ترقی کی فکر ہونی چاہئے ورنہ نفس و شیطان کہیں نیچے نہ گرادے۔